جرم سے تعلق ثابت کیے بغیر قانون شہادت کا اطلاق نہیں ہوسکتا : لاہور ہائیکورٹ
فوجداری مقدمات میں جرم ثابت کرنے کا بنیادی بوجھ ہر حال میں استغاثہ پر ہی رہتا ہے :جسٹس طارق سلیم شیخ عدالت نے بیوی کے قتل کیس میں عمر قید کی سزا پانے والے ملزم تنویر کی اپیل منظور کر لی، بری کرنے کا حکم
لاہور (کورٹ رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک )لاہور ہائیکورٹ نے بیوی کے قتل کیس میں عمر قید کی سزا پانے والے شوہر کی اپیل منظور کرتے ہوئے اسے بری کرنے کا حکم دے دیا۔جسٹس طارق سلیم شیخ نے ملزم کی اپیل پر 19 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے آرٹیکل 122 قانونِ شہادت کی تشریح بھی کر دی۔ جسٹس طارق سلیم شیخ نے فیصلے میں قرار دیا کہ قانونِ شہادت کے آرٹیکل 122 کا اطلاق خودکار نہیں ہوتا، پہلے استغاثہ پر لازم ہے وہ قابلِ اعتماد براہِ راست یا ضمنی شواہد کے ذریعے ملزم کو وقوعہ سے جوڑے، اگر استغاثہ یہ بنیادی بوجھ پورا کرنے میں ناکام رہے تو صرف اس بنیاد پر کہ بیوی کی غیر طبعی موت شوہر کے گھر ہوئی، ملزم سے وضاحت طلب کی جا سکتی ہے نہ ہی اس کی خاموشی کو جرم کا ثبوت قرار دیا جا سکتا۔ جسٹس طارق سلیم شیخ نے فیصلے میں واضح کیا کہ فوجداری مقدمات میں جرم ثابت کرنے کا بنیادی بوجھ ہر حال میں استغاثہ پر ہی رہتا ہے۔
استغاثہ نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ملزم تنویر نے اپنی بیوی کو گلا دبا کر قتل کیا، چونکہ مقتولہ کی غیر طبعی موت شوہر کے گھر ہوئی، اس لیے قانونِ شہادت کے آرٹیکل 122 کے تحت ملزم پر لازم تھا کہ وہ موت کی وجوہات کی وضاحت کرے مگر وہ ایسا نہ کر سکا، اس لیے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا جائے ۔ لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ استغاثہ ملزم کے خلاف الزامات ثابت کرنے کیلئے ٹھوس اور قابلِ اعتماد شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا،ان حالات میں معقول شک کا فائدہ قانون کے مطابق ملزم کو دیا جانا چاہیے ،ان وجوہات کی بنیاد پر لاہور ہائیکورٹ نے ملزم تنویر کی اپیل منظور کرتے ہوئے اسے بری کر دیا جبکہ مدعی کی سزا میں اضافے کی درخواست بھی مسترد کر دی۔واضح رہے ایڈیشنل سیشن جج چنیوٹ نے 17 جنوری 2022ء میں ملزم تنویر کو اپنی بیوی نسرین بی بی کے قتل کے جرم میں عمر قید اور 4 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی جس کے خلاف اس نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments