حوثیوں کی کارروائی سہ فریقی اتحاد کیلئے پہلا چیلنج
پاکستان دفاعی معاہدے کو ایران مخالف اتحاد بننے سے روکے گا
(تجزیہ:سلمان غنی)
پاکستان ،سعودیہ اور ترکیہ کے درمیان دفاعی معاہدہ پر عالم کفر خصوصاً اسرائیل اور بھارت کی پریشانی تو سمجھ آتی ہے مگر عالم اسلام کے رکن ملک ایران کے تحفظات سمجھ سے بالاتر ہیں کہ یہ یہی رکن ممالک تھے جنہوں نے ایران پر اسرائیلی اور امریکی جارحیت پر اس کی مذمت بھی کی اور اس کے بعد جنگ بندی کرانے اور انہیں مذاکرات کی میز پر لانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ امریکا ایران جنگ میں عالم اسلام کے جذبات امریکا مخالفت میں ایران کے ساتھ رہے مگر ایران یہ نہ سمجھ پایا کہ عالم اسلام میں ایران کی حالیہ حمایت اس کے ماضی اور اس کے تاریخ میں محفوظ کردار پر نہیں بلکہ امریکا مخالفت پر تھی اور ہے ۔مگر اب مکہ دفاعی معاہدہ پر ایران کے بعض ذمہ داران کے بیانات کہ یہ کاغذی معاہدہ سعودی عرب کی حفاظت نہیں کر پائے گا عالم اسلام کے حوالے سے پریشان کن ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ جس معاہدے کو ایران کاغذی قرار دے رہا ہے تینوں ممالک کیسے لیں گے اور سوال یہ بھی اٹھے گا کہ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف کارروائیوں کی ایران کیسے حمایت کرے گا اور پاکستان اور ترکیہ اس میں سعودی عرب کی حمایت میں کیا قدم اٹھائیں گے یہ اس اتحاد کا پہلا چیلنج ہو گا ۔حقائق کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان سعودیہ اور ترکیہ نے امریکا کی ایران کے خلاف جارحیت کے عمل میں امریکا کی حمایت نہیں کی اور ہر بار جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلا ف سخت ترین کارروائی کی دھمکی دی تو یہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان تھے جنھوں نے امریکا کو کسی حتمی کارروائی سے باز رکھنے میں بنیادی کردار ادا کیا اور پاکستان نے مفاہمتی عمل کی بحالی کے لئے دوست ممالک سے مل کر زور لگایا اور لگا رہا ہے ،ویسے بھی دیکھا جائے تو سعودی عرب اور ایران کے تعلقات میں جو حالیہ برسوں میں بہتری آئی اس میں سب سے نمایاں کردار پاکستان کا رہا اور اب بھی پاکستان سعودیہ اور ترکیہ کے ساتھ اس معاہدے کو کسی طرح ایران مخالف اتحاد بننے سے روکے گا اور دیگر دو اراکین بھی ایسا نہیں چاہیں گے۔
ویسے بھی پاکستان ایران کا ہمسایہ ہے اور سعودی عرب کا شراکت دار بھی ۔ہو سکتا ہے کہ تہران کو تشویش ہو کہ پاکستان کی سعودی عرب سے وابستگی ایران کے ساتھ اسکے روایتی تعلقات کو متاثر نہ کردے ۔ ایران کا مسئلہ یہ ہے کہ ایران ہر نئے دفاعی اتحاد کو زیادہ حساس نظروں سے دیکھتا ہے اور خصوصاً اس کی اس شق کو کہ کسی ایک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور ہو گا، تہران اسے محض تربیتی یا دفاعی تعاون کی بجائے ایک نسبتاً مضبوط سکیورٹی کمٹمنٹ کے طور پر دیکھتا ہے لیکن ایران ان تحفظات کے ساتھ پاکستان سمیت مسلم ممالک کے اس کردار کو بھول جاتا ہے جو امریکی جارحیت کے خلا ف سب نے ملکر ادا کیا اور دنیا میں یہ پیغام گیا کہ تمام تر تحفظات کے باوجود امریکا کے خلاف امت مسلمہ نے ایران کا ساتھ دیا ہے اور ایرانی لیڈر شپ اس ضمن میں پاکستان اور دیگر مسلم ممالک کے کردار کو سراہتی رہی ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اگر مکہ امن اتحاد پر تحفظات ظاہر کرے گا تو آنے والے حالات میں اس کی خطے میں تنہائی بڑھے گی جس کا خود ایران متحمل نہیں ہو سکتا ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments