مہنگائی میں روز بروز اضافہ،بنیادی ضروری اشیا بھی دسترس سے باہر
پٹرولیم مصنوعات کے روزانہ کی بنیاد پر ردوبدل کے باعث اشیا کی قیمتیں غیر مستحکم،سفید پوش طبقہ کی زندگی اجیرن مرغی 650،بڑا گوشت 1800، گھی 650 ،دہی 280روپے کلو، دودھ 260روپے لٹر،ٹرانسپورٹ کرایے بھی آسمان پر
اسلام آباد (سید قیصر شاہ ) پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر ردوبدل کے باعث مہنگائی کے نہ تھمنے والے طوفان نے محدود ذرائع آمد ن رکھنے والوں اور سفید پوش طبقے کو دن میں تارے دکھا دیئے ہیں ،تنخواہ دار طبقہ کی تنخواہ تو اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مترادف بڑھی جبکہ مہنگائی کی شرح میں ہوشربا اضافے سے اشیا ئے ضروریہ کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئیں ۔ ملازم پیشہ افراد کی تنخواہ پہلے اور مہینہ بعدمیں ختم ہوتا ہے جس کے باعث یہ طبقہ شدید ذہنی کرب میں مبتلا ہے ۔ حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ اب دالیں اور موسمی سبزیاں بھی عام آدمی کی دسترس سے باہر ہوچکی ہیں۔ پھل ، گوشت چھوٹا یا بڑ ا اب خواب ہی بن کر رہ گیا ۔ ایک جانب کچن کے اخراجات پورے کرنا مشکل سے مشکل تر ہوچکے تو دوسری جانب یوٹیلیٹی بلز کی ادائیگی بھی دو دھاری تلوار بن کر سر پر لٹک رہی ہو تی ہے ۔ محدود ذرائع آمدنی میں یوٹیلیٹی بلز ادا کئے جائیں تو پھر بقیہ اخراجات کے لیے قرض کا بوجھ اٹھانا پڑتا ہے ۔ چھوٹا گوشت 2800 سے 3000 روپے ، بڑا گوشت بغیر ہڈی کے 1800 ،مرغی کا گوشت 650 روپے کلو ، پیاز 220 ،ٹماٹر 250 ،ادرک 400 ،لہسن 500 ،مٹر 450 ،بھنڈی 260 ، کریلے 220 شملہ مرچ 300 ،ٹینڈا 200،آلو 40 روپے کلو بک رہا ہے ۔
سیب گاجا درجہ اول 300 ،امرود 250 ، انگور 500 ،آ ڑ و 300 ، آلو بخارا 600، آم فجری 500 ،آم نواب پوری 600 ،کھجور ایرانی 600 روپے کلو، کیلے 200 روپے درجن فروخت کیے جا رہے ہیں جبکہ مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے خاطر خواہ انتظامات نہیں کیے جا رہے ہیں ۔ گھی درجہ اول 650 روپے کلو ، تازہ دودھ فی لٹر 260، پیکٹ کا دودھ 400 روپے لٹر اور تازہ کھلا دہی 280 روپے کلو ہو گیا ، پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں سے لے کر آن لائن سروس بھی مہنگی کر دی گئی ، ملبوسات سے لے کر شوز اور دیگر روز مرہ کا سامان بھی کم وبیش 80 فیصد مہنگا ہوگیا ۔ ڈھابے اور چھپڑ ہوٹل سے دودھ پتی 120 ،سادہ چائے 80 روپے اور 100 روپے میں دی جانے لگی ، دال سبزی سے دو روٹیوں کے ساتھ غریب کا پیٹ بھرنا بھی اب 250 سے کم میں دستیاب نہیں۔ اخراجات پورے نہ ہونے سے عام آدمی ٹیشن کا شکار ہوکر بیمار یوں میں مبتلا ہو رہا ہے جبکہ عوام کے منتخب نمائندے بھی مہنگائی کے خلاف عوام کی آواز نہیں بن رہے ، قومی اسمبلی اور سینیٹ کے تین روز قبل ملتوی ہونے والے اجلا س میں بھی واک آؤٹ اور احتجاج تو ہوتا رہا مگر مہنگائی کے خاتمے ، تنخواہ اور پنشن میں اضافہ کیلئے کوئی واک آؤٹ ہوا نہ کسی نے احتجاج کیا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments