لانگ مارچ روکنے کا اختیار صرف عمران کے پاس :آفریدی
مارچ ون ڈے ایونٹ نہیں، 20 لاکھ افراد کی شرکت متوقع، خود قیادت کروں گا پی پی اپوزیشن اتحاد کا حصہ بن جائے تو ساتھ کام کرنے کو تیار :وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا
اسلام آباد(نیوزایجنسیاں ، مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ 27 ستمبرکو ہونے والا لانگ مارچ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی، ان سے ملاقات اور علاج کی سہولت فراہم کرنے کے مطالبات کے لیے ہوگا، مارچ میں 20 لاکھ افراد کی شرکت متوقع ہے ، لانگ مارچ کوخود لیڈ کر وں گا، یہ ون ڈے ایونٹ نہیں ہوگا، لانگ مارچ شروع ہونے کے بعد اسے ختم کرنے یا روکنے کا اختیار صرف عمران خان کے پاس ہوگا،کے پی ہاؤس اسلام آباد میں صحافیوں سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر ان کی بات کو یہ سمجھا گیا کہ لانگ مارچ کا مقصد عمران خان کی رہائی نہیں بلکہ صرف ان تک رسائی حاصل کرنا ہے تو ممکن ہے وہ اپنی بات درست طور پر سمجھانے میں کامیاب نہ ہوئے ہوں، مارچ کا مقصد عمران خان کی رہائی، ملاقات اور علاج ہے ۔ ایک مرتبہ لانگ مارچ شروع ہوگیا تو اسے کنٹرول کرنا یا ختم کرنا صرف عمران خان کے ہاتھ میں ہوگا، اگر عمران خان احتجاج ختم کرنے کی ہدایت دیں گے تو اسے ختم کردیا جائے گا، بصورت دیگر کارکن اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔
اس معاملے میں واپسی کا راستہ نہیں ہے اور تحریک کسی ایک فرد کی گرفتاری یا عدم موجودگی سے ختم نہیں ہوگی۔ اگر انہیں گرفتار کیا جاتا ہے یا کوئی ناخوشگوار صورتحال پیش آتی ہے تو انہوں نے پہلے ہی اپنا ویڈیو پیغام ریکارڈ کروا رکھا ہے ، کسی ایک شخص کے گرفتار ہونے سے احتجاج ختم نہیں ہوگا، لانگ مارچ ایک بڑی سیاسی جنگ ہے ، اس وقت جھنڈا میرے ہاتھ میں ہے ، اگر میں موجود نہ رہا تو ان کے بعد دوسرا شخص یہ ذمہ داری سنبھالے گا۔ اگر علیمہ خان مارچ کی قیادت کرتی ہیں تو اس سے اچھی کوئی بات نہیں ہوگی ،عمران خان کی صحت کے حوالے سے سوال پر سہیل آفریدی نے کہا کہ انہوں نے وفاق کی ایک اہم شخصیت سے اس بارے میں معلومات حاصل کی ہیں، جن کے مطابق عمران خان کی صحت ٹھیک ہے اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں میں صداقت نہیں۔پیپلزپارٹی اگر اپوزیشن اتحاد کا حصہ بن جائے توان کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہیں،لانگ مارچ میں شرکت کیلئے جے یوآئی ف سے بات ہورہی ہے ، نئے صوبوں کے معاملے پر غور کرسکتے ہیں لیکن موجودہ حکومت کے پاس صوبے بنانے کا مینڈیٹ نہیں ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments