سینیٹ کمیٹی کا کے پی ٹینڈرنگ بے ضابطگیوں پر نوٹس، انکوائری کی ہدایت
ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی، قومی خزانے کے اضافی نقصان کی وصولی کی ہدایت کمیٹی کی عالمی بینک سے خریداری کے عمل کو مس پروکیورمنٹ قرار دینے کی سفارش
اسلام آباد (سید قیصر شاہ) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کا اجلاس چیئرمین سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت ہواجس میں خیبرپختونخوا کے عالمی مالیاتی اداروں کے تعاون سے جاری ترقیاتی منصوبوں، کراچی موبیلٹی پراجیکٹ (بی آر ٹی ییلو لائن) اور اکرم واہ کینال منصوبے کا جائزہ لیا گیا۔کمیٹی کو عالمی بینک کے تعاون سے خیبرپختونخوا میں سڑکوں کی تعمیر و مرمت کے منصوبوں پر بریفنگ دی گئی۔ اراکین نے ٹینڈرنگ کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بعض منصوبوں کو مختلف پیکجز میں تقسیم کرکے مخصوص ٹھیکیداروں کو فائدہ پہنچایا گیا۔
کمیٹی نے این آئی ٹی-I، این آئی ٹی-II اور این آئی ٹی-III میں بے ضابطگیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ سنگل سٹیج ٹو انویلپ کے بجائے سنگل سٹیج ون انویلپ طریقہ کیوں اختیار کیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ کم ترین بولی دہندہ کی تکنیکی جانچ مکمل ہونے سے پہلے مالیاتی بولیاں کھول دی گئی تھیں جسے کمیٹی نے پیپرا قواعد اور شفاف خریداری کے اصولوں کے منافی قرار دیا۔اقتصادی امور ڈویژن نے بتایا کہ منصوبے کی فوری ضرورت کے باعث حکومت خیبرپختونخوا نے خود سنگل سٹیج ون انویلپ طریقہ اپنانے کی درخواست کی تھی۔ چیئرمین کمیٹی نے جامع انکوائری، ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی، قومی خزانے کو ہونے والے اضافی نقصان کی وصولی اور عالمی بینک سے اس عمل کو مس پروکیورمنٹ قرار دینے کی سفارش کرنے کی ہدایت دی۔ کمیٹی نے نئے غیر ملکی قرضوں پر مبنی منصوبوں کی حوصلہ شکنی اور بیرونی قرضوں پر انحصار کم کرنے کی بھی سفارش کی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments