لاہور ہائیکورٹ:چرس کیس میں 14سال قید،جرمانہ کالعدم
منشیات کی برآمدگی ثابت کرنا کافی نہیں،مکمل کڑی ثابت کرنا بھی لازم ہے دورانِ سماعت گواہوں کو دکھانا اور شناخت کرانا ضروری :جسٹس طارق سلیم
لاہور (کورٹ رپورٹر )لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ نے چھ کلو گرام چرس برآمدگی کے مقدمے میں سزا پانے والے ملزم ذوالفقار علی کی اپیل منظور کرتے ہوئے اسے 14 سال قید اور چار لاکھ روپے جرمانے کی سزا سے بری کردیا، عدالت نے قرار دیا ہے کہ منشیات کے مقدمات میں استغاثہ کے لیے صرف منشیات کی برآمدگی ثابت کرنا کافی نہیں بلکہ برآمد شدہ منشیات کی محفوظ تحویل، ایک مقام سے دوسرے مقام تک منتقلی اور عدالت میں پیش کیے جانے تک اس کی مکمل اور مسلسل کڑی ثابت کرنا بھی لازم ہے ۔ عدالت نے قرار دیا کہ سیل شدہ پارسل صرف عدالت میں پیش کردینا کافی نہیں ، اسے دورانِ سماعت کھول کر گواہوں کو دکھانا اور ان سے شناخت کرانا ضروری ہے، جسٹس طارق سلیم شیخ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ مادی ثبوت کی مناسب شناخت اور اس کی محفوظ تحویل کا سلسلہ محض ایک تکنیکی تقاضا نہیں بلکہ اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ پولیس کے قبضے سے جو چیز برآمد ہوئی تھی، عدالت کے سامنے بھی وہی چیز پیش کی گئی ہے اور دورانِ تحویل اس میں کسی قسم کی تبدیلی، ملاوٹ یا ردوبدل نہیں ہوا۔فیصلے کے مطابق ذوالفقار علی کے خلاف تھانہ ایئرپورٹ رحیم یار خان میں 14 نومبر 2023 کو مقدمہ درج کیا گیا تھا ۔ٹرائل کورٹ نے مقدمے کی سماعت مکمل کرنے کے بعد 3 اکتوبر 2024 کو ملزم کو منشیات کے قانون کے تحت 14 سال قید اور چار لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ ذوالفقار علی نے اس فیصلے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ بہاولپور بینچ میں اپیل دائر کی تھی۔ ملزم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ دورانِ ٹرائل برآمد شدہ منشیات کو مناسب طریقے سے کھول کر گواہوں کے سامنے پیش نہیں کیا گیا اور نہ ہی گواہوں سے اس کی باقاعدہ شناخت کرائی گئی ۔دوسری جانب ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل راؤ ریاض احمد خان نے اپیل کی مخالفت کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ استغاثہ نے ملزم کے خلاف مقدمہ شک و شبہ سے بالاتر ثابت کیا ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments