سانحہ پمز، سیکرٹری صحت کے بعد مزید معطلیاں ہوں گی
بدانتظامیوں کا سدباب اور وسیع پیمانے پر نظام میں تبدیلی لانا بہت بڑا چیلنج
(تجزیہ: سلمان غنی)
پمز اسلام آباد میں ہونے والی آتشزدگی سے پھول جیسے بچوں کی موت کے سانحے نے پورے ملک میں ایک تشویش اور رنج و غم کی فضا پیدا کر رکھی ہے ، وزیراعظم شہباز شریف نے مذکورہ واقعہ کے بعد ایک ہنگامی اجلاس کے ذریعے فوری طور پر وفاقی سیکرٹری صحت کو تو معطل کر دیا ہے لیکن تحقیقاتی عمل میں مجرمانہ غفلت عیاں ہوتی نظر آ رہی ہے تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی ابتدائی رپورٹ آج وزیراعظم کو پیش کرنی ہے جبکہ پانچ روز کے اندر ایک جامع رپورٹ حکومت کو پیش ہوگی ، مذکورہ واقعہ میں حکومتی و سیاسی رہنماؤں کی جانب سے بھی شدید ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے ، مذکورہ صورتحال کی روشنی میں یہ تو کہا جا سکتا ہے کہ سانحہ پمز کے باعث حکومت پر شدید دباؤ ہے اور حکومت اور متعلقہ وزارت اپنے طور پر ذمہ داری کا تعین کرنے کے لئے سرگرم عمل نظر آ رہی ہے لیکن اب تک کی معلومات سے تو ظاہر ہوتا ہے کہ معطلیوں کا عمل وسیع ہوگا لیکن یہ معطلیاں وقت کے ساتھ بحالیوں میں تبدیل ہوتی نظر آئیں گی ،اس طرح کی بدانتظامیوں کا سدباب اور وسیع پیمانے پر نظام میں تبدیلی لانا بہت بڑا چیلنج ہے ، انتظامی اصلاحات کے لئے طویل مدتی منصوبے کی کامیابی کا انحصار نافذ العمل کرنے والے اداروں کی مضبوطی اور سیاسی عزم پر ہوگا ،صوبائی حکومتیں اس ضمن میں متحرک ہوئی ہیں ،پنجاب حکومت نے فوری طور پر تمام سرکاری ہسپتالوں کو احکامات جاری کرتے ہوئے نرسری اور آئی سی یوز میں آگ پکڑنے والے آلات اور سسٹم لگانے پر کام شروع کر دیا ہے ، سندھ میں حکومت نے نجی سکولوں میں سال میں دو بار فائر ڈرل اور عملے کی تربیت لازمی قرار دی ہے ۔ پمز کے اس سانحہ کے بعد تقریباً تین سال سے پمز میں مستقل سربراہ کی تعیناتی نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں اور یہ سوالات بھی سامنے آ رہے ہیں کہ ہسپتال میں سکیورٹی کے ایس او پیز پر آخر کیونکر موثر انداز میں عمل درآمد نہیں ہوتا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments