مریم نواز کی زیر صدارت اجلاس، پوٹھوہار میں 800 منی ڈیمز بنانے کی منظوری
صوبے بھر میں 110 منی ڈیمز بن چکے ،اٹک، تلہ گنگ، گوجر خان،راولپنڈی میں نئے ڈیمز کے تصویری شواہد پیش سی سی ڈی کے قیام کے بعد جرائم میں واضح کمی آئی:وزیراعلیٰ ، توہینِ رسالت کی مانیٹرنگ کیلئے خصوصی سیل قائم
لاہور،وہاڑی (نیوزایجنسیاں خبرنگار، نمائندہ خصوصی )وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیرِ صدارت ٹرانسفارمیشن آف ایگریکلچر اور واٹر مینجمنٹ کے حوالے سے اہم اجلاس ہوا جس میں پانی کی بچت اور گراؤنڈ واٹر مینجمنٹ پر رپورٹ کا جائزہ لیا گیا۔وزیر اعلیٰ کے پانی کی حفاظت کے ویژن کے تحت صوبہ بھر میں 110 منی ڈیمز بن گئے ۔ اجلاس میں وزیرِاعلیٰ نے بارش کے پانی کو محفوظ بنانے کے لیے آن گراؤنڈ واٹر باڈیز کا پلان طلب کر لیا اور پوٹھوہار کے بارانی پانی کو ذخیرہ کرنے کیلئے 3 سالوں میں 800 مزید منی ڈیمز بنانے کی منظوری دی ۔ وزیراعلیٰ نے زیرِ زمین پانی کی مینجمنٹ کے لیے موجودہ لیگل فریم ورک کو مزید فعال اور بہتر بنانے کی ہدایت کی۔
اجلاس میں واٹر کنزرویشن اور پانی کی موثر مانیٹرنگ کے لیے خصوصی ایچ آر (HR)سٹاف تعینات کرنے کابھی فیصلہ کیا گیا۔ مریم نواز شریف نے محکمہ زراعت، آبپاشی، ہاؤسنگ اور لوکل گورنمنٹ کو پانی کی بچت کے لیے یکجا ہو کر کام کرنے کا حکم دیا۔ اس موقع پر اٹک، تلہ گنگ، گوجر خان اور راولپنڈی میں نئے تعمیر کردہ منی ڈیمز کے تصویری شواہد بھی پیش کیے گئے ۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ سمجھدار قوم وہی ہوتی ہے جو پانی کے ایک ایک قطرے کو محفوظ بناتی ہے ۔ اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب میں ترسیل کے دوران 30 فیصد اور استعمال میں 25 فیصد پانی کے ضیاع کو روکنے کے لیے جامع حکمتِ عملی تیار کر لی گئی ہے۔
پانی کی 20 فیصد بچت کے لیے 7 ہزار کلومیٹر طویل 2,600 واٹر کورسز کی پختگی کا کام مکمل ہوچکا ہے ۔ اگلے 3 سالوں میں 11,500 کلومیٹر طویل مزید 4,500 واٹر کورسز کی پختگی اور اصلاح کی جائے گی۔ اگلے 3 سالوں میں 30 ہزار ایکڑ مزید اراضی کو ڈرپ اور سپرنکلز آبپاشی کے جدید نظام پر منتقل کیا جائے گا۔ گوجرانوالہ، گجرات اور لاہور ڈویژن میں 100 ریچارج ویلز فعال جبکہ 300 مزید تکمیل کے قریب ہیں۔دریں اثناامن و امان سے متعلق اجلاس کی صدارت کے دوران وزیراعلیٰ مریم نواز نے ریپ، بچوں سے زیادتی اور بدعنوانی میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے انکے مکمل خاتمے کیلئے فول پروف پلان طلب کرلیا اور کہاکہ سی سی ڈی کے قیام کے بعد صوبے میں جرائم کی شرح میں واضح کمی آئی ہے۔
خواتین اور بچے میری ریڈ لائن ہیں،خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم پر زیرو ٹالرنس اپنائیں۔ موبائل پولیس سٹیشنز کو شہریوں کی دہلیز تک پہنچانا چاہیے ، جو شہری تھانے نہیں آ سکتا، پولیس خود اس کے گھر پہنچ کر داد رسی کرے ، وزیراعلیٰ نے لاہور میں مزید 2,000 سے زائد نئے سیف سٹی کیمرے نصب کرنے کی منظوری دی ۔پنجاب کے 43 اضلاع میں سیف سٹی پراجیکٹ مکمل ہوچکے ہیں جن کاباقاعدہ افتتاح جلدکر دیا جائیگا۔ اس موقع پر سیف سٹی پراجیکٹ کی مزید 98 تحصیلوں اور کچے کے علاقوں تک توسیع کا بھی فیصلہ کیا گیاہے ۔ سی ٹی ڈی میں توہینِ رسالت کی مانیٹرنگ کے لیے خصوصی سیل قائم کر دیا گیاہے۔
اجلاس میں سائبر کرائم سے نمٹنے کے لیے خصوصی سائبر یونٹ کے قیام کا فیصلہ کیا گیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ستمبر کے پہلے ہفتے تک پولیس اہلکاروں کے لیے 29 ہزار باڈی کیمرے فراہم کر دئیے جائیں گے ۔ آئمہ کرام کی رجسٹریشن کا عمل مکمل ہوچکا اور 72 ہزار سے زائد آئمہ کرام کے لیے 10 ارب روپے جاری کر دیئے گئے ہیں۔ صوبے بھر سے اب تک 1 لاکھ 39 ہزار سے زائد غیر قانونی مقیم افراد کی واپسی کا عمل مکمل کیا گیا۔ دوسری طرف وزیراعلیٰ نے ویڈیو لنک کے ذریعے وہاڑی میں پہلی گرین الیکٹرک بس سروس کا افتتاح کر دیا، خورشید انور سٹیڈیم میں افتتاحی تقریب میں ڈپٹی کمشنر ، رکن قومی اسمبلی تہمینہ دولتانہ، ارکان پنجاب اسمبلی میاں ثاقب خورشید، نعیم خان بھابھہ، ملک نوشیر انجم لنگڑیال، چودھری محمد یوسف اوردیگر نے شرکت کی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments