کے فور منصوبہ رکاوٹوں اور تاخیر کا شکار، لاگت 25 سے بڑھ کر 172 ارب تک جاپہنچی
سی ڈی ڈبلیو پی کا اجلاس، نظرثانی شدہ کے فورمنصوبہ حتمی منظوری کیلئے ایکنک کو بھجوا دیا، کینجھر جھیل سے پانی فراہم ہوگا منصوبے کے ڈیزائن میں ایک درجن سے زائد مرتبہ تبدیلی ہوچکی ، کراچی میں پانی قلت کا مسئلہ تاحال حل نہ ہو سکا
اسلام آباد (مدثر علی رانا)حکومت نے کراچی کے طویل عرصے سے تاخیر کا شکار گریٹر کراچی بلک واٹر سپلائی سکیم (کے -فور)کی نظرثانی شدہ لاگت 171 ارب 81 کروڑ 44 لاکھ روپے کرنے کی منظوری دے دی۔ منصوبے کا جائزہ پلاننگ کمیشن کی سینٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) کے اجلاس میں لیا گیا جس کی صدارت وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن احسن اقبال نے کی۔ اجلاس نے منصوبے کو حتمی منظوری کے لیے قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ایکنک) کو بھجوا دیا۔کے فور منصوبہ تقریباً بارہ برس قبل تقریباً 25 ارب روپے کی لاگت سے شروع کیا گیا تھا تاہم مسلسل تاخیر، بار بار ڈیزائن میں تبدیلیوں اور انتظامی رکاوٹوں کے باعث اس کی لاگت بڑھ کر تقریباً 172 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے۔
منصوبے کے ڈیزائن میں ایک درجن سے زائد مرتبہ تبدیلی کی جا چکی ہے جس کے باعث کراچی کو درپیش پانی کی شدید قلت کا مسئلہ اب تک حل نہیں ہو سکا۔نظرثانی شدہ منصوبے کے تحت کینجھر جھیل پر یومیہ 650 ملین گیلن پانی حاصل کرنے کی صلاحیت کا انٹیک سٹرکچر تعمیر کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ پانی کی ترسیل کے لیے آر سی سی گریویٹی کنڈوئٹ، 130 ملین گیلن یومیہ صلاحیت کے دو پمپنگ سٹیشن، پریشرائزڈ پائپ لائن سسٹم، تین واٹر سٹوریج ریزروائرز، تین واٹر فلٹریشن پلانٹس، عملے کے لیے رہائشی کالونی، رسائی سڑکیں اور دیگر متعلقہ انفراسٹرکچر بھی تعمیر کیا جائے گا تاکہ کراچی کو پینے کے صاف پانی کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
احسن اقبال نے کہا کہ کے -فور کراچی کے عوام کے لیے انتہائی اہم عوامی فلاحی منصوبہ ہے جس سے محفوظ اور صاف پینے کے پانی کی فراہمی بہتر ہوگی، صحت و صفائی کے معیار میں بہتری آئے گی، کم آمدنی والے طبقے پر مالی بوجھ کم ہوگا اور شہری مہنگے واٹر ٹینکر مافیا پر انحصار سے نجات حاصل کر سکیں گے ۔ انہوں نے سندھ حکومت کو ہدایت کی کہ منصوبے کے تمام اہم اجزا، خصوصاً 50 میگاواٹ بجلی کی فراہمی اور ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک کی اپ گریڈیشن کے حوالے سے جامع رپورٹ جلد از جلد پیش کی جائے تاکہ منصوبہ بروقت فعال بنایا جا سکے۔
اجلاس میں مجموعی طور پر سات ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔ سی ڈی ڈبلیو پی نے 12 ارب 43 کروڑ 70 لاکھ روپے مالیت کے چار منصوبوں کی منظوری دی جبکہ 240 ارب 53 کروڑ 70 لاکھ روپے لاگت کے تین بڑے منصوبے مزید غور اور حتمی منظوری کے لیے ایکنک کو بھجوا دئیے گئے ۔اجلاس میں پنجاب حکومت کا لاہور واٹر اینڈ ویسٹ واٹر مینجمنٹ پراجیکٹ بھی زیر غور آیا جس کی لاگت 31 ارب 59 کروڑ 19 لاکھ روپے ہے ۔اس منصوبے کو بھی مزید غور کے لیے ایکنک کے سپرد کر دیا گیا۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کو جامعات کے لیے جامع ماسٹر پلان تیار کرنے کی ہدایت کی گئی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments