غفلت پر سزا کا سلسلہ ادارے کے سربراہ سے شروع ہونا چاہیے
شفا، آغا خان ، شوکت خانم کے سوا کسی ہسپتال کا عالمی معیار کانہ ہونا تشویشناک
(تجزیہ:سلمان غنی)
سانحہ پمز میں 14 بچوں کی اموات نے ملک بھر میں نفسیاتی کیفیت طاری کر رکھی ہے اور کوئی ایسا طبقہ اور گھر نہ ہوگا جس میں اس سانحہ پر افسوس نہ کیا جا رہا ہو ،یہی وجہ ہے کہ حکومت بھی دباؤ میں ہے اور خود پارلیمنٹ کے اندر بھی ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے ۔گزشتہ روز پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں مذکورہ واقعہ پر افسوس اور ذمہ داران کے خلاف ردعمل کا سلسلہ دیکھنے میں آیا، شفاف تحقیقات کے مطالبہ کے ساتھ اس پر خصوصی پارلیمانی کمیٹی بنانے کی تحاریک منظور ہوئیں۔ پمز ہسپتال کا واقعہ حکومت اور پارلیمنٹ دونوں کے لئے ٹیسٹ کیس بن گیا ہے ، اس سے قبل خود حکومت ،محکمہ صحت ،پمز ہسپتال کی جانب سے بھی کمیٹیاں بنا کر تحقیقات کا اعلان ہوا تھا ، پیپلز پارٹی مذکورہ واقعہ کی بنیاد پر حکومت پر دباؤ بڑھا رہی ہے اور اس کا مقصد ڈھکا چھپا نہیں،تاہم واقعہ اور اس پر ہونے والی تحقیقات کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرنا درست نہیں، یہ مسئلہ انسانی ہے لہٰذا انسانی بنیادوں پر ہی اس پر بات ہونی چاہئے ۔ شیری رحمن کا کہنا تھا کہ حکومتی کمیٹیوں پر اعتماد نہیں، راجہ پرویز اشرف بھی حقائق قوم کے سامنے لانے پر زور دے رہے تھے ، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی بنائی کمیٹی کی تحقیقات کی روشنی میں اقدامات عمل میں آئیں گے ، کوئی سزا سے نہیں بچ پائے گا۔
سینیٹر سعدیہ عباسی اور سلیم مانڈوی والا ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز کی نااہلی کو ٹارگٹ کرتے نظر آئے ، لہٰذا دیکھنا یہ ہوگا کہ اس واقعہ کی تحقیقات پر حکومت کیا قدم اٹھاتی ہے ۔ ویسے بھی پمز ہسپتال کے حوالہ سے عمومی رائے یہی ہے کہ فارمیسی سمیت تمام بڑے کاموں کے ٹھیکے لین دین کے بغیر نہیں ہوتے اور ان کے ڈانڈے بھی اثرورسوخ کے حامل افراد تک جا ملتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے پہلے مرحلہ میں ہی محکمہ صحت کے انتظامی سیکرٹری کو معطل کیا ،لیکن کیا وجہ ہے کہ اب تک ایگزیکٹو ڈائریکٹر اب تک اپنے عہدے پر براجمان ہیں، ان کی موجودگی میں شفاف تحقیقات کیسے ہوں گی ۔ رپورٹس میں کہا جا رہا ہے کہ بدانتظامیاں ،بے ضابطگیاں اور غفلت انتہا پر تھی اور کوئی بھی خود کو جواب دہ قرار نہیں دے پا رہا۔ جوائنٹ کمیشن انٹرنیشنل جو ہسپتالوں کے معیار کو جانچنے اور یہاں سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کا مستند ادارہ ہے۔
اس کا کہنا ہے کہ پاکستان میں صرف تین بڑے ہسپتال شفا انٹرنیشنل، آغا خان ہسپتال اور شوکت خانم اس معیار پر پورا اترتے ہیں جبکہ دیگر ہسپتالوں میں کوئی بھی اس معیار پر پورا نہیں اترتا ۔یہ تشویشناک صورتحال ہے ،اچھا ہوا کہ شفا میں رونما ہونے والے اس سانحہ کے بعد اب صوبائی حکومتیں بھی حرکت میں آ رہی ہیں۔ یہاں انتظامی ذمہ داری کا وجود اور جوابدہی کا عمل ہوتا توا یسا نہ ہوتا۔ آج بڑا سوال محض انتظامی نہیں انسانی ہے ،جس کے حوالے سے جوابدہی لازم ہے ۔ وزیر صحت مصطفی کمال کے استعفے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے ۔ پارلیمنٹ میں بھی اس کی بازگشت سننے میں آ رہی ہے ، اس ضمن میں دباؤ بڑھ رہا ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ روایتی اقدامات کی بجائے کوئی ایسی لائن ڈرا ہونی چاہئے کہ جو بھی کسی ادارے کا سربراہ بننے کا خواہشمند ہو تو اسے اس ادارے کی ساکھ کیلئے جوابدہی کا ذمہ دار بھی بنانا چاہئے ، کسی بھی غفلت پر سزا کا سلسلہ انہی سے شروع ہوگا تو پھر ایسے واقعات رونما نہ ہوں گے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments