مانع حمل منصوبے کا پی سی ون ناقص، آگاہی مہم بھی شامل نہیں تھی
پی سی ون 2019میں تیار، 2021میں منظور ، منصوبہ بندی میں خامیاں سامنے آئیں سینیٹ کمیٹی وزارت منصوبہ بندی حکام کی عدم شرکت پر برہم،تحریک استحقاق کی دھمکی
اسلام آباد (دنیا نیوز) سینیٹر قرۃ العین مری کی زیرصدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی کا اجلاس ہواجس میں وزارتِ صحت کے حکام نے مانع حمل اشیا کی فراہمی اور آبادی سے متعلق منصوبے پر بریفنگ دی۔وزارتِ صحت کے حکام کے مطابق مانع حمل اشیا کی مقدار کے تعین کے لیے پی سی ون بروقت اور سائنسی بنیادوں پر تیار نہیں کیا گیا۔ منصوبے کا پی سی ون 2019 میں تیار ہوا اور 2021 میں اس کی منظوری دی گئی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ منصوبے پر عملدرآمد کے لیے ضروری پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ موجود ہی نہیں تھاجبکہ مانیٹرنگ، جائزے اور نگرانی کا اہم جزو بھی منصوبے میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔ مانع حمل اشیا کے استعمال اور چھوٹے خاندان کے رجحان کو فروغ دینے کے لیے آگاہی مہم کا جزو بھی منصوبے میں موجود نہیں تھا۔
حکام کے مطابق منصوبے میں خامیوں کے باعث پی سی ون پر نظرثانی کا عمل جاری ہے ۔ پی سی ون کو قومی آبادی پالیسی 2025-35 کے مطابق ازسرنو ترتیب دیا جا رہا ہے جبکہ متعلقہ سٹیک ہولڈرز اور صوبوں سے مشاورت بھی جاری ہے ۔بریفنگ کے مطابق جامع میڈیا مہم کے لیے مجموعی طور پر 15 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں ۔حکام کے مطابق سوشل میڈیا مہم فیس بک، یوٹیوب، ٹک ٹاک، انسٹاگرام اور ایکس پر چلائی جائے گی جبکہ جامع میڈیا مہم میں ٹی وی، اخبارات، ریڈیو اور سوشل میڈیا کو شامل کیا گیا ہے ۔دوسری جانب کمیٹی نے وزارتِ منصوبہ بندی کے حکام کی اجلاس میں عدم شرکت پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ چیئرپرسن کمیٹی نے کہا کہ آئندہ اجلاس میں وزارتِ منصوبہ بندی کے حکام شریک نہ ہوئے تو تحریکِ استحقاق لائیں گے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments