پمز آتشزدگی:سینیٹ کمیٹی میں سی سی ٹی وی فوٹیج پر سوالات اٹھے
ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی نے 2، 3 سال سے پمز کا دورہ نہیں کیا:حریم جدون مصطفیٰ کمال نے کہا پمز کا نظام خراب، میں کچھ نہیں کرسکتا:’’دنیا مہربخاری کیساتھ‘‘
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک)صحافی حریم جدون نے کہا ہے کہ پمز ہسپتال میں آتشزدگی کے معاملے پر سینیٹ اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں کے اجلاسوں میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ سینیٹ کمیٹی کے اجلاس میں پمز کی سی سی ٹی وی فوٹیج پر سوالات اٹھائے گئے جبکہ ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے کئی سال سے پمز کا معائنہ نہ کیے جانے کا بھی انکشاف ہوا ہے ۔دنیا نیوز کے پروگرام ’’دنیا مہربخاری کے ساتھ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے اسلام آباد سے نمائندہ دنیا نیوز حریم جدون نے بتایا کہ سینیٹ کمیٹی کا اجلاس پمز ہسپتال میں ہوا۔ ابتدا میں میڈیا کو اجلاس میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی اور اسے ان کیمرہ اجلاس قرار دیا گیا، تاہم مصطفی کمال سے رابطے کے بعد صحافیوں کو اجلاس میں شرکت کی اجازت دے دی گئی۔حریم جدون کے مطابق اجلاس میں پمز آتشزدگی کی سی سی ٹی وی فوٹیج پر سوال اٹھایا گیا کہ دکھائی جانے والی ویڈیو اصل فوٹیج نہیں بلکہ ایڈٹ شدہ ہے۔
یہ سوال سینیٹر ناصر بٹ نے اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ویڈیو میں ایسا دکھایا گیا کہ دو منٹ کے اندر سب کچھ ختم ہوگیا، حالانکہ پہلے دھواں نظر آنا، پھر آگ کا اندازہ ہونا اور اس کے بعد عملے کی کارروائی شروع ہونا چاہیے تھی۔انہوں نے بتایا کہ ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین سے متعلق سوال پر مصطفی کمال نے بتایا کہ ان سے استعفیٰ لے لیا گیا ہے ۔ کمیٹی نے قائم مقام چیف ایگزیکٹو افسر کو طلب کیا، جن سے ارکان نے مختلف سوالات کیے ۔ سینیٹر روبینہ خالد نے پوچھا کہ ایک سال کے دوران پمز کا کتنی مرتبہ دورہ کیا گیا، جس پر قائم مقام افسر نے لاعلمی کا اظہار کیا۔ حریم جدون کے مطابق قومی اسمبلی کی کمیٹی نے بھی پمز آتشزدگی کی انکوائری رپورٹ تسلیم کرنے سے انکار کیا۔ اجلاس میں سوال اٹھایا گیا کہ جولائی 2026ء میں پمز کے نرسنگ شعبے میں آگ لگنے کے واقعے سے متعلق ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے کمیٹی کو آگاہ کیوں نہیں کیا۔ ان کے مطابق مصطفی کمال اجلاس میں بے بس دکھائی دئیے اور انہوں نے کہا کہ پمز کا پورا نظام خراب ہے ، وہ کچھ نہیں کرسکتے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments