کشمیر الیکشن : فارم 47 پلس کے نام سے یاد رہیں گے، شرجیل

کشمیر الیکشن : فارم 47 پلس کے نام سے یاد رہیں گے، شرجیل

مسلم لیگ ن نے ایک بار پھر تاریخی دھاندلی کے ذریعے خیراتی مینڈیٹ حاصل کیا ہے جمہوریت کے نام پر دھاندلی قبول نہیں ،نواز شریف، مریم کے بیان پرردعمل

کراچی (سٹاف رپورٹر)سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے نواز شریف اور مریم نواز کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کے انتخابات کے نتائج کو تاریخ میں ’’فارم 47 پلس‘‘کے نام سے یاد رکھا جائے گا، مسلم لیگ ن نے ایک بار پھر تاریخی دھاندلی کے ذریعے خیراتی مینڈیٹ حاصل کیا ہے، عوام نے 2024 میں بھی مسلم لیگ ن کو مسترد کیا تھا اور 2026 میں بھی اپنا فیصلہ سنا دیا ہے، جعلی مینڈیٹ کے ذریعے حکومت تو بنائی جا سکتی ہے ، لیکن عوام میں مقبولیت اور حقیقی عوامی حمایت حاصل نہیں کی جا سکتی۔

شرجیل انعام میمن نے کہا نواز شریف کا یہ کہنا کہ انہیں پیپلز پارٹی کی جانب سے شکایت کا موقع ملنے کی امید نہیں تھی، افسوسناک ہے، نواز شریف کو پیپلز پارٹی سے شکوہ کرنے سے پہلے یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ آزاد کشمیر میں سیاسی حالات کس طرح پیدا ہوئے ، پیپلز پارٹی نے ہمیشہ جمہوری اصولوں، عوامی مینڈیٹ اور سیاسی رواداری کا احترام کیا ہے، انتخابات میں ہونے والی بے ضابطگیوں کے حوالے سے سوالات اٹھیں گے تو ان پر آواز بلند کرنا ہمارا جمہوری حق ہے۔

انہوں نے کہا پیپلز پارٹی کسی سیاسی جماعت سے دشمنی نہیں چاہتی اور نہ کبھی چاہی ہے ، جمہوریت کے نام پر دھاندلی یا عوامی مینڈیٹ پر اثرانداز ہونے کو بھی قبول نہیں کیا جا سکتا، سیاسی مخالفت کو دشمنی میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے اور اس اصول پر پیپلز پارٹی آج بھی قائم ہے ، پاکستان پیپلز پارٹی کا یہی اصول تمام سیاسی جماعتوں اور حکومتوں کو بھی اپنانا ہوگا، کسی انتخابی عمل پر سنجیدہ سوالات اٹھیں تو انہیں شفاف اور غیر جانبدار طریقے سے حل کیا جانا چاہیے۔

سینئر وزیر سندھ کا کہنا تھا مریم نواز کا گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے انتخابات کا موازنہ کرنا درست نہیں، پیپلز پارٹی نے جہاں عوام کے مینڈیٹ کو تسلیم کیا وہاں انتخابی عمل پر تحفظات کے حوالے سے اپنے مؤقف کا اظہار بھی کیا،تحفظات جمہوری سیاست کا حصہ ہوتے ہیں، انہیں محض دھاندلی کا الزام قرار دے کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، پیپلز پارٹی نے ہمیشہ وفاق کی تمام اکائیوں کے حقوق، جمہوری اداروں کی مضبوطی اور ووٹ کے تقدس کی بات کی ہے ۔شرجیل میمن نے مزید کہا ہمیں سیاسی مخالفت سے کوئی مسئلہ نہیں، مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب طاقت کو عوامی مینڈیٹ کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جائے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...