مکہ معاہدہ کے تحت قائم اتحاد کا آج پہلا اجلاس انتہائی اہم

مکہ معاہدہ کے تحت قائم اتحاد کا آج پہلا اجلاس انتہائی اہم

حقیقی فوجی اتحاد بننے میں اہم پیش رفت متوقع، خلیجی ممالک بھی پُرامید

(تجزیہ :سلمان غنی )

مکہ دفاعی معاہدہ کے تحت بننے والے اتحاد کا پہلا اجلاس آج پیر کو استنبول میں ہو رہا ہے جس میں پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور مسلح افواج کی لیڈرشپ شرکت کر رہی ہے ۔ پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار ، سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود استنبول پہنچ چکے ہیں ، تینوں ممالک کی فوجی قیادت کی بھی وہاں پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ اجلاس کے ایجنڈا میں عالمی سلامتی کے امور، علاقائی امن و استحکام کیلئے ممکنہ اقدامات، دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ اور مشترکہ کارروائیوں کیلئے آپریشنل ہم آہنگی کو فروغ دینا شامل ہے ۔ مذکورہ اجلاس 7 اگست کو طے پانے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کوایک غیر معمولی اہمیت کی حامل پیش رفت قرار دیتے کہا گیا تھا کہ یہ عمل خطے کو امن، استحکام سے ہمکنار کرنے کے ساتھ یہاں جاری تناؤ اور ٹکراؤ کے رجحانات کی بیخ کنی کرے گا لہٰذا اس ضمن کے پہلے اجلاس کو دفاعی اعتبار سے ایک سنجیدہ عمل قرار دینے کے ساتھ اس میں اتحادیوں میں دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ، تینوں ممالک کی افواج کے درمیان مؤثر باہمی تعاون اور دفاعی صنعت میں تعاون کو مزید گہرا کرنے پر بھی بات چیت ہو گی۔ مذکورہ اجلاس بارے یہ اطلاعات بھی ہیں کہ مصر، بنگلہ دیش سمیت بعض ممالک کی جانب سے اس اتحاد میں شمولیت کی پیشکش پر بھی غور ہو گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اجلاس میں تینوں اتحادی سر جوڑ کر علاقائی امن، استحکام اور خصوصاً ہر طرح کے خطرات، خدشات کے سدباب کیلئے مربوط حکمت عملی کا تعین کریں گے جو خطے کے مفاد اور امن کے حوالہ سے نیک فال ثابت ہو سکے گی تاہم مغربی ماہرین اسے مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی سیاست میں ٹیکٹونک شفٹ قرار دیتے نظر آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق اس دفاعی اتحاد میں پاکستان نیوکلئیر طاقت، سعودی عرب اکنامک طاقت اور ترکیہ کو جدید جنگی آلات اور خصوصاً ڈرونز کے حوالہ سے غیر معمولی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے اس بنا پر اسے نیٹو کا متبادل بھی قرار دیا جا سکتا ہے ۔ مذکورہ اتحاد کے عمل میں آنے کے بعد خلیج میں اسے اپنے تحفظ اور سلامتی کے حوالہ سے امریکا پر انحصار کم ہونے کی علامت سمجھا جا رہا ہے ،اب خلیجی ممالک سات سمندر پار دیکھنے کے بجائے اس معاہدے سے امیدیں اور توقعات لگائے نظر آ رہے ہیں ۔ جہاں تک آج کے استنبول اجلاس کے مقاصد اور نتیجہ خیزی کا سوال ہے تو اس کا اصل مقصد اگست کے مکہ مشترکہ معاہدہ کو عملی شکل دینا ہے اور توقع یہی ہے یہ اجلاس خطے میں امن و استحکام کا روڈ میپ طے کرے گا جس میں مشترکہ دفاعی حکمت عملی کے ساتھ افواج میں مکمل ہم آہنگی سر فہرست ہو گی اور دہشت گردی میں تعاون بڑھانے کی حکمت عملی طے ہو گی ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...