میررضا کی قبر کشائی، پوسٹمارٹم کیلئے تشکیل میڈیکل بورڈ پر تنازع

میررضا کی قبر کشائی، پوسٹمارٹم کیلئے تشکیل میڈیکل بورڈ پر تنازع

اہل خانہ، وکیل نے محکمہ صحت کی جانب سے تشکیل دی جانیوالی نئی کمیٹی مسترد کردی

کراچی (سٹاف رپورٹر)کراچی میں نوجوان تاجر میر رضا کی پراسرار ہلاکت کے واقعہ میں اس وقت نیا موڑ سامنے آیا جب قبر کشائی اور دوبارہ پوسٹ مارٹم کے لیے تشکیل دیے گئے میڈیکل بورڈ پر تنازع کھڑا ہو گیا۔ اہل خانہ اور ان کے وکیل جبران ناصر نے محکمہ صحت کی جانب سے تشکیل دی جانے والی نئی کمیٹی کو مسترد کردیا، جس پر قبر کشائی کا عمل موخر کردیا گیا۔عدالتی احکامات پر پولیس سرجن کراچی کی جانب سے 8رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا تھا جس میں فارنزک، پیتھالوجی اور میڈیکو لیگل ماہرین شامل تھے ۔ بعد ازاں ڈی جی ہیلتھ سروسز سندھ حیدرآباد کی جانب سے 5رکنی نیا بورڈ تشکیل دے دیا گیا، جس کے بعد اہل خانہ نے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔جمعہ کی صبح قبرستان میں جوڈیشل مجسٹریٹ، پولیس سرجن اور میڈیکل بورڈ کے ارکان موجود رہے لیکن نئے بورڈ پر اعتراضات کے باعث قبر کشائی کی کارروائی شروع نہ ہو سکی۔ مقتول کے والد اور ان کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ صرف پہلے سے تشکیل دی گئی 8رکنی کمیٹی پر اعتماد کرتے ہیں۔وکیل جبران ناصر نے کہا رات کی تاریکی میں نیا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا، پہلی کمیٹی کو کیوں تبدیل کیا گیا اس کی کوئی وضاحت نہیں دی گئی۔

قبر کشائی کے معاملے میں پولیس سرجن مجاز اتھارٹی ہیں اور ہم صرف پہلے میڈیکل بورڈ کو تسلیم کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا تفتیش کے کئی پہلو اب بھی سوالات کی زد میں ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ مدعی کا بیان بروقت ریکارڈ نہیں کیا گیا جبکہ سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد کے حوالے سے بھی وضاحت درکار ہے ۔دوسری جانب میر رضا کے والد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خاندان شروع سے قتل کا مؤقف اختیار کرتا آ رہا ہے اور انصاف کے حصول تک قانونی جدوجہد جاری رکھے گا، میرے بیٹے کے ساتھ کیا ہوا، اس کی حقیقت سامنے آنی چاہیے ، ہم کسی دباؤ میں نہیں آئیں گے اور شفاف تحقیقات کے لیے ہر قانونی راستہ اختیار کریں گے ۔نئے میڈیکل بورڈ کی تشکیل پر تحفظات کے باعث میر رضا کی قبر کشائی اور دوبارہ پوسٹ مارٹم کو فی الحال مؤخر کر دیا گیا ہے ۔دوسری جانب میر رضا کی قبر کشائی اور دوبارہ پوسٹ مارٹم کے لیے تشکیل دیے گئے میڈیکل بورڈ میں تبدیلی کے معاملے پر مقتول کے والد کے وکیل جبران ناصر نے پولیس سرجن کراچی اور سیکرٹری صحت کو ہنگامی خط ارسال کرتے ہوئے عدالتی احکامات کے مطابق اصل میڈیکل بورڈ سے ہی قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کرانے کا مطالبہ کیا ہے ۔

خط میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سندھ ہائیکورٹ نے اپنے حکم میں پولیس سرجن کراچی اور سیکرٹری صحت کو میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت کی تھی، جس پر عمل کرتے ہوئے پولیس سرجن کراچی نے 8رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا تھا۔ مقتول کے اہل خانہ نے بھی اسی اصل میڈیکل بورڈ پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا تھا۔خط کے مطابق 6 اگست کی شب ڈی جی ہیلتھ حیدرآباد نے نیا میڈیکل بورڈ تشکیل دے دیا، جس میں پہلے سے موجود تمام ارکان کو تبدیل کر دیا گیا۔ یہ اقدام عدالتی احکامات کے منافی ہے اور ڈی جی ہیلتھ کو پولیس سرجن کے اختیارات میں مداخلت کا قانونی اختیار حاصل نہیں۔ مقتول کے ورثا نئے میڈیکل بورڈ کے ذریعے قبر کشائی پر رضامند نہیں۔ ان کے مطابق اگر نئے بورڈ کے ذریعے قبر کشائی کی گئی تو اسے عدالتی حکم کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔ میڈیکل بورڈ میں اچانک تبدیلی سے مقتول کے اہل خانہ کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں، لہٰذا عدالتی احکامات کی مکمل پاسداری کرتے ہوئے اصل 8رکنی میڈیکل بورڈ ہی سے قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کا عمل کرایا جائے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...