میر رضا قتل:تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن قائم، نوٹیفکیشن جاری
جسٹس عمر سیال سربراہ مقرر، سندھ حکومت نے ٹی او آرز بھی طے کر دئیے گئے کمیشن 30 دن میں رپورٹ پیش کریگا، اہلخانہ کو مطمئن کرنا ترجیح، مرتضیٰ وہاب
کراچی (سٹاف رپورٹر)سندھ حکومت نے میر رضا علی کے قتل کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن قائم کردیا، محکمہ داخلہ سندھ نے کمیشن کی تشکیل کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق سندھ ٹربیونلز آف انکوائری آرڈیننس 1969 کے تحت سندھ ہائیکورٹ کی نامزدگی پر جسٹس عمر سیال کو سنگل ممبر کمیشن کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے ۔نوٹیفکیشن کے مطابق کمیشن میر رضا علی ولد میر حسین علی کی موت کے حالات کا جائزہ لے گا، گواہوں کو طلب، حلف پر بیانات ریکارڈ اور دستاویزات طلب کرسکے گا، جبکہ تمام سرکاری اداروں کو کمیشن سے مکمل تعاون کی ہدایت کی گئی ہے ۔ سندھ حکومت نے کمیشن کیلئے ٹی او آرز بھی طے کردیئے ہیں۔میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے پریس کانفرنس میں کہا کہ جوڈیشل کمیشن 30 دن میں رپورٹ پیش کرے گا، حکومت کی اولین ترجیح مقتول کے اہلخانہ کو مطمئن کرنا ہے ، جو بھی مجرم ہوا اسے سزا ضرور ملنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ 9 اگست کو کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا گیا تھا تاہم میر رضا کی والدہ کی درخواست پر اسے مؤخر کردیا گیا، بعدازاں 19 اگست کو مقتول کے وکیل نے وزیراعلیٰ کو خط لکھا کہ وزیر داخلہ اور آئی جی سندھ مکمل طور پر ناکام ہوچکے ہیں، جس پر 21 اگست کو اجلاس بلایا گیا اور معاملہ جوڈیشل کمیشن کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ پولیس اور تحقیقاتی ادارے کمیشن کی معاونت کریں گے ، تحقیقات میں جہاں بھی کوتاہی ہوئی کارروائی کی جائے گی۔ اہلخانہ کی درخواست پر پنجاب فارنزک لیبارٹری سے تین اشیا کا معائنہ کرایا جارہا ہے جبکہ سم کارڈز، آئی واچ اور موبائل فون کی رپورٹس جلد متوقع ہیں۔ ایپل اور میٹا سے ڈیٹا حاصل کرنے کیلئے ڈی آئی جی عامر فاروقی نے رابطہ کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ عامر فاروقی کی سربراہی میں تفتیشی ٹیم کام کررہی ہے ، جبکہ اہلخانہ کے وکیل کی درخواست پر سراج لاشاری کا نام بھی ٹیم میں شامل کیا گیا ہے ۔ انصاف کیلئے تمام حقائق سامنے لانا ضروری ہے اور حکومت میر رضا کے اہلخانہ کو انصاف کی فراہمی کیلئے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments