پمز آتشزدگی:2018 سے جاری فائر سیفٹی نوٹسز کا ریکارڈ عیاں

پمز آتشزدگی:2018 سے جاری فائر سیفٹی نوٹسز کا ریکارڈ عیاں

انتباہ کے باوجود حفاظتی اقدامات نہ کئے ، انتظامیہ کو سیل کرنے کی وارننگ نومبر 2025 کو واضح کیا گیا حفاظتی اقدامات نہ کرنا دانستہ غفلت میں آتا

اسلام آباد (آن لائن) پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں حالیہ آتشزدگی کے سانحے کے بعد ہسپتال انتظامیہ کی مبینہ غفلت کا ریکارڈ سامنے آگیا۔ کیپٹل فائر سروسز کی جانب سے 2018 سے مسلسل جاری کیے گئے فائر سیفٹی نوٹسز کے ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ انتظامیہ کو بارہا انتباہات کے باوجود حفاظتی اقدامات پر مؤثر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ کیپٹل فائر سروسز نے پمز میں فائر سیفٹی نظام کی ناقص صورتحال کے حوالے سے متعدد انتباہات جاری کیے تھے ۔ پمز انتظامیہ کو پانچ لاکھ روپے جرمانے اور عمارت سیل کرنے کی وارننگ بھی دی گئی تھی۔ فائر سیفٹی ونگ نے 15 فروری 2018 کو تفصیلی فائر آڈٹ رپورٹ ارسال کرکے فوری اصلاحات کی ہدایت کی۔ اس کے بعد 17 مئی 2018 اور 2 جولائی 2019 کو فائر سیفٹی کی تعمیل اور پیشگی معائنے کے نوٹسز جاری کیے گئے ۔8 جون 2023 کو پمز کے لیے ‘‘خطرے کی تنبیہ’’ جاری کی گئی، جس میں ہنگامی راستوں کی بندش اور کھلی وائرنگ کی نشاندہی کی گئی تھی۔ 9 مئی 2024 کو پمز انتظامیہ کو فائر سیفٹی پلان اور فائر ڈرلز یقینی بنانے کے لیے تین ماہ کی حتمی مہلت دی گئی۔10 نومبر 2025 کے حتمی نوٹس میں واضح کیا گیا کہ حفاظتی اقدامات نہ کرنا دانستہ غفلت کے زمرے میں آتا ہے ۔ فائر سروسز نے خبردار کیا تھا کہ کسی بھی سانحے کی صورت میں تمام تر ذمہ داری ہسپتال انتظامیہ پر عائد ہوگی۔تمام وارننگ نوٹسز پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرز کو موصول کرائے گئے تھے ، جبکہ وزارت قومی صحت، کیڈ، ایم سی آئی اور سی ڈی اے کے اعلیٰ حکام کو بھی ان نوٹسز کی نقول ارسال کی گئی تھیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...