پنجاب اسمبلی : انسداد دہشتگردی ترمیمی بل 2026 منظور، اپوزیشن کی ترامیم مسترد
اپوزیشن کے بل کی آئینی حیثیت، خفیہ عدالتی کارروائی، ججز، پراسیکیوٹرز، وکلا ، گواہوں کی شناخت مخفی رکھنے پرتحفظات بل کا ایجنڈے پر آنا بھی آئین کے تحت درست،اپوزیشن کو کوئی اعتراض ہے تو وہ اپنی ترامیم پیش کرسکتی:سپیکرکی رولنگ
لاہور(سیاسی نمائندہ دنیا،مانیٹرنگ ڈیسک) پنجاب اسمبلی نے انسدادِ دہشت گردی (پنجاب ترمیمی)بل 2026 منظور کر لیا ہے جس کے تحت دہشت گردی سے متعلق مقدمات کی سماعت کے دوران ججز، پراسیکیوٹرز، تفتیش کاروں اور گواہوں کے تحفظ کیلئے خصوصی انتظامات اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی راہ ہموار کی گئی ہے ۔بل پارلیمانی سیکرٹری برائے پارلیمانی امور خالد محمود رانجھا نے ایوان میں پیش کیا، جبکہ اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی تمام ترامیم مسترد کر دی گئیں۔اسمبلی کارروائی کے دوران اپوزیشن کی دو ترامیم بھی منظور نہ ہو سکیں۔ اپوزیشن ارکان کے واک آؤٹ کے باعث ان ترامیم کو مسترد کیا گیا۔بل کے متن کے مطابق مجوزہ قانون کا مقصد دہشت گردی کے مقدمات میں عدالتی کارروائی کو محفوظ بنانا اور ججز، وکلا، پراسیکیوٹرز، پولیس افسران اور گواہوں کو درپیش سکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے قانونی فریم ورک کو مضبوط کرنا ہے ۔قانون کے تحت انسدادِ دہشت گردی عدالتوں کو محفوظ ٹیکنالوجی کے ذریعے مقدمات کی سماعت اور دیگر عدالتی کارروائیاں انجام دینے کا اختیار حاصل ہوگا۔ خصوصی سکیورٹی مقدمات میں ویڈیو کانفرنسنگ، الیکٹرانک لنکس اور دیگر ڈیجیٹل ذرائع استعمال کیے جا سکیں گے جبکہ عدالتی کارروائی آڈیو اور ویڈیو کی صورت میں ریکارڈ بھی کی جائے گی۔
بل میں ججز، وکلا، پراسیکیوٹرز، پولیس افسروں اور گواہوں کی شناخت خفیہ رکھنے کے لیے وائس موڈیفکیشن ٹیکنالوجی کے استعمال کی بھی تجویز دی گئی ہے ۔مجوزہ قانون کے مطابق بعض مقدمات کی سماعت محفوظ مقامات پر کی جا سکے گی اور وہاں رسائی صرف متعلقہ ججز، وکلا، پراسیکیوٹرز، گواہوں اور دیگر مجاز افراد تک محدود ہوگی۔ بل کے متن میں کہا گیا ہے کہ موجودہ قانونی فریم ورک ہائی سکیورٹی مقدمات کی محفوظ سماعت کے لیے ناکافی ہے ، اس لیے جدید تقاضوں کے مطابق نئی شقیں متعارف کرائی جا رہی ہیں۔ قانون کے تحت حکومت گریڈ 20 یا اس کے مساوی عہدے کے ایک افسر کو خصوصی سکیورٹی مقدمات کے لیے نامزد کرے گی۔ یہ افسر لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے مشاورت کے بعد اس بات کا تعین کرے گا کہ کون سے مقدمات غیر معمولی حفاظتی اقدامات کے متقاضی ہیں جبکہ اس افسر کی شناخت اور تفصیلات خفیہ رکھی جائیں گی۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب اسمبلی کا اجلاس ایک گھنٹہ 50 منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا، صدارت سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کی۔ اجلاس کے دوران محکمہ ہاؤسنگ، شہری ترقی و پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی کارکردگی، ساہیوال میں فلٹریشن پلانٹس کی صورتحال، ایل ڈی اے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور ہاؤسنگ سکیموں سمیت مختلف امور پر حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے سوالات اور اعتراضات اٹھائے ، جبکہ انسداد دہشت گردی پنجاب ترمیمی بل 2026 پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان شدید بحث ہوئی۔
اپوزیشن نے بل کی آئینی حیثیت، خفیہ عدالتی کارروائی، ججز، پراسیکیوٹرز، وکلا اور گواہوں کی شناخت مخفی رکھنے سمیت بنیادی حقوق اور شفاف ٹرائل کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا، تاہم سپیکر نے رولنگ دیتے ہوئے قرار دیا کہ بل صوبائی اسمبلی میں پیش کیا جاسکتا ہے اور اس کا ایجنڈے پر آنا بھی آئین کے تحت درست ہے ، اگر اپوزیشن کو بل پر کوئی اعتراض ہے تو وہ اپنی ترامیم پیش کرسکتی ہے ۔ اس کے بعد بل منظوری کے لیے ایوان میں پیش کردیا گیا۔ اجلاس کے دوران اپوزیشن نے دو مرتبہ کورم کی نشاندہی کی، تاہم حکومت دونوں مرتبہ کورم پورا کرنے میں کامیاب رہی۔ بعد ازاں حکومت نے اپوزیشن کی تمام ترامیم مسترد کرتے ہوئے انسداد دہشت گردی پنجاب ترمیمی بل 2026 منظور کرلیا جبکہ پنجاب جوڈیشل اکیڈمی ترمیمی بل 2026 اور ایسٹ مینجمنٹ اتھارٹی آف پنجاب بل 2026 بھی منظور کرلیے گئے ۔ اجلاس کے دوران اپوزیشن لیڈر معین ریاض قریشی نے انسداد دہشت گردی ترمیمی بل پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اینٹی ٹیررازم بل کا نام ’’بلڈوزنگ سٹیزن آف پنجاب‘‘ہونا چاہیے ۔ ایسا بل منظور ہونے کی صورت میں اسکے ذمہ دار سپیکر بھی ہونگے ۔ اس موقع پر سپیکر ملک محمد احمد خان نے کہا کہ کئی سو سالوں کا اصول ہے کہ اگر کوئی اکثریتی جماعت بل لاتی ہے تو اپوزیشن ترامیم لاتی ہے۔
جب بل قانون سازی کے لیے پیش ہوگا تو سب کو بات کرنے کی اجازت ہوگی۔ سپیکر نے واضح کیا کہ اپوزیشن کے تحفظات کا جواب انہوں نے نہیں بلکہ متعلقہ وزیر نے دینا ہے اور انہوں نے انسداد دہشت گردی ترمیمی بل کو دوبارہ سٹینڈنگ کمیٹی میں نہیں بھجوایا۔اپوزیشن رکن احمر رشید بھٹی نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ انسداد دہشت گردی ترمیمی بل 2026 کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ پنجاب میں سفاکیت اپنے عروج پر ہے ۔ انہوں نے مجوزہ قانون کا موازنہ 1909 میں برطانوی سامراج کی جانب سے امپیریل کونسل سے منظور کیے گئے قانون سے کیا اور کہا کہ 1909 میں منظور ہونے والے قانون کے خلاف قائداعظم محمد علی جناح نے تقریر کی تھی، اس لیے وہ بطور اپوزیشن رکن قائداعظم کی تقریر اس ایوان میں دہرانا چاہتے ہیں۔ پنجاب میں نئے عدالتی نظام کے نام پر خفیہ مقدمات کا راستہ کھولنے کی تیاری کی جارہی ہے اور انسداد دہشت گردی پنجاب ترمیمی بل 2026 عدالتوں میں خفیہ کارروائیوں کی راہ ہموار کرے گا۔ انہوں نے وفاقی انسداد دہشت گردی ایکٹ میں صوبائی ترمیم کے اختیار پر بھی سوالات اٹھائے اور کہا کہ بلوچستان میں اسی نوعیت کی ترمیم منظور ہونا پنجاب کے لیے آئینی جواز قرار نہیں دیا جاسکتا۔ انہوں نے مجوزہ قانون کو خفیہ مقدمہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایسا تحفہ ہے جو حکومت اگلی حکومت کے لیے چھوڑ جاتی ہے۔
بعد ازاں انہوں نے انسداد دہشت گردی ترمیمی بل 2026 کو کالا قانون قرار دیا اور کہا کہ اللہ نہ کرے آنے والے وقت میں یہ قانون سیاست دانوں اور سیاسی لوگوں کے خلاف استعمال ہو۔اپوزیشن لیڈر معین ریاض قریشی نے دوبارہ اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس بل کے ذریعے حکومت نے صرف اپنے آپ کو مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے ۔ کل کو اسی قانون کے تحت موجودہ حکمرانوں کے خلاف بھی مقدمات بن سکتے ہیں۔ انہوں نے منڈی بہاؤالدین سے ایک ایم این اے کو ان کی والدہ کے سامنے گرفتار کیے جانے کا بھی ذکر کیا۔ اجلاس کے دوران محکمہ ہاؤسنگ، شہری ترقی و پبلک ہیلتھ انجینئرنگ سے متعلق سوالات کے دوران رکن آشفہ ریاض فتیانہ نے پارلیمانی سیکرٹری ہاؤسنگ سلطان طارق باجوہ کو سوالات کی تیاری کرکے ایوان میں آنے کا مشورہ دیا۔سپیکر ملک محمد احمد خان نے بھی پارلیمانی سیکرٹری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سلطان طارق باجوہ صاحب کے پاس محکمہ کی معلومات کم ہیں، چار لائنوں کا جواب بھی کوئی جواب ہے ؟۔
ساہیوال میں فلٹریشن پلانٹس کی صورتحال پر حکومتی رکن ارشد ملک نے محکمہ کی کارکردگی پر شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ ساہیوال میں 44 فلٹریشن پلانٹس میں سے 42 فنکشنل ہی نہیں، جبکہ ان کے حلقے میں 27 میں سے 20 فلٹریشن پلانٹس بند پڑے ہیں۔ حکومتی رکن عظمیٰ کاردار نے ایل ڈی اے کے 17 سے زائد افسران کے خلاف مبینہ ترقیاتی کاموں میں خوردبرد اور مالی بے ضابطگیوں پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ حکومتی رکن امجد علی جاوید نے محکمہ لوکل گورنمنٹ کی کارکردگی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوکل گورنمنٹ نہیں لوٹ گورنمنٹ ہے ۔ ستھرا پنجاب میں کرپشن، مثالی گاؤں میں کرپشن اور بیوٹیفکیشن کے نام پر فراڈ نظر آتا ہے ۔ ایک بارش نے سب کچھ دھو دیا ہے ۔ پنجاب اسمبلی میں دی پبلک سیکٹر یونیورسٹیز (دوسری ترمیم)بل 2026 بھی پیش کردیا گیا، بل وزیر پارلیمانی امور مجتبیٰ شجاع الرحمٰن نے پیش کیا۔ اس کے علاوہ پنجاب اسمبلی نے دی پنجاب سینٹر آف ایکسیلنس آن کاؤنٹرنگ وائلنٹ ایکسٹریمزم ترمیمی بل 2026 منظور کرلیا، یہ بل بھی وزیر پارلیمانی امور مجتبیٰ شجاع الرحمٰن نے پیش کیا۔ پینل آف چیئرپرسن راجہ شوکت بھٹی نے ایجنڈا مکمل ہونے پر پنجاب اسمبلی کا اجلاس آج دوپہر دو بجے تک ملتوی کردیا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments