وفاق کی 6.4 ارب کٹوتی کی تجویز، پختونخوا حکومت کا انکار

وفاق کی 6.4 ارب کٹوتی کی  تجویز، پختونخوا حکومت کا انکار

پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک)خیبرپختونخوا حکومت نے وفاق کی ہدایت پر وفاقی مالیاتی منتقلی میں 6.4 ارب روپے کی کٹوتی سے انکار کردیا۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے مطابق وفاق نے بجٹ سے قبل خیبرپختونخوا سے اضافی رقم کا تقاضا کیا۔

ایف بی آر کا 15 ہزار 260 ارب کا ہدف حاصل ہونے پر پختونخوا کا حصہ 175 ارب بنتا تھا۔ اضافی رقم کی فراہمی کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور انکی اجازت سے مشروط کیا گیا تھا۔ ضم اضلاع کو 11ویں قومی مالیاتی کمیشن میں جائز حصہ دینا بھی ہماری شرط تھی۔ 6 ماہ میں حصہ نہ ملنے پر ساتویں قومی مالیاتی کمیشن کے تحت سمری اور آرڈیننس کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پراضافی رقم سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر دستخط نہیں کیے ۔ مالی سال 2026-27 کے صوبائی بجٹ میں وفاقی گرانٹ کی اضافی رقم شامل نہیں کی گئی۔ 5 اگست کو وزارت خزانہ نے پختونخوا کو واجب الادا 6.4 ارب کی براہ راست کٹوتی کی تجویز دی تاہم صوبائی حکومت نے مجوزہ کٹوتی کی نہ منظوری دی اور نہ ہی اس سے اتفاق کیا۔

محکمہ خزانہ نے 13 اگست کو خط میں کٹوتی پر عدم رضامندی واضح کردی۔ یہ معاملہ محض سیاسی اختلاف نہیں بلکہ صوبے کے آئینی اور مالیاتی حق کا معاملہ ہے ۔ آئین کا آرٹیکل 164 وفاق کو صوبے کی واجب الادا رقوم میں یکطرفہ کٹوتی کا اختیار نہیں دیتا۔ کٹوتی کیلئے واضح آئینی یا قانونی بنیاد اور صوبائی حکومت کی رضامندی ضروری ہے ۔ اکاؤنٹنٹ جنرل ریونیو کو بھی صوبائی حکومت کی واضح رضامندی کے بغیر کوئی لین دین درج یا نافذ نہ کرنے کی ہدایت کی گئی۔ پختونخوا حکومت قومی مالیاتی کمیشن کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ وفاق کو غیر منظور شدہ مفاہمتی یادداشت کی بنیاد پر یکطرفہ رقم منہا کرنے کا اختیار نہیں۔ صوبائی حکومت آئینی حقوق کے تحفظ کیلئے ہر قانونی اور آئینی راستہ اختیار کرے گی اور اپنے مالیاتی حصے کے ایک ایک روپے کا دفاع کرے گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...