حوثیوں کا سعودی ریفائنری پر ڈرون حملہ،جنگ کے بجائے ایران پر معاشی دباؤ بڑھانا ترجیح:ٹرمپ

حوثیوں  کا  سعودی  ریفائنری  پر ڈرون  حملہ،جنگ کے بجائے ایران پر معاشی  دباؤ بڑھانا ترجیح:ٹرمپ

ایران کے پاس فوج کی تنخواہ کیلئے رقم نہیں، فی الحال محتاط رویہ ،محدود مذاکرات جاری :امریکی صدر ،ٹرمپ نے ایران معاملے کو شطرنج کی بساط قرار دیا اسلام آبادمعاہدہ پر عملدرآمدتک امریکا کیساتھ مذاکرات نہیں ہونگے ، صرف پیغامات کا تبادلہ جاری،آبنائے ہرمزکھولنے کیلئے شرائط مانناہوں گی:ایرانی وزیرخارجہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صدرمسعود پزشکیان سے ملاقات،جنگ ومعاشی چیلنجزپرگفتگو،امریکاکامذاکرات پرمجبورہونا ہماری سفارتکاری کی کامیابی ہے :ایرانی صدر

تہران،صنعا،ریاض،واشنگٹن(نیوز ایجنسیاں،  مانیٹرنگ ڈیسک)یمن کے حوثی باغیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے سعودی عرب کے شہرجازان میں واقع آرامکو ریفائنری کو ایک ڈرون حملے کے ذریعے نشانہ بنایا ہے ۔حوثی فوجی ترجمان یحیی سریع نے کہا کہ یہ حملہ سعودی ڈرون حملے اور صعدہ اور حجہ صوبوں کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کے جواب میں کیا گیا۔اتوار کو سعودی وزارت توانائی نے اعلان کیا تھا کہ آرامکو کی صنعتی سکیورٹی ٹیموں نے ریفائنری میں لگنے والی آگ پر قابو پا لیا ہے ۔سعودی حکام کے مطابق واقعے کی وجہ جاننے کیلئے تحقیقات جاری ہیں۔حوثیوں نے 27 جولائی کو بھی اسی ریفائنری پر حملہ کیا تھا ۔امریکی صدر ٹرمپ نے کہاہے کہ ہم ایران کے معاملے میں فی الحال محتاط انداز اختیار کر رہے ہیں،مزید فوجی کارروائی کے بجائے تہران پر معاشی دباؤ بڑھانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

ایگزیوس کو انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران میں مہنگائی بہت زیادہ ہے اور ان کے پاس پیسہ نہیں ہے ، اپنی فوج کو تنخواہیں دینے کیلئے بھی اس کے پاس رقم نہیں،ہم ایران کے ساتھ صرف محدود سطح پر مذاکرات کر رہے ہیں، سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا، ہمیشہ ٹھیک ہو جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تیل کی قیمتیں کم ہونے سے امریکی صارفین پر جنگ کے اثرات بھی کم ہوگئے ہیں۔ ٹرمپ نے ایران سے معاملے کو شطرنج کی بساط قرار دیا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے متعلق عمان کے ساتھ مذاکرات آخری مرحلے میں ہیں، اس وقت ایران اور امریکاکے درمیان کوئی براہ راست مذاکرات نہیں ہو رہے ۔ جب تک واشنگٹن جون میں طے پانے والے اسلام آباد عبوری معاہدے کی خلاف ورزی کرتا رہے گا تہران مذاکرات شروع نہیں کرے گا، تاہم ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے ۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اتوار کو تصدیق کی ہے کہ امریکا کی جانب سے ایران کی تمام شرائط تسلیم کیے جانے تک تہران آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہیں کھولے گا۔پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان حسین محیبی نے سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہماری موجودہ حکمت عملی یہ ہے کہ دشمن کی جانب سے ہماری تمام شرائط تسلیم کیے جانے تک آبنائے پر کنٹرول برقرار رکھا جائے ۔

آبنائے ہرمز اب ہمارے لیے محض ایک آبی گزرگاہ نہیں رہی بلکہ عملاً میدان جنگ بن چکی ہے ۔یہ بیانات ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محمد باقر ذوالقدر کی جانب سے واشنگٹن کیلئے شرائط عائد کیے جانے کے ایک روز بعد سامنے آئے ہیں۔ذوالقدر نے کہا تھا کہ امریکا لبنان، فلسطین، یمن اور عراق میں ایران کے اتحادیوں کے خلاف اپنی کارروائیاں ختم کرے ، ایران کی بحری ناکہ بندی اٹھائے ، ایران کے قرب و جوار سے اپنی بحری اور فضائی افواج واپس بلائے اور ایرانی عوام پر عائد غیر منصفانہ اور غیر قانونی پابندیاں ختم کرے ۔ ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اپنے صدارتی دور کے تیسرے سال کے آغاز پر ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کی ہے ۔ملاقات میں ملک کو درپیش مسائل، عوام کی روزمرہ ضروریات پوری کرنے پر بات چیت کی گئی۔ملاقات کے دوران جنگ کی موجودہ صورتحال اور مستقبل میں درپیش چیلنجز کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس کے علاوہ فوجی پیش رفت، ملک کے مالی اور زرمبادلہ کے وسائل کو متحرک کرنے ، اخراجات کے انتظام، توانائی اور دیگر ممالک کے ساتھ اقتصادی تعلقات سے متعلق امور بھی زیرِ بحث آئے ۔تہران میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ امریکا تہران کے ساتھ مذاکرات اور مفاہمت کیلئے مجبور ہوا ہے جو ہماری سفارتکاری کی کامیابی ہے اور یہی وہ وقت ہے جب کسی معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں۔ امریکا اسلام آباد مفاہمتی یادداشت اور ایران و عمان کی جانب سے مشترکہ تیار کردہ نکات پر عمل کرنے کا پابند تھا مگر واشنگٹن نے ایسا نہیں کیا اسی لیے ہمیں اپنا ردعمل دینا پڑا۔ایرانی صدر نے کہا امریکا کے خلاف ہماری پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے ۔

امریکا اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ جنگ کے ذریعے تہران کو جھکنے پر مجبور نہیں کر سکا ۔ایران کی بری فوج کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی جہانشاہی نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ اگر کسی بھی امریکی فوجی نے ایرانی سرزمین پر قدم رکھا تو اسے زندہ نہیں چھوڑا جائے گا۔دشمن کی کسی بھی کارروائی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ایرانی زمینی افواج مکمل جنگی تیاری کی حالت میں ہیں اور ملک کی سرحدوں پر مسلسل نگرانی جاری ہے ۔برطانوی میڈیا کے مطابق ایران کی شرائط سے فوری معاہدے کی امیدیں ماند پڑ گئی ہیں، محمد باقر ذوالقدر کی جانب سے پیش کی گئی شرائط دراصل انہی شرائط کی تکرار ہیں جو جون میں ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والے فریم ورک معاہدے میں شامل تھیں۔ تاہم اب ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری نے انہیں آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی اور معمول کے مطابق کھولے جانے کیلئے پیشگی شرط کے طور پر پیش کیا ہے ،اگر ان بیانات کو ایران کے حتمی مؤقف کی عکاسی سمجھا جائے تو یہ اس امید کو مزید کمزور کر سکتے ہیں جسے ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے ساتھ جلد معاہدہ ہونے کے حوالے سے ابھارا تھا۔ایران کی فارنزک میڈیسن آرگنائزیشن کے سربراہ کا کہنا ہے کہ 40 روزہ جنگ میں3ہزار 519 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس تعداد میں حالیہ ہفتوں کے دوران خصوصاً جنوبی ایران میں امریکاکے ساتھ جھڑپوں میں جاں بحق ہونے والے افراد شامل نہیں ہیں۔ان کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں تقریباً 3 ہزار مرد اور 500 خواتین شامل ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ جاں بحق ہونیوالوں میں 270 طلبا بھی شامل تھے جن میں اکثریت میناب کے شجرئہ طیبہ سکول کے طلبا کی تھی جو ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملے کے پہلے روز مارے گئے ۔جاں بحق ہونے والوں میں 38 بچے ایسے تھے جن کی عمر 5 سال سے کم تھی۔

رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ جاں بحق ہونیوالوں میں کتنے فوجی اہلکار شامل تھے ۔امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے ایران کے جوہری پروگرام کو تباہ کر دیا ہے اور اس کی روایتی عسکری صلاحیتوں کو بھی ختم کر دیا ہے ۔فاکس نیوز کو دئیے گئے انٹرویو میں جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ امریکا نے ایران کی غیر روایتی عسکری صلاحیت بھی شدید کم کر دی ہے ۔ واشنگٹن اس بات کا جائزہ لے رہا ہے کہ آیا ایران ایسی طویل مدتی تبدیلیاں کرنے کیلئے تیار ہے جن کے نتیجے میں امریکا کے ساتھ تعلقات بہتر ہو سکیں۔انہوں نے کہا کہ اگر ایران ایسی تبدیلیاں کرنے پر آمادہ نہیں ہوا تو امریکا دباؤ ڈالنے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ادھر پینٹاگون نے دفاعی صنعتوں کو ہتھیاروں کی پیداوار کو تیز کرنے کیلئے 21 دن کی مہلت دے دی ۔واشنگٹن پوسٹ نے محکمہ دفاع کے ایک میمو کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ پینٹاگون نے امریکی دفاعی صنعت کے رہنماؤں سے کہا کہ وہ ہتھیاروں کی پیداوار اور ترسیل کو بڑھانے کے منصوبے تیار کریں کیونکہ اسلحے کی قلت کی خبریں پھیل رہی ہیں۔میمو کے مطابق ڈپٹی ڈیفنس سیکرٹری سٹیو فینبرگ نے لکھا کہ لیڈروں کے پاس نمایاں طور پر تیز رفتار، زیادہ جارحانہ ترسیل کے نظام الاوقات اور اہم صلاحیتوں کے ہتھیاروں کی پیداوار میں اضافے کے منصوبے پیش کرنے کیلئے 21 دن سے زیادہ کا وقت نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ سالوں کے ترقیاتی منصوبے قابل قبول نہیں ہیں۔ ہمیں اپنے پروگرام کے نظام الاوقات کو ڈرامائی طور پر تیز کرنا چاہیے اور اب اپنی ہتھیاروں کی پیداواری صلاحیت کو بڑھانا چاہیے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...