لانگ مارچ کا اعلان کسی خاص سگنل کے بغیر نہیں ہوسکتا
سہیل آفریدی کے اعلان نے سیاسی بحث چھیڑ دی، آئینی و قانونی پہلو بھی زیرِ غور
( تجزیہ:سلمان غنی)
بانی پی ٹی آئی کی جیل میں تین سال قید کی تکمیل پر ان کی جماعت کی جانب سے منائے گئے یومِ احتجاج کے موقع پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل خان آفریدی نے بانی پی ٹی آئی کی رہائی کیلئے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اب عدالتوں سے انصاف کی توقع نہیں رہی، اس لیے رہائی کی جدوجہد سڑکوں پر کی جائے گی۔اس اعلان کو موجودہ سیاسی حالات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے ۔ تاہم اس کے ساتھ کئی سوالات بھی جنم لے رہے ہیں، جن میں یہ شامل ہے کہ آیا ایک صوبے کے وزیراعلیٰ کی جانب سے وفاقی دارالحکومت کی طرف لانگ مارچ کا آئینی و قانونی جواز کیا ہے، دو ماہ سے زائد کا وقفہ کس حکمت عملی کے تحت رکھا گیا ہے ، اور کیا ریاست اسلام آباد میں کسی غیر معمولی صورتحال کی اجازت دے گی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق 24 نومبر 2024 کے بعد یہ پی ٹی آئی کی پہلی بڑی لانگ مارچ کال ہے ، جسے سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے ۔ گزشتہ برس علی امین گنڈاپور کے دورِ وزارتِ اعلیٰ میں ہونے والے احتجاج مطلوبہ نتائج نہ دے سکے تھے ، جبکہ بعض کالز واپس بھی لے لی گئی تھیں۔ اسی پس منظر میں سہیل خان آفریدی کو وزارتِ اعلیٰ کا منصب سونپے جانے کو زیادہ منظم اور مؤثر احتجاجی حکمت عملی سے جوڑا جاتا ہے ۔اگرچہ 5 اگست کے احتجاج کو ملک گیر سطح پر غیر معمولی پذیرائی نہیں ملی، تاہم پشاور کے جلسے اور وہاں کی سیاسی سرگرمیوں سے یہ تاثر ضرور ملا کہ پی ٹی آئی اپنی آئندہ تحریک کو زیادہ منظم انداز میں آگے بڑھانے کی تیاری کر رہی ہے۔
موجودہ سیاسی منظرنامے میں بعض حلقوں کا خیال ہے کہ حکومتی نظام اور گورننس پر اٹھنے والے سوالات، خصوصاً وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے بعض حالیہ بیانات نے حکومت کو دفاعی پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے ، جس سے اپوزیشن کو سیاسی طور پر حوصلہ ملا ہے ۔ دوسری جانب بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 24 نومبر 2024 کے مقابلے میں موجودہ حالات مختلف ضرور ہیں، لانگ مارچ پر سیاسی و اخلاقی حلقوں میں غوروخوض شروع ہے اور بعض حلقے تو ستمبر میں پی ٹی آئی کی جانب سے لانگ مارچ کے اعلان کو معنی خیز قرار دیتے نظرآ رہے ہیں اور حالات و واقعات پر گہری نظر رکھنے والے تو یہاں تک کہتے سنائی دے رہے ہیں کہ بدلے ہوئے حالات میں لانگ مارچ کا اعلان کسی خاص سگنل کے بغیر نہیں ہوسکتا۔
پی ٹی آئی کے اندر بھی اس لانگ مارچ کی تاریخ پر مختلف آرا سامنے آئی ہیں۔ علیمہ خان نے دو ماہ کے وقفے پر اعتراض کیا، جبکہ پارٹی ذرائع کے مطابق یہ وقت تنظیمی تیاری اور کارکنوں کو متحرک کرنے کیلئے رکھا گیا ہے ۔ فی الحال اس مارچ کو ’’پشاور سے اسلام آباد مارچ‘‘ قرار دیا جا رہا ہے ، تاہم امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ دیگر صوبوں میں بھی احتجاجی سرگرمیوں کا اعلان کیا جائے گا۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی بڑے احتجاج کی کامیابی کا انحصار صرف عوامی شرکت پر نہیں بلکہ مجموعی سیاسی ماحول، ریاستی حکمت عملی اور فریقین کے طرزِ عمل پر بھی ہوتا ہے ۔بعض حلقے یہ بھی رائے دیتے ہیں کہ اسلام آباد کی بین الاقوامی سفارتی اہمیت کے پیشِ نظر ریاست دارالحکومت میں امن و امان کو ہر صورت برقرار رکھنے کی کوشش کرے گی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments