’’سزائیں مل بھی جائیں ،میراپھول تونہیں کھلے گا‘‘
چار سال بعد آنگن میں پھول کھلا ، اب منو ں مٹی تلے چلا گیا:غمزدہ والدہ کی دہائی کیا شکوہ کروں اللہ کی رضا پر ماتھا ٹیک دیا، ہسپتالوں کوبہترکردیں،والد کی فریاد اربوں کہاں جاتے ؟سہولتیں درکنارعلاج بھی نہیں:والدین کی دنیانیوزسے گفتگو
اسلام آباد (دنیا نیوز)اسلام آباد کے پمز ہسپتال کی نرسری میں آتشزدگی میں معصوم نومولودوں کی موت پر ہر طرف اداسی اور غم کا راج ہے ، پمز کی نرسری میں پندرہ بچے تھے، ایک بچے کو اس کی خالہ نے بچا لیا۔راولپنڈی میں ایک بچی کے غم سے نڈھال والدین کا کہنا تھا کہ لاکھ انکوائریاں ہو جائیں بہت سوں کو سزائیں مل جائیں مگر ہمارے آنگن کا پھول نہیں کھل سکے گا۔ایک بچے کی والدہ نے کہا کہ چار سال بعد آنگن میں پھول کھلا اب منوں مٹی تلے چلا گیا، راولپنڈی میں ایک بچے کے والد نے سرکاری ہسپتالوں میں بہتر انتظامات کی فریاد کرتے ہوئے کہا کہ کیا شکوہ کروں اللہ کی رضا پر ماتھا ٹیک دیا۔راولپنڈی کے علاقے شمس آباد کے رہائشی نے دنیا نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے سب سے بڑے ہسپتال کا کچا چٹھا کھول دیا، والد کا کہنا تھا کہ منتوں مرادوں سے بیٹی ملی تین دن بعد رخصت ہو گئی، غم کا پہاڑ ہے کاٹے نہیں کٹتا۔بچی کے والد کا کہنا تھا کہ اتنی بڑی آبادی کے لئے ہسپتال بہت چھوٹا ہے سہولتیں تو درکنار علاج بھی مناسب نہیں ملتا، حکومت کا اربوں روپیہ پتہ نہیں کہاں جاتا ہے، میں اپیل کرتا ہوں اس قوم پر رحم کریں جو چلتا ہے چلنے دیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments