اچانک اشتعال، منصوبہ بندی کے بغیر قتل پر دفعہ 302 سی کا اطلاق ہوسکتا : سپریم کورٹ

اچانک اشتعال، منصوبہ بندی کے بغیر  قتل پر دفعہ 302 سی کا اطلاق ہوسکتا : سپریم کورٹ

والدہ کیساتھ جھگڑے پر ملزم اچانک واردات کا مرتکب ہوا، قتل عمد کی 302بی اطلاق والی صورت نہیں، عمر قید 14سال قید میں تبدیل شنوائی کا حق دینا انصاف کے بنیادی تقاضوں میں شامل، ٹریبونل نے اپیلیں مسترد کرنے کے باوجود غیر قانونی احکامات دیئے ، فیصلہ کالعدم قانونی کارروائی میں غیر ضروری تاخیر، غفلت و عدالتی عمل کے ناجائز استعمال پر مساوی انصاف نہیں دیا جا سکتا، فیصلے برقرار، اپیل مسترد

اسلام آباد (کورٹ رپورٹر،اے پی پی)سپریم کورٹ نے اہم قانونی اصول طے کرتے ہوئے قرار دیا کہ اگر قتل کا واقعہ کسی طویل دشمنی، پیشگی منصوبہ بندی یا ثابت شدہ محرک کے بغیر اچانک اشتعال کی کیفیت میں پیش آئے تو مقدمے میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302(بی)کے بجائے دفعہ 302(سی) کا اطلاق ہو سکتا ہے ۔ عدالت نے نوعمر ملزم ناصر حسین کی عمر قید کی سزا 14 سال قید میں تبدیل کرتے ہوئے جیل پٹیشن اپیل میں بدل کر جزوی طور پر منظور کر لی۔ جسٹس ملک شہزاد احمد خان کے تحریر کردہ فیصلے میں کہا گیا کہ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ ملزم نابالغ تھا اور اپنی والدہ کو مقتول کے ساتھ جھگڑتے دیکھ کر اچانک اشتعال میں آیا اور اسی لمحے واردات کا ارتکاب کیا، یہ قتل عمد کی وہ صورت نہیں جس پر دفعہ 302(بی) کا اطلاق ہو۔

علاوہ ازیں جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے خیبرپختونخوا میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز اپیلیٹ ٹریبونل کے فیصلے کے خلاف دائر اپیلیں منظور کر کے قرار دیا کہ کوئی بھی عدالت یا ٹریبونل اپنے قانونی دائرہ اختیار سے تجاوز کرتے ہوئے ازخود (سوموٹو) کارروائی یا درخواست میں شامل نہ ہونے والے معاملات پر فیصلے جاری نہیں کر سکتا، کسی شخص کے خلاف حکم جاری کرنے سے قبل اسے سنے جانے کا حق دینا انصاف کے بنیادی تقاضوں میں شامل ہے ۔ عدالت نے اپیلیٹ ٹریبونل کا 22 مئی 2025 کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے ہدایت کی کہ ڈاکٹر یاسر رحمان اور ڈاکٹر نسرین کشور ترقی کیلئے نئی درخواست دیں، متعلقہ ادارہ قانون کے مطابق فیصلہ کرے ۔

مزید برآں سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ قانونی کارروائی میں غیر ضروری تاخیر، غفلت اور عدالتی عمل کے ناجائز استعمال پر کسی فریق کو مساوی انصاف نہیں دیا جا سکتا، تاخیر معاف کرانے کیلئے ہر دن کی معقول، تسلی بخش اور نیک نیتی پر مبنی وضاحت ضروری ہے ۔ تحریری فیصلے میں لاہور ہائیکورٹ اور ماتحت عدالتوں کے فیصلے برقرار رکھتے ہوئے سول اپیل مسترد کر دی گئی۔ عدالت نے قرار دیا کہ اپیل کنندگان مقررہ مدت میں اپیل دائر کرنے میں ناکام رہے اور تاخیر کی قابلِ قبول وجہ بھی پیش نہ کر سکے ۔ سپریم کورٹ نے اس امر پر تشویش ظاہر کی کہ رینٹ کنٹرولر کے مختصر دائرہ اختیار کا مقدمہ تقریباً تین دہائیوں تک درخواستوں، اپیلوں اور نظر ثانی کی کارروائیوں میں الجھا رہا جس کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہئے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...