محسن نقوی سے اتفاق مگر تجویز کردہ حل غلط:ندیم چن
بیوروکریٹک سسٹم ڈیلیور نہیں کرسکتا،صدارتی یا پارلیمانی نظام، فیصلہ کرنا ہوگا ریفرنڈم میں کافی وقت لگ سکتا:عامر الیاس رانا،دنیا مہربخاری کیساتھ میں گفتگو
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پیپلزپارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات ندیم افضل چن نے کہا محسن نقوی کی بات سے اتفاق ہے مگر جو وہ حل تجویز کررہے ہیں وہ غلط ہے ،محسن نقوی نے جس طریقے سے مسائل کا ذکر کیا ،میں بھی سمجھتا ہوں کہ سسٹم کلیپس کرچکا ہے ، میری بات سے کوئی راضی ہو یا ناراض ہو،یہ اپنی جگہ پر حقیقت ہے کہ یہ بیوروکریٹک سسٹم ڈیلیور نہیں کرسکتا،میں سمجھتا ہوں کہ سیاسی جماعتوں اور تمام سٹیک ہولڈرز کو اس کو ملک کو آگے چلانے کیلئے اپنا ذاتی مفاد چھوڑ کر آگے چلنا ہو گا ، پروگرام ’’دنیا مہربخاری کے ساتھ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے ندیم افضل چن نے کہا محسن نقوی کی یہ بات بھی ٹھیک ہے کہ کاکروچ کسی وقت بھی اکٹھے ہوسکتے ہیں،محسن نقوی کے حالیہ بیانات پر پیپلز پارٹی بھی حیران تھی اور صدر آصف علی زرداری کو بھی اندازہ نہیں تھا کہ محسن نقوی ایسی گفتگو کرنے جا رہے ہیں۔
اب یہ فیصلہ کرنے کا وقت آ گیا ہے کہ ملک کو پارلیمانی نظام کے تحت چلایا جائے یا صدارتی نظام اپنایا جائے ۔سینئر تجزیہ کار عامر الیاس رانا نے کہا محسن نقوی نے جو بات کی ہے اگر ہم یہ کہیں کہ یہ ن لیگ کیلئے چارج شیٹ ہے تو سب سے پہلے محسن نقوی کے اپنے اوپر آتی ہے ، جو گورننس تباہ ہو گئی ہے اس کے سب سے بڑے بینفشری وہ خود ہیں، پہلے وہ وزیر اعلیٰ بنے ، اس کے بعد وہ وزیر داخلہ بن گئے ،اب وہ سب کچھ کررہے ہیں۔انہوں نے کہا محسن نقوی کی بات کا جواب خواجہ آصف اور رانا ثنا اللہ نے کھل کر دیا، ہوسکتا ہے ، ن لیگ ان کے ساتھ میٹنگ کرلے ،بیان بازی رک جائے گی،بعد میں ن لیگ کے لوگ کہیں گے کہ ہم کو شہبازشریف نے محسن نقوی کے اوپر بات کرنے سے منع کردیا ہے، ریفرنڈم جلد نہیں ہوگا، کافی وقت لگ سکتا ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments