نظام خراب تو تجاویز دیں ، گھسی پٹی باتیں قبول نہیں ،وزیر اعلیٰ سندھ

نظام خراب تو تجاویز دیں ، گھسی پٹی باتیں قبول نہیں ،وزیر اعلیٰ سندھ

نئے صوبوں پر محسن نقوی کی سوچ فرسودہ، سندھ تقسیم نہیں ہوگا،مرادشاہ نوجوان ملک کا مستقبل ہیں کاکروچ نہیں، شاہ بھٹائیؒ کے سالانہ عرس پرگفتگو

مٹیاری، کراچی (نمائندہ دنیا،مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ اگر محسن نقوی سمجھتے ہیں نظام نیچے چلا گیا تو وہ تجویز دیں، یہ جو تجویز انہوں نے دی ہے یہ گھسی پٹی ہے ، سندھ کے لوگ محسن نقوی کی اس تجویز کو کبھی قبول نہیں کریں گے ۔ وزیراعلیٰ نے شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کے 283ویں عرس کی اختتامی تقریب میں شرکت کی، مزار پر حاضری اور فاتحہ خوانی کی۔ بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نئے صوبوں سے متعلق ایک سوال پران کاکہنا تھا کہ محسن نقوی کی یہ سوچ فرسودہ ہے ، سندھ صوفیوں کی سرزمین ہے ، یہ تقسیم نہیں ہو سکتا، یہاں کے عوام اپنے صوبے کے مفادات کے تحفظ کے لیے متحد ہیں، لہٰذا ایسی تجاویز کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔ وزیراعلیٰ نے کہا محسن نقوی کے بیان کا اشارہ کس طرف ہے مجھے پتا نہیں، پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کی حکومت بھی مسلم لیگ ن کے پاس ہے ، بلوچستان میں کولیشن حکومت ہے اور سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے ، کے پی کے میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے ،وفاق میں مسلم لیگ ن کی حکومت ہے شاید اشارہ اس طرف ہے ۔ مراد علی شاہ نے کہا نوجوان اس ملک اور ہم سب کا مستقبل ہیں وہ کاکروچ نہیں، اس لیے ان کی حوصلہ افزائی، تعلیم، تربیت اور ترقی حکومت کی اولین ترجیح ہے ۔ انہوں نے کہا پاکستان تحریکِ انصاف کو بائیکاٹ کی سیاست ترک کرکے جمہوری عمل کا حصہ بننا چاہیے ، اسمبلیوں، کمیٹیوں اور انتخابات کا بائیکاٹ مسائل کا حل نہیں بلکہ تمام سیاسی قوتوں کو جمہوری طریقے سے عوامی خدمت کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ،کراچی کے رہائشی خود جب شہر کی برائی کر کے خوش ہوتے ہیں تو دلی افسوس ہوتا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کشمیری عوام کے حقوق کیلئے بھرپور آواز بلند کر رہے ہیں، پیپلز پارٹی ہمیشہ مسئلہ کشمیر پر کشمیری عوام کی نمائندہ آواز رہی ہے ، آزاد جموں و کشمیر میں 2 اور 10 اگست کو ہونے والے انتخابی مراحل مکمل طور پر شفاف، آزادانہ اور منصفانہ ہونے چاہئیں۔ انہوں نے الیکشن کمیشن اور متعلقہ انتظامیہ پر زور دیا کہ کشمیری عوام کو بلا خوف و خطر اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کا مکمل اور مساوی موقع فراہم کیا جائے ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...