عمران پر 300مقدمات،وکلا کو ملنے کی اجازت نہیں،سلمان راجہ

عمران پر 300مقدمات،وکلا کو ملنے کی اجازت نہیں،سلمان راجہ

2دسمبر 2025سے 18اگست 2026 تک کسی بہن کو ملنے کی اجازت نہیں دی گئی

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجہ نے کہاہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فل بینچ کا مارچ 2025کا فیصلہ اور حکم موجود ہے جس میں کہا گیا تھا کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ کی ہرہفتے کم ازکم 2مرتبہ ملاقات کروائی جائے جس پر کبھی عمل نہیں ہوا،وزارتِ اطلاعات و نشریات کے مؤقف کومسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے قوانین اور بالخصوص صوبہ پنجاب کے جیل قوانین، جہاں اس وقت عمران خان قید ہیں، ایسی ملاقاتوں کی اجازت دیتے ہیں ،پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا 2 دسمبر 2025 سے لے کر 18 اگست 2026 تک، عمران خان کی کسی بہن کو ان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ 18 اگست 2026 کو سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اس پر بھی عمل نہیں ہوا، اس عرصے کے دوران عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکلا کو ان سے باقاعدہ ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ عمران خان کے خلاف تقریباً 300 مقدمات درج ہیں۔

اتنی بڑی تعداد میں مقدمات کا سامنا کرنے والے شخص کو اپنے وکلا سے مشاورت کی اجازت نہیں دی جاتی، دسمبر 2025 کے بعد صرف ایک وکیل سلمان صفدر کو سپریم کورٹ نے فروری 2026 میں بطور دوستِ عدالت عمران خان کے پاس بھیجا،یہ اجازت جیل حکام یا ریاست کی جانب سے نہیں تھی، بلکہ یہ سپریم کورٹ کا حکم تھا۔ لہٰذا وزارتِ اطلاعات کی جانب سے جاری کی گئی یہ رپورٹ جھوٹی ، حقائق کے منافی، مکمل من گھڑت بیان ہے ، مزید کہا حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ عمران خان کو ایک ایسے احاطے میں رکھا گیا ہے جس میں سات کمرے ہیں، اب سوال یہ ہے کہ یہ سات کمرے کس مقصد کے لیے ہیں؟ یہ سات کمرے انہیں جیل کے دیگر قیدیوں سے الگ تھلگ رکھنے کے لیے ہیں،یعنی بنیادی طور پر ان کے اردگرد خالی کمروں کا ایک حصار بنا دیا گیا ہے تاکہ وہ جیل کے اندر کسی دوسرے شخص سے رابطہ نہ کر سکیں۔ وہ خود صرف ایک کمرے میں رہ رہے ہیں، جس کا سائز آٹھ فٹ ضرب دس فٹ ہے ، اور ان کے پاس بس یہی جگہ ہے ،انہوں نے کہا جیل میں ایک قیدی کو عام طور پر طلوعِ آفتاب سے غروبِ آفتاب تک اپنی کوٹھڑی سے باہر رہنے کی اجازت ہوتی ہے ،عمران خان کو یہ اجازت نہیں دی جاتی۔ حقیقت میں یہ ان پر عائد ایک مزید غیر قانونی سزا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...