محسن نقوی کو توہین عدالت کیس میں فریق کیوں نہیں بنایا؟ پی ٹی آئی کی وضاحت

محسن نقوی کو توہین عدالت  کیس میں فریق کیوں نہیں  بنایا؟ پی ٹی آئی کی وضاحت

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ عظمیٰ خان کی جانب سے عمران خان کو شفا ہسپتال منتقل نہ کرنے کیخلاف سپریم کورٹ میں دائر توہینِ عدالت کی درخواست میں وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کو فریق نہیں بنایا گیا۔۔۔

 جس پر ان کے وکیل عزیر بھنڈاری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر تفصیلات جاری کرتے ہوئے اس معاملے کی وضاحت کردی۔انہوں نے کہا توہینِ عدالت کیس میں فریقین کے انتخاب کے حوالے سے 4 اہم قانونی نکات ہیں، جن میں وفاقی وزرا اعظم نذیر تارڑ اور عطا تارڑ نے عدالتی فیصلے اور منتقلی کے معاملے پر باضابطہ بیانات دئیے تھے ، اس لیے ان کے بیانات کی روشنی میں انہیں فریق بنایا گیا، وزیراعظم شہباز شریف کو یوسف رضا گیلانی کیس میں سپریم کورٹ کے طے شدہ قانون کے تحت پارٹی بنایا گیا ہے ، جس کے مطابق اگر عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ ہو تو اس کی حتمی انتظامی ذمہ داری وزیراعظم پر عائد ہوتی ہے ۔انہوں نے کہا وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس مخصوص فیصلے سے متعلق فی الوقت کوئی براہِ راست بیان جاری نہیں کیا تھا، تاہم اگر تفتیش کے دوران مواد سامنے آیا یا عدالت نے مناسب سمجھا تو انہیں بعد میں بھی فریق بنایا جا سکتا ہے ، جب کہ 1973ء کے رولز آف بزنس کے مطابق سیکرٹری داخلہ باضابطہ طور پر داخلہ ڈویژن کا انتظامی سربراہ ہوتا ہے ، اس لیے انہیں قانونی و انتظامی ذمہ داری کی بنیاد پر کیس میں فریق بنایا گیا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...