آپ ؐ کی حیات مبارکہ ہمارے لئے ہدایت کا مکمل پیغام : وزیراعظم

 آپ ؐ کی حیات مبارکہ ہمارے لئے ہدایت کا مکمل پیغام : وزیراعظم

نئی نسل کی کردار سازی سیرت النبی ؐ کی تعلیمات کے مطابق کرنا ہوگی:خطاب وزیراعظم سے پاکستان میں سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی کی الوداعی ملاقات

 اسلام آباد (نامہ نگار،دنیا نیوز)وزیر اعظم شہباز شریف نے نبی کریم ؐکے اسوئہ حسنہ کی روشنی میں نئی نسل کے اخلاق اور شخصیت کی تعمیر کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ زندگی کا کوئی ایسا پہلو نہیں جسے آپ ؐ نے اسوئہ حسنہ سے روشن نہ کیا ہو، آپ ؐ کی حیات مبارکہ کا ہر واقعہ  ہمارے لئے ہدایت کا مکمل پیغام ہے ،اللہ تعالیٰ نے موقع دیا تو ہم نے امت مسلمہ کو متحد کرنے کی مخلصانہ کوشش کی، سعودی عرب اور ترکیہ پاکستان کے ساتھ آہنی دیوار کی طرح کھڑے ہیں، وحدت کے فروغ اور فتنہ پرور اور مفاد پرست عناصر سے عوام کو بچانے کیلئے علماء کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے یہاں 12 ربیع الاول عید میلاد النبی ؐکی مناسبت سے قومی سیرت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔کانفرنس میں وفاقی وزراء، ارکان پارلیمنٹ، غیر ملکی سفارتکاروں،علماء و مشائخ اور دیگر نے شرکت کی۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ یہ عظیم اجتماع اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ہم سب اللہ کے آخری رسول نبی کریم ؐکی رحمت کے سائے میں ایک ملت ہیں ،آپؐ کا اُمتی ہونا ہمارا ایمان ہے ،یہ حسین اتفاق ہے کہ اس سال یہ مبارک دن اگست کے مہینے میں آیا جب پاکستان قائم ہوا تو 14 اگست پر رمضان المبارک کی رحمتوں کا سایہ تھا، یہ غیبی اشارہ ہے کہ پاکستان پر اللہ تعالیٰ کا کرم اور نبی کریمؐ کی نگاہ رحمت ہے ۔

وزیراعظم نے کہا کہ علمائے کرام ہماری اخلاقی قدروں کے پاسبان ہیں ،آج ہمارے سامنے ایک اہم سوال ہے مستقبل میں ہم کیسا پاکستان دیکھنا چاہتے ہیں؟ اس کا جواب بہت سادہ ہے ہم جیسی نسل تیار کریں گے ہمارا مستقبل بھی ویسا ہی ہوگا،یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ نبی کریم ؐکے اسوئہ حسنہ کی صورت میں ہمارے پاس اخلاق کا کامل ترین نمونہ موجود ہے ، آج ہم نے اسی اسوئہ حسنہ کی روشنی میں نئی نسل کے اخلاق اور شخصیت کی تعمیر کرنی ہے ۔وزیراعظم نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ دینی مدارس میں علما کی جونئی نسل تیارہو رہی ہے وہ اخلاق و کردار میں ممتاز ہو ،ہمیں تحریک پاکستان کی روح کو کبھی فراموش نہیں کرنا چاہئے ،گزشتہ سال جب جنگ ہوئی تو پوری قوم یک جان دو قالب تھی،خلیج کی جنگ کے دوران بھی پوری قوم ایک لڑی میں پروئی ہوئی تھی۔

ختم نبوت کا مطلب بھی وحدت امت ہے اس ملک کو عظیم اور دنیا میں باوقار بنانے کیلئے تو اتحاد کو اپنانا ہوگا۔ شہباز شریف نے کہا کہ مشرق وسطیٰ ایک بڑے بحران کے دہانے پر کھڑا تھا، ہم نے ایک طرف جنگ بندی کے لیے مسلسل کوشش کی ، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سارے عرصے میں بھر پور طور پر مصروف عمل رہے الحمد للہ !ہماری یہ مشتر کہ محنت رنگ لائی اور عارضی جنگ بندی ممکن ہوئی ،ان مخلصانہ کاوشوں کا بہترین نتیجہ معاہدہ مکہ کی صورت میں ہمارے سامنے ہے ۔وزیراعظم نے کہا کہ آج پاکستان کے اندر بھی ہمیں اسی وحدت کی ضرورت ہے اس کے لیے علما کو اپنا کردار ادا کرنا ہے ،عوام کو فتنہ پرور اور مفاد پرست عناصر سے بچانا ہے جو انہیں تقسیم کرنا چاہتے ہیں ،ہمیں اپنے بچوں کو ان تمام فتنوں سے بچانا ہے ۔

دریں اثناء وزیراعظم شہباز شریف سے پاکستان میں سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی نے اپنی سفارتی ذمہ داریوں کی تکمیل پر وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں الوداعی ملاقات کی۔ وزیراعظم نے سعودی سفیر کو پاکستان میں اپنی سفارتی ذمہ داریاں کامیابی سے مکمل کرنے پر مبارکباد دی اور پاکستان اور مملکت سعودی عرب کے درمیان گہرے برادرانہ اور تزویراتی تعلقات کے مزید استحکام کے لیے ان کی نمایاں خدمات کو سراہا۔وزیراعظم نے خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے اپنی نیک تمناؤں اور صحت و تندرستی کی دعاؤں کا اظہار کیا۔ سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی نے تعاون اور مہمان نوازی پر وزیراعظم اور حکومت پاکستان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...