اچھی حکمرانی عوام کا حق ہے جو انہیں ملنی چاہیے

اچھی حکمرانی عوام کا حق ہے جو انہیں ملنی چاہیے

مؤثر گورننس دہشتگردی کیخلاف آپریشنز کی کامیابی دیرپا بنا سکتی

(تجزیہ:سلمان غنی)

مسلح افواج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کی جانب سے ملک میں دہشت گردی کے رجحان ،بلوچستان کی صورتحال اور گورننس کے معاملات پر تفصیلی بریفنگ کو مسئلہ کی اہمیت اور ٹائمنگ کے حوالے سے اہم قرار دیا جا سکتا ہے ۔ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے دئیے جانے والے اعداد و شمار سے مسئلہ کی سنگینی کا پتہ چلتا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ رواں سال دہشت گردی کیخلاف 40ہزار 348 آپریشن کئے گئے جس میں 2084دہشت گرد مارے گئے ،روزانہ کی بنیاد پر 192کے قریب آپریشن کئے جاتے ہیں، مطلب کہ یہ ایک مسلسل جنگ ہے اور یقیناً پاکستان کی بقا کیلئے اس جنگ پر بھاری اخراجات بھی اٹھتے ہیں اور ہمارے جوانوں اور افسروں کی شہادتیں بھی رونما ہوتی ہیں جس پر ملک بھر میں تشویش ہے ۔آج کی صورتحال میں اصل سوال اس جنگ کی نتیجہ خیزی ہے ، بلاشبہ ہماری لیڈر شپ دہشت گردی کی جنگ کے خلاف یکسو بھی اور سنجیدہ بھی ہے ۔لیکن دیکھنا یہ ہوگا کہ آخر دہشت گردی کے پیچھے کون ہے ، افواج نے واضح کیا ہے کہ دہشت گردی کے پیچھے افغانستان سے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان اور ان کا مائی باپ بھارت ہے ۔

بھارت کو بڑی تکلیف یہ ہے کہ پاکستان دفاعی اعتبار سے خود انحصاری کی منزل پر پہنچنے کے بعد معاشی حوالے سے ترقی کی منزل پر نہ پہنچ جائے ، اپنے پاؤں پر کھڑا پاکستان دشمن کو ہضم نہیں ہو پائے گا ،لہٰذا بھارتی فنڈنگ، امریکی اسلحہ اور افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے اور اس کا توڑ مؤثر حکمت عملی اور فورسز کی پیشہ ورانہ مہارت سے ہی ممکن ہے ۔عملی طور پر دہشت گردی کا خاتمہ صرف فوجی کارروائیوں سے ممکن نہیں ہوگا اس کے لئے مسلسل انٹیلی جنس آپریشن کے ساتھ مؤثر سرحدی نظام ،کالعدم گروہوں کی مالی معاونت کی روک تھام ،سیاسی استحکام ،عدالتی کردار اور سیاسی سماجی اصلاحات بھی ناگزیر ہوتی ہیں اور یہ کام حکومتوں کے کرنے کے ہیں، اس لئے یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ اگر ریاستی حکمت عملی تسلسل سے نافذ رہی تو دہشت گردی کی صلاحیت کو نمایاں حد تک ختم کیا جا سکتا ہے تاہم مکمل خاتمے کیلئے طویل المدت اور ہمہ جہت کوششیں درکار ہوتی ہیں ۔انسداد دہشت گردی کیلئے فوجی اقدامات کے ساتھ مؤثر گورننس، قانون کی حکمرانی اور سیاسی استحکام ناگزیر ہے ،مؤثر گورننس کیلئے مضبوط ادارے ، قانون کی حکمرانی، پالیسیوں کا تسلسل اور پیشہ ورانہ سول سروس بنیادی ستون ہیں، اگر دہشت گردی کے تناظر میں دیکھا جائے تو مؤثر گورننس سکیورٹی آپریشنز کی کامیابی کو دیرپا بنا سکتی ہے ۔ کیونکہ بہتر تعلیم، روزگار، انصاف اور مقامی انتظامیہ انتہا پسندی کے اسباب کو کم کرنے میں معاون ہو سکتی ہے ۔ اس کے برعکس کمزور گورننس دہشت گردوں کو دوبارہ منظم ہونے کے مواقع فراہم کرتی ہے ۔لہٰذا گورننس کو یقینی بنائے بغیر نہ ملک آگے چل سکتا ہے اور نہ ہی نتائج کی فراہمی ممکن بن سکتی ہے اور اچھی حکمرانی عوام کا حق ہے جو انہیں ملنی چاہئے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...