آبادی چارگنا بڑھ گئی اور وہی چار صوبے ہیں اچھی حکمرانی کیلئے ری سیٹ کی ضرورت ہے تو اسے ہوجانا چاہیے:مسائل حل نہیں ہورہے،گڈگورننس کیلئے کچھ کرنا پڑیگا:ترجمان پاک فوج

آبادی  چارگنا  بڑھ  گئی  اور  وہی  چار  صوبے  ہیں  اچھی  حکمرانی  کیلئے  ری  سیٹ  کی  ضرورت  ہے  تو  اسے  ہوجانا  چاہیے:مسائل  حل  نہیں  ہورہے،گڈگورننس  کیلئے  کچھ  کرنا  پڑیگا:ترجمان  پاک  فوج

عوام کی رائے لی جانی چاہیے،وہ گورننس سے مطمئن ہیں تو تھیک،نہیں تو آئین کے مطابق فیصلہ کریں،دہشتگردوں کو ہتھیار ڈالنا ہونگے یا ہم انھیں ختم کردینگے،ایلیٹ کلاس اور سردار بلوچستان کی ترقی کے مخالف مولانافضل الرحمٰن کا شہدا بارے بیان ناقابل فہم،یہ بیانیہ ہندوستان چلانا ہے،محسن نقوی کے بیان سے مایوسی نہیں پھیلے گی،نوجوان کہیں گے کہ دیر آئے،درست آئے،ریاست ہے تو سیاست ہے،نام ہے،پہچان ہے:پریس بریفنگ 1973سے آج تک اسمبلیوں میں وہی خاندان،جاگیردار،نوابزدے اور پارٹیاں نظر آتی ہیں،جیت جائیں تو جمہوریت،ہار جائیں تو آمریت،بھارت،افغانستان کا ایجنڈا د ہشتگردی:ڈی جی آئی ایس پی آرلیفٹیننٹ جنرل احمد شریف

راولپنڈی(دنیا رپورٹ، مانیٹرنگ ڈیسک) ترجمان پاک فوج لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا پاکستان کی سکیورٹی کے لیے گڈ گورننس اہم ہے ،مسائل حل نہیں ہو رہے ، گڈ گورننس کیلئے کچھ کرنا پڑے گا،1972میں ہماری آبادی 7، 8 کروڑ تھی، آج آبادی 25 کروڑ ہے ،آبادی چار گنا بڑھ گئی اور وہی چار صوبے ہیں تو ہمیں سوچنا پڑے گا،اچھی حکمرانی کے بغیر معاملات حل نہیں ہو سکتے ، اگر اچھی حکمرانی کیلئے انتظامی ری سیٹ کی ضرورت ہے تو پھر اسے ہو جانا چاہیے ،آئین کے مطابق مسائل کیسے حل کیے جاسکتے ہیں، عوام کی رائے لی جانی چاہیے ،عوام گورننس سے مطمئن ہیں تو ٹھیک، مطمئن نہیں تو آئین کے مطابق فیصلہ کریں ۔ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے ان خیالات کا اظہار انسدادِ دہشت گردی اور ملکی سکیورٹی کی صورتحال پر پریس بریفنگ کے دوران کیا۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے گڈ گورننس اور نئے صوبوں سے متعلق حالیہ بیان پر سوالات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا وزیر داخلہ نے اس معاملے پر اپنی ذاتی رائے کا اظہار کیا ہے اور وہ اس پر مزید تبصرہ نہیں کریں گے تاہم انہوں نے کہا پاکستان کا نوجوان باشعور ہے ، محسن نقوی کے بیان سے نوجوانوں میں مایوسی نہیں پھیلے گی، بلکہ وہ کہیں گے کہ دیرآئے درست  آئے ،ریاست ہے تو سیاست ہے ، نام ہے ، پہچان ہے ۔

انہوں نے کہا گڈ گورننس پاکستان کیلئے ایک انتہائی اہم اور سنجیدہ موضوع ہے اور ملک کو درپیش متعدد مسائل کا حل مو ثر حکمرانی اور بہتر انتظامی نظام سے جڑا ہوا ہے ۔ گورننس کا عمل جمود کا شکار نہیں رہ سکتا کیونکہ وقت کے ساتھ ٹیکنالوجی، آبادی اور ریاستی ضروریات میں تبدیلی آتی رہتی ہے ۔انہوں نے کہا 1973سے آج تک اسمبلیوں میں وہی خاندان، جاگیردار، نوابزادے اور پارٹیاں نظر آتی ہیں، اگر وہ جیت جائیں تو جمہوریت، ہار جائیں تو آمریت، ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ عوام کی رائے لی جانی چاہیے ، وہ گورننس سے مطمئن ہیں تو ٹھیک ، نہیں تو آئین کے مطابق فیصلہ کر یں ،عوام کی خواہشات ہی سب سے اہم ہیں اور گڈ گورننس یا انتظامی اصلاحات سے متعلق کوئی بھی فیصلہ عوام اور ان کے منتخب نمائندوں کی رائے کے مطابق ہونا چاہیے ۔ ان کے مطابق پاکستان کے تمام سیاسی اور انتظامی معاملات کا راستہ آئین، قانون اور جمہوری عمل سے ہو کر گزرتا ہے ۔ نیشنل ایکشن پلان کے 14 نکات پر حکومت اور اپوزیشن سمیت تمام سیاسی قوتوں کے درمیان اتفاق رائے موجود ہے ، جبکہ انسداد دہشت گردی، مدارس سے متعلق اصلاحات اور افغان پناہ گزینوں کی واپسی جیسے معاملات بھی بہتر حکمرانی کا حصہ ہیں۔تاہم گڈ گورننس کیسے لانی ہے ، کون سی اصلاحات کرنی ہیں اور کس سمت جانا ہے ، یہ فیصلہ سیاسی جماعتوں اور سیاست دانوں نے کرنا ہے ۔انہوں نے کہا پاکستان کو بہتر انتظامی نظام کی جانب بڑھنا ہوگا اور اس حوالے سے ضروری اصلاحات پر غور کیا جانا چاہیے ۔

انھوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ 1972 میں ملک کی آبادی تقریباً چار سے پانچ کروڑ تھی اور چار صوبے تھے ، جبکہ آج آبادی کئی گنا بڑھ چکی ہے ، اس لیے یہ بحث جائز ہے کہ آیا موجودہ انتظامی ڈھانچہ گڈ گورننس کی ضروریات پوری کر رہا ہے یا نہیں۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام یا دیگر انتظامی تبدیلیوں سے متعلق فیصلے سیاسی جماعتوں، منتخب قیادت اور جمہوری عمل کے ذریعے ہونے چاہئیں،یہ طے کرنا سیاست دانوں کی ذمہ داری ہے کہ ملک میں بہتر حکمرانی کے لیے کس نوعیت کی تبدیلیاں درکار ہیں۔مولانا فضل الرحمٰن کے بیان سے متعلق سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ایسے بیانات حقائق کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا شہیدوں کے بارے میں جو مولانا نے بات کی وہ ناقابل فہم ہے ، آپ کو لگتا ہے وہ یہ سب پیسے کیلئے کرتا ہے ؟ یہ سمجھنا مشکل ہے کہ ایسا کیوں کہا گیا،یہ بیانیہ ہندوستان چلانا چاہتا ہے ، شہادت اور شہید پاکستان کی افواج کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، فلسفہ شہادت کے پیچھے آپ کی افواج اور پولیس کھڑی ہے ، جو آپ کے بہادر بچے وطن کا دفاع کرتے شہید ہوئے وہ دلیر ہیں، جب نیوی کا سیلر سمندر میں ڈائیو کرتا ہے تو اپنی زندگی کی قربانی دے چکا ہوتا ہے ۔ کارگل سمیت مختلف محاذوں پر جانیں قربان کرنے والے فوجی جوانوں کی قربانیوں کو سیاسی بحث کا حصہ بنانا مناسب نہیں۔ بعض اوقات ایسی گفتگو غیر ارادی طور پر انڈین بیانیے کو تقویت دیتی ہے ، جس سے پاکستان کے مو قف اور سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کے بارے میں ابہام پیدا ہو سکتا ہے ۔

فوجی جوانوں اور عوام کو کنفیوژن میں ڈالنے کے بجائے قومی معاملات پر واضح اور ذمہ دارانہ موقف اختیار کیا جانا چاہیے ۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے ملک کے دفاع اور قومی سلامتی کیلئے بے شمار قربانیاں دی ہیں اور ان قربانیوں کو ان کے درست تناظر میں دیکھا جانا چاہیے ۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا دہشت گردوں سے بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں، انہیں ریاست کے سامنے ہتھیار ڈالنے ہوں گے یا پھر ہم انہیں ختم کر دیں گے ،ریاست دہشت گرد گروہوں کے ساتھ مذاکرات کی پالیسی نہیں رکھتی اور قانون کے مطابق کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی، شدت پسندوں کے پاس ہتھیار ڈالنے اور قانون کے سامنے سرنڈر کرنے کا اختیار موجود ہے ، بصورت دیگر سکیورٹی فورسز ان کے خلاف کارروائی جاری رکھیں گی۔انھوں نے کہا کہ ملک بھر میں انسدادِ دہشت گردی کے لیے مجموعی طور پر 40 ہزار 348 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے جا چکے ہیں جس میں سکیورٹی فورسز نے مجموعی طور پر 2ہزار 84 مصدقہ دہشت گردوں کو ہلاک کیا،گزشتہ پانچ برسوں کے دوران بلوچستان میں 31 ہزار 80جبکہ خیبر پختونخوا میں 7ہزار 177 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے ۔ انھوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز روزانہ کی بنیاد پر کارروائیاں کر رہی ہیں اور دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے مختلف علاقوں میں آپریشنز کا سلسلہ جاری ہے ۔ رواں سال دھماکوں کے 28 واقعات ہوئے جن میں زیادہ تر افغانی شامل ہیں، جبکہ ٹانک اور کراچی میں پیش آنے والے واقعات میں بھی افغانی باشندے ملوث تھے ۔

افغان طالبان رجیم کا ایک ہی کام ہے یہ دہشت گردی ، بطور کاروبار کرتے ہیں۔ افغانستان کی طالبان رجیم دہشت گردوں کی معاونت کر رہی ہے ، افغانستان کی ڈپلومیسی بھی دہشتگردی کے اردگردہے ، دہشتگردوں اوران کے سہولتکاروں کو 100 گنا تکلیف دیں گے ، کہ قیامت تک یادرکھیں۔ رواں سال اب تک دہشت گردی سے متعلق واقعات میں 819 افراد شہید ہو چکے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے دوران فوج کے 303 اہلکار جبکہ 322 شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔ فورسز نے اوسطاً روزانہ 194 آپریشنز کیے جبکہ ہر روز تقریباً 10 دہشت گرد مارے گئے ۔انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں مسلسل پیش رفت کر رہی ہیں اور انھیں جہاں بھی موقع ملتا ہے نشانہ بنایا جا رہا ہے ، ہم ان کو باہر نکل کر مار ر ہے ہیں، ہم ان کا شکار کر رہے ہیں،اسی دباؤ کے نتیجے میں فتنہ الخوارج، فتنہ الہندوستان اور ان کے مبینہ بھارتی ہینڈلرز اب سافٹ ٹارگٹس کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ یہ بلوچستان کی بچیوں کے ساتھ ایک واردات ڈال رہے ہیں۔انھوں نے کہا رواں سال اب تک 178 شہری شہید ہو چکے ہیں۔ شدت پسندوں نے 24 مقامات پر پلوں اور سڑکوں کو نقصان پہنچایا جبکہ 60 مقامات پر آگ لگانے کے واقعات بھی پیش آئے ۔

یہ کارروائیاں ان عناصر کے اس ایجنڈے کی عکاسی کرتی ہیں جو ترقیاتی عمل کو متاثر کرنا چاہتے ہیں اور عوام میں احساسِ محرومی کو ہوا دیتے ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ 26 لاکھ افغان مہاجرین واپس بھجوائے جاچکے ہیں، آنا ہے تو ویزا لیں، حکومت سے درخواست کریں، ریکارڈ پر جائیں اور واپس آئیں، ابھی تک ہم 25 ارب کے قریب کا سمگلڈ سامان پکڑ چکے ہیں، ہارڈ سٹیٹ میں سمگلرز کی جگہ صرف جیل میں ہے ، ساڑھے 4 ہزار بندے پکڑے جو ہیومین سمگلنگ میں ملوث تھے ۔بلوچستان کی سکیورٹی صورتحال کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ صوبے کے حالات سے متعلق بعض اوقات جان بوجھ کر منفی تاثر پیش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ بلوچستان میں حالات خراب ہیں، بلوچستان کے حالات خراب کرنے میں مخصوص عناصر ملوث ہیں، معرکہ حق میں دشمن کی حکمت عملی ناکام ہونے پر بلوچستان میں نظریں جمائی گئیں۔انہوں نے کہا آج ہمیں بلوچستان کے بنیادی مسئلے پر پہنچنا ہے ، صوبے کا مسئلہ وہا ں کے سردار اور ایلیٹ طبقہ ہے ، بعض بااثر طبقات اور سردار بلوچستان کی ترقی میں رکاوٹ بن رہے ہیں کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ عام اور غریب طبقے کے لوگ آگے بڑھیں۔ ان کو لیویز فورس کی تنخواہیں چاہئیں، ان کو اپنے ذاتی گھروں کی چوکیداری کے لیے لیویز فورس چاہیے ۔ دہشت گروں کا ایک قبیلہ ہے جس میں اسٹیٹس کو ہے اور اسٹیٹس کو یہ ہے کہ غریب کا بچہ پڑھے نہیں اور ہمیشہ ان کا غلام رہے ۔

کیا حقوق کی بات کرنے والے اپنے فرائض سے بھی آگاہ ہیں؟ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ کاروبار کے نام پر منشیات اور ڈیزل سمگلنگ کرتے ہیں، سردار چاہتے ہیں 1000 ارب کے بجٹ میں حصہ ملے لیکن نہیں دیں گے ، سردار کہتے ہیں ہمیں حصہ نہیں دو گے تو دہشت گردی کروائیں گے ۔ انہیں مسئلہ ہے کہ ہمارے پیروں کو ہاتھ کیوں نہیں لگایا جا رہا ،یہ اپنے غیر قانونی دھندوں کے لیے پرمٹس مانگتے ہیں جبکہ بلوچستان کے عوام ہی اصل میں صوبے کے سٹیک ہولڈرز ہیں، ان کا کہنا تھا کہ ریاست بلوچستان کے عوام سے بات کرے گی، نہ کہ ان عناصر سے جو اپنے مفادات کے لیے صوبے کی ترقی کی مخالفت کرتے ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ لاپتا افراد مستونگ، خضدار اور دیگر علاقوں میں دہشت گردی میں ملوث پائے گئے اور آپریشن کے دوران ہلاک حملہ آوروں میں اکثر لاپتا افراد ہوتے ہیں، افغانستان اور بھارت کے درمیان بی ایل اے کے علاوہ اور کیا چیز مشترکہ ہے ،بھارت، افغانستان کا ایجنڈا دہشتگردی ہے ۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ جن مسنگ افراد کی فہرستیں دی جاتی ہیں وہ کہیں لڑائی میں مارے جاتے ہیں، لاپتا افراد کی فہرست کو بی ایل اے کے دہشت گردوں سے ملائیں تو ایک جیسی ہوگی۔ لاپتا افراد سے متعلق کبھی کہا جاتا ہے کہ 10ہزار ہیں،کبھی 20 ہزار کہتے ہیں، لاپتا افراد کا پروپیگنڈا بھی ناکام ہوگیا۔ان کا کہنا تھا کہ ہر شہری کی ذمہ داری ہے کہ وہ ریاست کے ساتھ وفادار رہے کیونکہ ریاست کے استحکام سے ہی سیاست، جمہوریت اور دیگر قومی معاملات کا تسلسل ممکن ہے ۔ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان ہی تمام شہریوں کی ‘پہلی اور آخری پہچان’ ہے اور قومی مفاد کو ہر صورت مقدم رکھا جانا چاہیے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...