عمران خان کی ہسپتال منتقلی، کیا حکومت مشکل میں پڑیگی؟
کوئی اسلام آباد ہجوم پہنچنے نہیں دے گا، 27ستمبر سے قبل ریلیف ملنے کاامکان
تجزیہ: سلمان غنی
بانی پی ٹی آئی کو عدالتی احکامات کے باوجود شفا ہسپتال کے بجائے پمز ہسپتال لے جانے کے معاملے پر حکومت اور پی ٹی آئی عدالت عظمیٰ سے رجوع کرچکے ہیں اوراس حوالے سے حتمی فیصلہ تو سپریم کورٹ ہی کرے گی، البتہ مذکورہ عمل کے براہ راست اثرات پاکستان کی سیاست پر نظر آ رہے ہیں،حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ، پی ٹی آئی عدالت عظمیٰ سے اپنی توقعات کے ساتھ 27 ستمبر کی اپنی کال پر سنجیدگی سے تیاریاں کرتی دکھائی دے رہی ہیں اور اب انہیں ایوان کی حد تک جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی تائید بھی حاصل ہو چکی ہے جو پی ٹی آئی سے ایک ہاتھ آگے پارلیمنٹ کی بالادستی کے نام پر حکومت اور ریاست کے سامنے چارج شیٹ پیش کرتے نظر آ رہے ہیں،ظاہر یہی ہوتا ہے کہ وہ 27 ستمبر کی کال کی حمایت نہیں کریں گے لیکن خود کو اپوزیشن لیڈر کے طور پر منوانے کی پوری کوشش جاری رکھیں گے ۔عمومی رائے یہ بن رہی ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی جیل واپسی مسئلہ کا حل یا اختتام نہیں،اگر سیاسی رابطہ بحال نہ ہوا تو یہ تنازع ایک نئے اور زیادہ طویل مرحلے میں داخل ہوسکتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ معاملہ آگے بڑھ کر کہیں حکومت کیلئے مشکلات کا باعث تو نہیں بنے گا۔ بظاہر حکومت کو کوئی خطرہ تو نظر نہیں آ رہا لیکن اگر حقیقت حال پر توجہ مرکوز کی جائے تو مذکورہ عدالتی فیصلہ سے پہلے سیاسی معاملات بہتری کی طرف جاتے محسوس ہو رہے تھے خصوصاً اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی سے حکومتی وزرا اور پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ملاقاتوں کو ڈائیلاگ کے حوالے سے مثبت لیا جا رہا تھا مگر اس پیش رفت کے باعث یہ صورتحال اچانک تعطل کا شکار ہو گئی۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ اگر حکومت بانی پی ٹی آئی کو جیل سے مقرر کردہ ہسپتال لے جاتی اور ان افراد کی نگرانی میں ٹیسٹ کروانے کی اجازت دے دیتی جن پر وہ اعتماد کرتے ہیں تو اس سے حکومت اور خصوصاً ن لیگ کو انتہائی مطلوب خیرسگالی حاصل ہو جاتی لیکن حکومت نے اسکے برخلاف فیصلہ کرکے ایک نئی صورتحال طاری کردی ہے ، حکومت کی جانب سے ایک سادہ عدالتی حکم سے انحراف نے ایک معمول کے عمل کو سیاسی بحران میں تبدیل کر دیا،ایسے میں جب حکومت ایک اہم قانون سازی پر پیش رفت کی تیاری میں ہے اور اہم اتحادی پیپلزپارٹی قانون سازی کے ایجنڈے کو ناکام بنانے اور حکومت سے رعاتیں حاصل کرنے کیلئے اپنا جھکاؤ اپوزیشن کی جانب پھیرتی نظر آرہی ہے ن لیگ تھوڑی سے فرا خ دلی کا مظاہرہ کرکے ایسا نتیجہ حاصل کرسکتی تھی۔
جس سے اس کا کوئی سیاسی سرمایہ ضائع نہ ہوتا تاہم حکومتی اقدام سے سیاسی درجہ حرارت میں کمی اور اعتماد کی فضا بننے کے حوالے سے جو امید پیدا ہوئی تھی وہ متاثر ہوئی ہے ۔جہاں تک پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کا سوال ہے تو اس کا کوئی ماحول بنتا نظر نہیں آ رہا ہے ۔ زبانی طور پر ہی وزیراعلیٰ سہیل آفریدی لانگ مارچ کے شرکا کی تعداد کو 20 لاکھ سے 40 لاکھ کرنے کے دعوے کرتے نظر آ رہے ہیں۔تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اسلام آباد ایسی صورتحال کا متحمل نہیں اور کوئی بھی کسی ہجوم کو اسلام آباد نہیں آنے دے گا۔ 27 ستمبر سے قبل ایسی کوئی پیش رفت ہوسکتی ہے جس میں بانی کیلئے کسی ریلیف کا امکان ہو کچھ حلقے تو پھر سے بانی کی ہسپتال میں شفٹنگ کا عندیہ دے رہے ہیں، حکومت اب بھی فراخ دلی کا راستہ اختیار کرکے بحرانی کیفیت سے نکل سکتی ہے خصوصاً وزیراعظم شہباز شریف جو بار بار اپوزیشن سے اچھے تعلقات کار کی بات کرتے نظر آتے ہیں وہ اس صورتحال میں کوئی حل نکال سکتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اختلاف رائے کو دشمنی نہ سمجھتے ہوئے ایک دوسرے کے سیاسی کردار کو تسلیم کیا جائے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments