دوران الیکشن آزاد کشمیر پبلک سروس کمیشن میں 7نئے ارکان کا تقرر
مظفرآباد(محمد اسلم میر)آزاد جموں و کشمیر حکومت نے عام انتخابات کے جاری عمل کے دوران آزاد کشمیر پبلک سروس کمیشن میں 7نئے ارکان کو 3 سال کی مدت کے لیے مقرر کردیا۔
جس پر اپوزیشن جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف نے وقت اور طریقہ کار پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے تقرریاں نئی حکومت پر چھوڑنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ حکومت کی جانب سے 7 ارکان کی تقرری کا باقاعدہ نوٹیفکیشن 8 اگست کو جاری کیا گیا جس کے مطابق مدحت شہزاد، منیر حسین چودھری ، ڈاکٹر لیاقت حسین، محمد زاہد خان، ڈاکٹر عبد القدوس خان، ڈاکٹر عبد الحمید اور محمد سلیم خان کو کمیشن کا رکن مقرر کیا گیا ہے ۔پبلک سروس کمیشن آزاد کشمیر میں سرکاری ملازمتوں کے لیے مسابقتی امتحانات اور بھرتیوں کے عمل کی نگرانی کرنے والا اہم آئینی ادارہ ہے ، اس لیے کمیشن کے ارکان کی تقرری کو انتظامی اور سیاسی اعتبار سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے ۔ عام انتخابات کے تیسرے مرحلے کے دوران ہونے والی ان تقرریوں نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے ، اپوزیشن جماعتوں کا مؤقف ہے کہ جب آزاد کشمیر میں انتخابی عمل جاری ہو اور عوام نئی حکومت کے انتخاب کے مرحلے میں ہوں تو اہم سرکاری اداروں میں طویل مدتی تقرریاں کرنا سیاسی اور اخلاقی طور پر مناسب نہیں۔پی ٹی آ ئی کے سینئر رہنما خواجہ فاروق احمد نے اپنے ردعمل میں کہا کہ انتخابات کے دوران اس نوعیت کے فیصلے ’’اخلاقاً مناسب نہیں‘‘ ، پبلک سروس کمیشن جیسے اہم ادارے میں نئی تقرریاں انتخابات کے بعد بننے والی حکومت پر چھوڑ دینی چاہئیں، موجودہ حکومت کو انتخابی عمل کے دوران ایسے فیصلوں سے گریز کرنا چاہیے جن کے اثرات آئندہ حکومت کے دور تک برقرار رہیں۔ حکومت کی جانب سے تاحال اپوزیشن کے اعتراضات پر کوئی تفصیلی مؤقف سامنے نہیں آیا ۔سیاسی حلقوں کے مطابق انتخابات کے نتائج اور نئی حکومت کے قیام کے بعد یہ معاملہ مزید اہمیت اختیار کرسکتا ہے ، بالخصوص اگر نئی حکومت موجودہ تقرریوں پر نظرثانی یا ان کے قانونی و انتظامی جواز کا جائزہ لینے کا فیصلہ کرتی ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments