نئے صوبے ضروری لیکن کام آسان نہیں :بیرسٹر عقیل
کوئی گلا دبا کر اپنی بات نہیں منوا سکتا، آئین میں طریقہ کار درج ہے :شرمیلا فاروقی ایڈمنسٹریٹڈ یونٹس ہونے چاہئیں:ہمایوں مہمند ،پروگرام دنیا مہر بخاری کیساتھ میں گفتگو
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)مشیر وزارت قانون بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ حکومت کے اندر کوئی کرائسز نہیں ہے ،ریفارمز کا معاملہ ہے جس پر ہم کام کررہے ہیں،یہ ریفارمز کا ایجنڈا ہم آگے لے کر جارہے ہیں، اس میں کوئی ایسی بات نہیں ہے ،دنیا نیوز کے پروگرام دنیا مہر بخاری کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ ایک چیز ضرور ہے کہ جو گورننس کے گیپس ہیں ان کو بھی پر ہونا ہے ،ہم ان کو ریفارمز پیکیج میں ایڈریس کرسکتے ہیں، ایڈمنسٹریٹڈ یونٹس کے حوالے سے بات چیت ہوسکتی ہے ،اصلاحات کرنی ہی کرنی ہے ،یہ وقت کی ضرورت ہے ،نئے صوبوں سے متعلق ایک رائے ہے ، اس پر تمام سیاسی جماعتوں کو اکٹھے بیٹھ کر آپس میں اتفا ق کرنا ہو گا، یہ کام آسان نہیں ہے ، اس کیلئے وقت چاہئے ۔
پی ٹی آئی کے رہنما اور سینیٹر ہمایوں مہمند نے کہا کہ درحقیقت حکومت خود ایک کرائسز ہے ،عمران خا ن نے کہا تھا کہ دنیا کے کسی ملک میں اگر آپ ان لوگوں کو حکومت دیں، یہ اس ملک کا بھی بیڑا غرق کردینگے ، معاشی گروتھ ہماری سست ہو گئی ہیں، ایڈمنسٹریٹڈ یونٹس کی بات ہے اس سے متعلق عمران خان نے بہت پہلے کہا تھا کہ ان کی ذاتی رائے یہ ہے کہ ڈویژن کے لیول پر سارے ایڈمنسٹریٹڈ یونٹس ہونے چاہئیں،میں اس بات پر اتفاق کرتا ہوں کہ اس وقت نئے صوبوں کی ضرورت ہے ۔ پیپلز پارٹی کی رہنما شرمیلا فاروقی نے کہا کہ نئے صوبوں سے متعلق بات کرنے کیلئے سنجیدگی سے بیٹھیں ،ملک کے نظام کو بہتر کریں،اگرنئے صوبے بنانے ہیں تو کوئی ڈنڈا،یا گلا دبا کر اپنی بات نہیں منوا سکتا،اگر یہ ملک آئین پر چلتا ہے توآئین میں طریق کار درج ہے ، نئے صوبوں کا کیا مطلب ہے ،نئے صوبے بنانے کا مطلب ہے کہ مزید چیف منسٹرز، مزید کابینہ،مزید بیوروکریسی،پھر ان کے خرچے پورے کیسے کریں گے ؟۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments