نیپال سیلاب، ہلاکتیں 797 سے تجاوز، تبت میں نئی خطرناک لینڈ سلایئڈنگ
سرحدی علاقے میں نئی جھیل بننے لگی،مٹی اور چٹانیں کھسکنے کی نشاندہی ،ریسکیو اہلکار محفوظ مقام پر منتقل،مسلسل نگرانی 85 امریکیوں سمیت 3ہزار لاپتا،سرنگوں میں پھنسے کارکنوں کی تلاش جاری، لاشوں کی عارضی تدفین،ڈی این اے محفوظ
کٹھمنڈو،بیجنگ(اے ایف پی) نیپال اور چین میں سیلاب، کیچڑ اور ملبے کے ریلے سے کم از کم 797 افراد ہلاک ہوچکے ہیں، جبکہ 3 ہزار سے زائد افراد لاپتا ہیں۔ تباہ کن سیلاب کے بعد تقریباً 85 امریکی شہری بھی تاحال لاپتا ہیں۔امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پگٹ نے بتایا کہ 9 امریکی شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاچکا ہے اور کسی امریکی شہری کی ہلاکت کی اطلاع نہیں۔ امریکا اور کینیڈا نے 36،36 لاکھ ڈالر جبکہ برطانیہ نے 68 لاکھ ڈالر امداد دینے کا اعلان کیا ہے ۔ اقوام متحدہ نے بھی 25لاکھ ڈالر کی ہنگامی امداد جاری کردی۔ نیپال کی ڈیزاسٹر اتھارٹی کے مطابق بدھ کو آنے والے سیلاب کے بعد امدادی کارروائیاں پانچویں روز بھی جاری ہیں۔ چینی سرکاری میڈیا نے تبت میں 16 افراد کی ہلاکت اور 546 کے لاپتا ہونے کی تصدیق کی ہے ۔ نیپال اور تبت میں مجموعی ہلاکتیں 797 اور لاپتا افراد کی تعداد 3 ہزار 48 ہوگئی ہے ۔ حکام کے مطابق دور دراز اور متاثرہ علاقوں میں امدادی ٹیمیں لاپتا افراد کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔نیپالی حکام کے مطابق ہائیڈرو پاور منصوبوں کی سرنگوں میں پھنسے 100 سے زائد کارکنوں کو بچانے کیلئے امدادی کارروائیاں پانچویں روز بھی جاری رہیں۔933 ہائیڈرو پاور کارکن لاپتا ہیں۔
اپر تریشولی تھری اے منصوبے کی سرنگ میں ریسکیوئرز نے کیمرہ اور ہوا پہنچانے کی کوشش کی، تاہم اندر سے کوئی جواب نہیں ملا۔ نیپال میں سینکڑوں لاشوں کی ڈی این اے سیمپلز لینے اور شناختی ریکارڈ مرتب کرنے کے بعد عارضی تدفین شروع کردی گئی۔ وزارت خارجہ کے مطابق تدفین سے قبل ہر لاش کا ریکارڈ محفوظ کیا گیا تاکہ لواحقین بعد میں شناخت کے ذریعے لاشیں حاصل کرکے مذہبی رسومات ادا کرسکیں۔دوسری جانب چین میں تبت کے سرحدی علاقے میں خطرناک لینڈ سلائیڈنگ کے بعد ریسکیو اہلکاروں کو محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا۔ چینی سرکاری میڈیا کے مطابق 29 اگست کی شام نگرانی کرنے والے ڈرونز نے پہلے سے موجود جھیل سے تقریباً 3 کلومیٹر نیچے پہاڑی ڈھلوان پر مٹی اور چٹانیں کھسکنے کی نشاندہی کی۔ لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں نیا بند بن گیا اور نئی جھیل بننے کا عمل شروع ہوگیا ہے ۔ حکام نے ممکنہ خطرے کے پیش نظر گیارونگ سرحدی بندرگاہ کے قریب موجود امدادی اہلکاروں کو زیادہ محفوظ علاقوں میں منتقل کردیا۔ علاقے میں صورتحال کی مسلسل نگرانی جاری ہے جبکہ امدادی سرگرمیوں پر بھی نظر رکھی جارہی ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments