مصطفی عامر قتل :ٹرائل میں تاخیر کی وجوہات غیر تسلی بخش قرار

مصطفی عامر قتل :ٹرائل میں تاخیر کی وجوہات غیر تسلی بخش قرار

ہائیکورٹ کا ٹرائل جلد مکمل کرنیکا حکم،ملزم ارمغان،شیراز کو نوٹس،جواب طلب

کراچی (عبدالحسیب خان)سندھ ہائیکورٹ نے مصطفی عامر قتل کیس کے ٹرائل میں تاخیر کی وجوہات کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے انسداد دہشت گردی عدالت کو مقدمے کا ٹرائل قانون کے مطابق جلد مکمل کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے ملزم ارمغان اور شیراز کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 23 ستمبر کو جواب طلب کرلیا۔ ٹرائل کورٹ نے اپنی رپورٹ میں مقدمے کے ٹرائل میں تاخیر کا ذمہ دار ملزم ارمغان اور اس کے وکیل کو قرار دیا ہے ۔ سندھ ہائیکورٹ میں مقتول مصطفی عامر کی والدہ کی جانب سے ٹرائل میں تاخیر کے خلاف دائر درخواست کی سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران انسداد دہشتگردی عدالت کی جانب سے مقدمے کی پیش رفت اور ٹرائل میں تاخیر سے  متعلق تفصیلی رپورٹ سندھ ہائیکورٹ میں جمع کرائی گئی۔

انسداد دہشتگردی عدالت کی رپورٹ کے مطابق مصطفی عامر قتل کیس کا مقدمہ 26 جنوری کو انسداد دہشتگردی عدالت کو موصول ہوا، جبکہ مقدمے میں 26 فروری کو فرد جرم عائد کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق اس کے بعد 12، 30 اور 31 مارچ کو ملزم ارمغان کے وکیل خرم عباس عدالت میں پیش نہیں ہوئے ۔ بعد ازاں 2 اپریل کو پراسیکیوشن نے انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت مقدمات یکجا کرنے کی درخواست دائر کی کیونکہ ملزمان کے خلاف دیگر چار مقدمات بھی عدالت میں منتقل کیے گئے تھے ۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ 7 اپریل کو ملزم ارمغان نے عدالت پر عدم اعتماد کی درخواست دائر کی۔

اس کے بعد ملزم کی والدہ کی جانب سے بھی شکایت جمع کرائی گئی جس پر ہائیکورٹ میں رپورٹ پیش کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق ملزم ارمغان نے بعد ازاں عدالت پر عدم اعتماد کی درخواست واپس لینے کا بیان بھی جمع کرایا۔ انسداد دہشتگردی عدالت نے اپنی رپورٹ میں مؤقف اختیار کیا کہ مقدمے کے ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرائل میں تاخیر ملزم کی جانب سے ہوئی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقدمے کے ٹرائل میں تاخیر ملزم کی جانب سے ہوئی۔ مقتول مصطفی عامر کی والدہ کی جانب سے وکیل افتخار شاہ نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ملزمان کی جانب سے مختلف حیلے بہانے بنا کر مقدمے کے ٹرائل میں تاخیر کی جارہی ہے ۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ مصطفیٰ عامر قتل کیس کا ٹرائل جلد مکمل کرنے کا حکم دیا جائے۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...