امریکی فوجی سربراہ ایران کیساتھ مزید جنگ کے مخالف : جنرل ڈین کین نے پتلی گلی سے نکل جانے کا مشورہ دیدیا

امریکی فوجی سربراہ ایران کیساتھ مزید جنگ کے مخالف : جنرل ڈین کین نے پتلی گلی سے نکل جانے کا مشورہ دیدیا

صرف فضائی طاقت سے اہداف کا حصول ناممکن،زیر غور فوجی آپشنز الٹ پڑ سکتے ،فوجی سربراہ کی وینس، مارکوروبیو،ڈائریکٹر سی آئی اے سے گفتگو،علامتی فتح کی تلاش، ہرمز کھلنے کے معاہدے پر نظر عمان کیساتھ معاہدہ طے پانے کے قریب ، آبی گزرگاہ کھولنے کیلئے کافی نہیں ،معاوضہ سمیت تمام شرائط پوری کرنا ہونگی:ایران ، اماراتی تیل کمپنی سے وابستہ بحری جہاز کو میزائل سے نشانہ بنا دیا گیا

واشنگٹن (مانیٹرنگ سیل ، نیوز ایجنسیاں )گزشتہ کچھ ہفتوں کے دوران، جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے نجی طور پر ٹرمپ کے دیگر اعلیٰ مشیروں کو مشورہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ میں امریکا پتلی گلی سے نکل جائے ، کیونکہ تنازع کو بڑھانے کیلئے جو فوجی آپشنز زیرِ غور ہیں وہ الٹے پڑ سکتے ہیں اور صرف فضائی طاقت سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کردہ اہداف حاصل ہونے کا امکان نہیں ہے۔ سی این این کے مطابق معاملے سے واقف تین ذرائع نے یہ معلومات دی ہیں۔ان ذرائع میں سے ایک نے سیدھے الفاظ میں کہا:"کین جنگ سے نکلنے کا راستہ ڈھونڈ رہے ہیں۔"کین اس سوچ میں اکیلے نہیں ہیں کہ جنگ ایک انتہائی نازک موڑ پر پہنچ چکی ہے ۔ دو ذرائع کے مطابق، انہوں نے تنازع کو مزید بڑھانے کے فوجی آپشنز کے بارے میں اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے اور کابینہ کے دیگر اہم عہدیداروں کے ساتھ اس جنگ سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنے کے امکانات پر بات کی ہے ، جن میں سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف ، وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اور نائب صدر جے ڈی وینس شامل ہیں۔

امریکا کے اس اعلیٰ ترین جنرل نے حال ہی میں ٹرمپ کے ان ہم خیال اور اہم مشیروں کے ساتھ علیحدہ نشستیں کی ہیں تاکہ ہم آہنگی کو بہتر بنایا جا سکے اور صدر کے ساتھ ملاقاتوں سے پہلے سب ایک پیج پر ہوں۔ ذرائع کے مطابق، اس کا مقصد ان دستیاب فوجی آپشنز کی حدود اور خطرات کو واضح کرنا تھا، بشمول وہ آپشنز جن میں امریکی زمینی افواج کو میدان میں اتارنا شامل نہیں ہے ۔ٹرمپ کابینہ کے اعلیٰ قومی سلامتی کے حکام کے ساتھ کین کی ان گفتگوؤں کا حوالہ دیتے ہوئے ایک ذریعہ نے سی این این کو بتایا:"میرے خیال میں یہ فوج کو محفوظ رکھنے کا ان کا اپنا طریقہ ہے ۔ٹرمپ مسلسل ایران میں زمینی افواج بھیجنے کے خیال کے خلاف نظر آئے ہیں اور اس کے بجائے انہوں نے یہ اشارہ دیا ہے کہ ان کا ماننا ہے کہ فضائی بمباری کے ذریعے ایران کو ان کی شرائط پر معاہدے کے لیے مجبور کیا جا سکتا ہے۔

اس خبر پر تبصرے کے لیے سی این این کی درخواست کے جواب میں، کین کے ترجمان جوزف ہولسٹڈ نے کہا: ہم صدر، سکیورٹی سیکرٹری، یا دیگر سینئر رہنماؤں کے ساتھ چیئرمین کی خفیہ گفتگو پر بات نہیں کرتے ، اور نہ ہی ہم ان ذرائع کے گمنام اور مخصوص ایجنڈے پر مبنی تبصروں پر کوئی تبصرہ کرتے ہیں جو ان گفتگوؤں میں خود موجود نہیں تھے ۔"محکمہ خارجہ اور سی آئی اے نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ جنگ اب اس موڑ پر پہنچ چکی ہے جہاں ٹرمپ کے اعلیٰ قومی سلامتی کے متعدد حکام اب اسی بات پر یقین رکھتے ہیں جو کین نے خود گزشتہ ماہ کے آخر میں ایک عوامی سماعت کے دوران قانون سازوں سے کہی تھی: فضائی طاقت کی اپنی حدود ہوتی ہیں۔ انہیں وجوہات کی بنا پر، کین اور دیگر ٹرمپ حکام جولائی کے آخر میں تنازع کو مزید بڑھانے کے لیے نئے اور زیادہ جارحانہ حملے شروع کرنے کے تازہ ترین منصوبے کے حوالے سے محتاط تھے ، کیونکہ انہیں اس کی وجہ سے پیدا ہونے والے متوقع نتائج کا ڈر تھا حالانکہ صدرٹرمپ ابتدا میں اس آپریشن کو بڑے پیمانے پر شروع کرنے کی منظوری دینے کے لیے تیار نظر آ رہے تھے ، جیسا کہ ذرائع میں سے ایک نے آپریشنل تفصیلات بتائے بغیر بتایا۔

اس ذریعہ نے مزید کہا:  اس آپریشن کی حمایت میں صرف سینٹکام (CENTCOM) کے عناصر تھے ، اور ساتھ ہی یہ بھی نوٹ کیا کہ اسرائیل نے بھی اس تنازع کو بڑھانے کے آپریشن کی بڑے پیمانے پر حمایت کی تھی۔وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر اہلکار نے سی این این کو بتایا کہ ٹرمپ نے بالآخر مشرقِ وسطیٰ کے اتحادیوں سے بات چیت کے بعد پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا، جنہوں نے انہیں بتایا کہ وہ ایرانی انتقام، خاص طور پر اپنے توانائی کے انفراسٹرکچر پر جوابی حملوں سے ڈرتے ہیں۔ اہلکار نے مزید کہا کہ صدر نے آنے والے وقت کے لیے ان منصوبوں کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا ہے ۔لیکن امریکی اہم ہتھیاروں کے ذخائر میں کمی بھی ایک بڑا عنصر تھی، جیسا کہ سی این این نے رپورٹ کیا ہے ۔ متعدد ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ایک ایسا خدشہ ہے جو نہ صرف کین نے اٹھایا ہے بلکہ خلیجی حکام نے بھی حال ہی میں انتظامیہ کے عہدیداروں تک پہنچایا ہے کہ اگر ٹرمپ تنازع کو بڑھانے کا فیصلہ کرتے ہیں تو امریکی ایئر ڈیفنس سسٹمز کی کمی کس طرح ان کی دفاعی صلاحیتوں کو متاثر کر سکتی ہے۔

ایک دوسرے ذریعہ کے مطابق، ٹرمپ نے پلوں پر بمباری پر بھی غور کیا ہے ، لیکن اس سے بھی مثبت نتائج ملنے کا امکان نہیں ہے ۔ ڈرون اور میزائل اڈوں کے علاوہ نشانہ بنانے کے لیے زیادہ کچھ باقی نہیں بچا ہے ۔ پاور پلانٹس پر بمباری کرنا عوامی سطح پر ایک بڑا قدم ہوگا۔ ذرائع کے مطابق، اگرچہ کین نے خدشات ظاہر کیے ہیں، لیکن وہ ٹرمپ کے ساتھ اپنے تعلقات کو برقرار رکھنے کے بارے میں بھی چوکس رہے ہیں اور صدر کے سامنے براہ راست پیش کرتے وقت فوجی آپشنز کے ممکنہ نقصانات کو بہت محتاط انداز میں بیان کرتے ہیں۔انہوں نے چیئرمین کی حیثیت سے اپنے دور میں یہ یقینی بنانے کی سخت کوشش کی ہے کہ ان کی بات ٹرمپ تک پہنچے ، یہاں تک کہ ایک موقع پر انہوں نے وائٹ ہاؤس میں ایک دفتر حاصل کرنے کی کوشش کی تاکہ وہ صدر کو باقاعدگی سے بریفنگ دے سکیں اور وہاں کام کرنے کے لیے ایک محفوظ جگہ رکھ سکیں۔

معاملے سے واقف دو ذرائع کے مطابق، کین گزشتہ ماہ کے آخر میں وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ اور دیگر اعلیٰ حکام کے ساتھ ملاقات کے دوران جنگ کے گہرے نقصانات اور امریکا کے ہتھیاروں کے ختم ہوتے ذخائر کے بارے میں خدشات کو اٹھا کر "اپنی ذمہ داری پوری کر رہے تھے "۔لیکن ذرائع میں سے ایک نے چیئرمین کے پیغام کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اسی گفتگو کے دوران، کین نے صدر پر یہ بھی واضح کیا کہ اگر وہ ان آپریشنز کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتے ہیں، تو "ہم انہیں مکمل طور پر تباہ کر سکتے ہیں،" تاہم نجی طور پر، کین فضائی طاقت کی حدود کا اعتراف کرنے اور اس بات کا اعادہ کرنے میں زیادہ واضح رہے ہیں کہ جنگ کے اس مرحلے پر صرف بمباری سے ٹرمپ کے طے شدہ اہداف حاصل ہونے کا امکان نہیں ہے ۔جنگ شروع ہونے سے پہلے بھی، کین اور دیگر فوجی رہنماؤں نے ٹرمپ کو اسی طرح خبردار کیا تھا کہ ایک طویل فوجی مہم امریکی ہتھیاروں کے ذخائر کو متاثر کر سکتی ہے - خاص طور پر وہ جو اسرائیل اور یوکرین کی مدد کے لیے ہیں۔

لیکن اب، سینئر امریکی فوجی کمانڈروں کا ماننا ہے کہ ہتھیاروں کا ذخیرہ خطرناک حد تک کم ہو چکا ہے ، اور ٹرمپ اس بات سے تیزی سے مایوس ہو رہے ہیں کہ یہ مسئلہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں طاقت دکھانے کی ان کی صلاحیت کو کمزور کرتا ہے ۔کین نے ٹرمپ کے ساتھ کم از کم دو حالیہ ملاقاتوں میں ہتھیاروں کے ختم ہوتے ذخائر کے بارے میں خدشات ظاہر کیے ہیں۔ دریں اثنا، ٹرمپ اس بات پر زیادہ ناراض نظر آتے ہیں کہ امریکی ہتھیاروں کی کمی کی خبریں عام ہو گئی ہیں ، انہوں نے گزشتہ ہفتے کیمپ ڈیوڈ میں اپنی کابینہ کے اجلاس کے دوران گلے شکوؤں کا اظہار کیا۔ہتھیاروں کی کمی ان وجوہات میں سے ایک ہے کہ پینٹاگون اور یو ایس سینٹرل کمانڈ نے حال ہی میں امریکا کی فوجی حکمت عملی کا ازسرنو جائزہ لینا شروع کیا ہے ۔ مثال کے طور پر، سینٹکام کے ایک سینئر ملٹری آفیشل نے حال ہی میں ایک ای میل بھیجی جس میں ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے نئے اور غیر روایتی طریقوں کی تجویز مانگی گئی۔

ذرائع نے نوٹ کیا کہ جنگ شروع ہونے کے چھ ماہ بعد ایسا کرنا اس بات کا خاموش اعتراف ہے کہ حالات ٹھیک نہیں چل رہے ۔جوائنٹ چیفس کے چیئرمین کی حیثیت سے ، کین ایران پر حملے کے فوجی آپشنز تیار کرنے کے ذمہ دار ہیں، لیکن جنگ سے پہلے پینٹاگون میں سینئر حکام کے ساتھ ملاقاتوں میں بھی، ٹرمپ کے اعلیٰ ترین جنرل نے ایک بڑے آپریشن کے ممکنہ نقصانات کے بارے میں کھل کر بات کی تھی اور اس وقت بھی انہوں نے اس طرح کے مشن کے پیمانے ، پیچیدگی اور امریکی جانی نقصان کے امکانات کے بارے میں خدشات ظاہر کیے تھے ۔جیسے جیسے جنگ چھ ماہ کے نشان کے قریب پہنچ رہی ہے ، کین کے کام کرنے کے طریقے پر تنقید دوبارہ شروع ہو رہی ہے اور ایک طویل تنازع سے نمٹنے کے ان کے تجربے کی کمی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

امریکی انتظامیہ کے اندر کے بہت سے لوگ اور باہر کے تجزیہ کار اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ ایران کو فیصلہ کن شکست دینے کا واحد طریقہ ایک بڑا آپریشن ہوگا جس میں زمینی افواج شامل ہوں ، ایک ایسا قدم جس میں ہزاروں امریکیوں کی جانیں جا سکتی ہیں۔ پینٹاگون تمام منظرناموں پر غور کرتا ہے ، لہذا یہ منصوبے موجود ہیں، لیکن فی الحال انتظامیہ میں کوئی بھی اس طرح کے سخت اقدام کی وکالت نہیں کر رہا ہے ۔لہذا، جیسا کہ کین اور دیگر ٹرمپ کو اس بات سے آگاہ کر رہے ہیں کہ کم شدید فوجی اقدامات بھی منفی نتائج کا باعث بن سکتے ہیں، اصل توجہ ایک ایسا  طریقہ کار تلاش کرنے پر ہے جو صدر کو کم از کم ایک علامتی  فتح فراہم کر سکے جسے وہ سفارتی پیش رفت کو روکے بغیر امریکی عوام کے سامنے پیش کر سکیں ، جس کی شروعات آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے معاہدے سے ہو سکتی ہے ۔

تہران، واشنگٹن(نیوز ایجنسیاں،مانیٹرنگ ڈیسک)ایران نے ہفتے کے روز کہا کہ آبنائے ہرمز کے کنٹرول سے متعلق عمان کے ساتھ ایک معاہدہ طے پانے کے قریب ہے ، تاہم صرف یہ معاہدہ آبی گزرگاہ کو آمدورفت کیلئے کھولنے کے لیے کافی نہیں ہوگا۔ دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے کہا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں ایک اور بحری جہاز کو نشانہ بنایا ہے ۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران اور عمان آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کیلئے ایک نئے راستے کے حوالے سے معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں، تاہم آبنائے کو دوبارہ کھولنے کا انحصار دیگر شرائط پر بھی ہوگا، جن میں امریکا کی جانب سے ایران کو معاوضے کی ادائیگی بھی شامل ہے۔

عراقچی نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری ٹریفک کیلئے پہلے سے موجود راستوں کی تقسیم کا نظام اب تہران کیلئے قابل قبول نہیں ہے ۔ ایران اور عمان ایک عارضی بحری راستے پر بات چیت کر رہے ہیں، جبکہ مستقل راستے سے متعلق تکنیکی اور قانونی معاملات حل کیے جا رہے ہیں۔ایران کی اعلیٰ ترین قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری باقر ذوالقدر نے دیگر مطالبات بھی پیش کیے ، جن میں ایران کے خلاف امریکی دھمکیوں کا خاتمہ، ایران اور اس کے لبنانی، فلسطینی، یمنی اور عراقی اتحادیوں کے خلاف جارحیت روکنا، ایران پر عائد ناکہ بندی اور پابندیاں ختم کرنا اور ایرانی اثاثے بحال کرنا شامل ہیں۔ایران کے پاسداران انقلاب نے بھی ہفتے کے روز کہا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا انحصار واشنگٹن کی جانب سے ایران کی شرائط تسلیم کرنے پر ہے اور اس کا ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات سے کوئی تعلق نہیں۔

پاسداران انقلاب کے ترجمان حسین محبی نے کہا:جب بھی امریکا ایران کی شرائط قبول کرے گا، آبنائے ہرمز یقیناً دوبارہ کھول دی جائے گی۔عمان نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر بار بار ہونے والے حملوں کی مذمت کی، تاہم ان حملوں کا ذمہ دار کسی کو قرار نہیں دیا۔ عمان نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری آمدورفت کے انتظامات کے حوالے سے ایران کے ساتھ مذاکرات ‘‘مثبت اور تعمیری’’ ہیں۔عمان کی وزارت خارجہ نے کہا:عمان اس بات کی اہمیت پر زور دیتا ہے کہ ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کیا جائے جو ان مذاکرات اور حاصل ہونے والی پیش رفت کو متاثر کر سکتا ہو، اور تمام فریقوں کے مفادات کو مدنظر رکھا جائے ۔ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ان کے خیال میں معاہدے کیلئے موجودہ وقت بہترین ہے۔

انہوں نے کہا ملک میں یکجہتی، طاقت اور اتحاد موجود ہے اور جہاں تک میں جانتا ہوں، ایران اس جنگ میں فاتح اور طاقتور سمجھا جاتا ہے ۔امریکی عہدیدار نے جمعے کو رائٹرز کو بتایا:جیسے ہی تجارتی بحری جہازوں کی بلا رکاوٹ آمدورفت بحال کرنے کے معاہدے کا اعلان ہوگا، امریکا ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کر دے گا۔انہوں نے کہا امریکی اقدامات کا انحصار ایران کی جانب سے اپنی ذمہ داریوں پر عمل درآمد سے ہوگا۔متحدہ عرب امارات نے ہفتے کے روز کہا کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے دوران اس کی سرکاری تیل کمپنی سے وابستہ ایک بحری جہاز کو میزائل سے نشانہ بنایا، تاہم کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے ۔ یہ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر حملوں کے سلسلے میں تازہ ترین اضافہ ہے ۔برطانیہ کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز ادارے (یو کے ایم ٹی او )نے کہا کہ ایک بحری جہاز نامعلوم چیز سے ٹکرانے کے بعد آگ کی لپیٹ میں آگیا تھا، تاہم آگ بجھا دی گئی اور ماحول کو نقصان پہنچنے کی کوئی اطلاع نہیں ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...