کلائمیٹ اتھارٹی ختم کرنے پر غور، وزارتِ ہی کافی ، شیری رحمن
بجٹ کم مسائل زیادہ ، پالیسیوں پر عملدرآمد نہیں ہوتا، تقرریوں منصوبوں کی تفصیلات طلب
اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)سینیٹر شیری ر حمن کی زیر صدارت قائمہ کمیٹی موسمیاتی تبدیلی کا اجلاس ہوا جس میں کلائمیٹ اتھارٹی کی کارکردگی، وزارتِ موسمیاتی تبدیلی، ماحولیاتی منصوبوں اور پلاسٹک آلودگی کا جائزہ لیا گیا ، شیری ر حمن نے کہا کہ جب وزارت موجود ہے تو الگ اتھارٹی کی ضرورت کیا تھی، وزارت کا بجٹ کم مسائل بڑھ رہے ہیں پالیسیاں تو بن جاتی ہیں مگر ان پر عمل درآمد نہیں ہوتا ، مختلف وزارتوں میں اخراجات کے باوجود نتائج نظر نہیں آتے ، انہوں نے کہا کہ مارگلہ نیشنل پارک خطرے میں ہے ، اتھارٹی کے منصوبوں، افسران کی تقرری، اہلیت اور وزارت سے تبادلوں کی تفصیلات آئندہ اجلاس میں پیش کی جائیں ، کمیٹی نے رائے دی کہ کلائمیٹ اتھارٹی کو ختم کرنے پر غور کیا جائے۔
بشریٰ انجم نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی ایک تکنیکی شعبہ ہے جس کے لئے ماہر اور نوجوان افراد درکار ہیں، جبکہ سینیٹر شاہزیب درانی نے سوال اٹھایا کہ اگر صوبوں سے رابطہ ہی مقصد تھا تو وزارت پہلے یہ کام کر رہی تھی، اجلاس میں جی ایل او ایف منصوبے کا آڈٹ، گلیشیئرز سے متعلق ڈیٹا، این ڈی ایم اے اور پی ایم ڈی کے اشتراک، ای پی اے کی کارکردگی اور پلاسٹک کے متبادل پر بھی غور کیا گیا۔ شیری ر حمن نے کہا کہ دنیا میں صرف 9 فیصد پلاسٹک ری سائیکل ہوتا ہے ، قانون پر سختی سے عمل کرایا جائے اور عوام کے لئے قابلِ عمل متبادل فراہم کئے جائیں ، کمیٹی نے مارگلہ نیشنل پارک، گلیشیئرز، پلاسٹک آلودگی، ماحولیاتی منصوبوں پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments