عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے معاملے پر وکلا تنظیمون کے قائدین 2 دھڑوں میں تقسیم

عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے معاملے پر وکلا تنظیمون کے قائدین 2 دھڑوں میں تقسیم

پنجاب اسمبلی کے باہر دھرنا دینگے :صدور لاہور ہائیکورٹ بار، لاہور بار ،حکومتی اقدام ناقابل قبول:19ممبران پنجاب بار چند ارکان کا بیان ذاتی مؤقف، وکلائبرادری کا نہیں :وائس چیئرمین پنجاب بار، چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی،وائس چیئرمین پاکستان بار

لاہور ،اسلام آباد (کورٹ رپورٹر ، مانیٹرنگ ڈیسک،دنیا نیوز )پنجاب بار کونسل کے 19 ممبران نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ہسپتال منتقل نہ کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے ناقابل قبول قرار دیدیا، ادھر لاہور ہائیکورٹ بارکے صدر بابر مرتضیٰ نے ہائیکورٹ بار میں سینیٹر حامد خان ،بانی پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدراور صدر لاہور بار عرفان حیات باجوہ کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا ہے کہ اگر اب عدالتی فیصلے کی خلاف ورزی ہوئی تو پنجاب اسمبلی کے باہر دھرنا دینگے ۔دوسری طرف پنجاب بار کے وائس چیئرمین چودھری قمر نذیر ، ایگزیکٹو کمیٹی پنجاب بار کے چیئرمین ارشد علی مجید ،پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین پیر مسعود چشتی نے کہا ہے کہ چند ارکان کے بیانات کو پاکستان کی پوری وکلاء برادری یا پاکستان بار،پنجاب بار کا متفقہ اور اجتماعی مؤقف قرار نہیں دیا جا سکتا ،بار کونسلز کوذاتی ایجنڈوں سے بالاتر رہنا چاہیے ۔تفصیلات کے مطابق پنجاب بار کونسل کے 19 ممبران سہیل مرشد، میاں یاسر صدیق، زبیر کسانہ اور دیگر نے جاری مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود بانی پی ٹی آئی کو مطلوبہ طبی امداد فراہم نہ کرناناقابل قبول ہے ،عدالتی حکم پر من و عن عملدرآمد ہونا چاہیے ، حکومت آئین اور عدالتی احکامات کی پاسداری کو یقینی بنائے۔

انہوں نے چیف جسٹس سے مطالبہ کیا کہ معاملے کا ازخود نوٹس لیں اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے ۔دریں اثناء لاہور ہائیکورٹ بار میں پریس کانفرنس سے خطاب میں صدر لاہور ہائیکورٹ بار بابر مرتضیٰ نے مزید کہا کہ حکومت کا بانی پی ٹی آئی کو علاج کی سہولیات فراہم نہ کر نا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے ، عدالت نے بانی پی ٹی آئی کا شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں چیک اپ کا حکم دیا،حکومت نے جان بوجھ کر عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی، سپریم کورٹ حکومت کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کرے ۔ سینیٹر حامد خان نے کہا کہ ملک میں کٹھ پتلیوں کے ذریعے نظام چلایا جارہا ہے ، خدشہ ہے بانی پی ٹی آئی کو مصر کے وزیراعظم ڈاکٹرمرسی کی طرح مار دیا جائے گا ، سپریم کورٹ کے واضح حکم کونہ ماننا توہین عدالت ہے ۔

بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ ہم ریلیف نہیں صرف شفافیت مانگ رہے ، اگر آپ بانی کا علاج نہیں کراسکتے تو پھر ان کے کیسز سماعت کیلئے مقرر کر کے میرٹ پر فیصلہ کردیں ۔عرفان حیات باجوہ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے معاملے پر سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کیا جائے ۔دوسری جانب پنجاب بار کونسل کے وائس چیئرمین چودھری قمر نذیر احمد سامی ، ایگزیکٹو کمیٹی پنجاب بار کے چیئرمین ارشد علی مجید نے جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ پاکستان بار اور پنجاب بار کے بعض اراکین کاحالیہ بیان ان کی ذاتی رائے اور موقف کی عکاسی کرتا ہے ،وکلاء برادری میں انتشار پیدا کرنے والے بیانات کی حوصلہ افزائی نہیں کی جا سکتی ،بار کے پلیٹ فارم کو کسی فرد یا گروہ کے ذاتی، سیاسی یا جماعتی مقاصد کیلئے استعمال نہیں ہونا چاہیے ۔ پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین پیر محمد مسعود چشتی نے بھی اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ کونسل کے 23 میں سے صرف 8 اراکین کاجاری بیان ان کے انفرادی خیالات کی عکاسی کرتا ہے ، اسے پاکستان بار کا اجتماعی مؤقف قرار نہیں دیا جا سکتا ،8 اراکین کے بیانات کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے لاہور ہائیکورٹ بار کے جاری بیان سے بھی لاتعلقی کا اظہار کرتے اس کی شدید مذمت کی اور کہا کہ مذکورہ بیانات وکلاء برادری یا پاکستان بار کے اجتماعی مؤقف، پالیسی یا خیالات کی نمائندگی نہیں کرتے ،پاکستان بار کونسل کے وقار اور ادارہ جاتی خودمختاری کا تحفظ تمام اراکین کی ذمہ داری ہے۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...