قیدی کو مرضی کے نجی ہسپتال منتقل ہونے کا حق نہیں :اسلام آباد ہائیکورٹ :بانی پی ٹی آئی جیسی سہولیات کیلئے 3 درخواستیں مسترد

قیدی کو مرضی کے نجی ہسپتال منتقل ہونے کا حق نہیں :اسلام آباد ہائیکورٹ :بانی پی ٹی آئی جیسی سہولیات کیلئے 3 درخواستیں  مسترد

بانی پی ٹی آئی کو شفا ہسپتال منتقل کرنیکا حوالہ دیا گیا، کیس زیر التوا، سپریم کورٹ کی 18اگست کی ہدایات عبوری نوعیت کی ہیں ہر تکنیکی سہولت کو بنیادی حق قرار نہیں دیا جا سکتا، قانوناً رابطے کا ذریعہ دستیاب ہو تو متعلقہ حکام غور کر سکتے :محفوظ فیصلہ جاری

اسلام آباد (رضوان قاضی)اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی طرح نجی ہسپتال میں علاج، بیرون ملک بھائی سے واٹس ایپ کے ذریعے بات کرانے کی سہولت کیلئے تین قیدیوں کی درخواستیں مسترد کر دیں۔ جسٹس محمد آصف نے محفوظ فیصلہ جاری کیا۔ عدالت نے تین قیدیوں کی درخواست پر الگ الگ تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ عدالت نے کہاکہ قید کا مطلب آزادی پر قانون کے مطابق پابندیاں ہیں، ہر تکنیکی سہولت کو بنیادی حق قرار نہیں دیا جا سکتا، قیدی کو اپنی مرضی کے پرائیویٹ ہسپتال میں منتقل ہونے کا بطور حق کوئی قانونی اختیار حاصل نہیں، جیل قواعد کا رول 197 ضرورت پڑنے پر قیدی کو باہر کے ہسپتال منتقل کرنے کا طریقہ کار فراہم کرتا ہے ، اگر سرکاری ہسپتال میں علاج ممکن نہ ہو تو متعلقہ حکام میڈیکل بورڈ کی سفارش پر پرائیویٹ سہولت کا جائزہ لے سکتے ہیں، دوران سماعت بانی پی ٹی آئی کو شفا ہسپتال منتقل کرنے کا حوالہ دیا گیا، سپریم کورٹ کی 18 اگست کی ہدایات عبوری نوعیت کی ہیں،حوالے کے طور پر پیش کیا گیا کیس سپریم کورٹ میں زیر التواء ہے ، عبوری حکمنامہ حتمی فیصلہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ عدالت نے بیرون ملک واٹس ایپ کے ذریعے بھائی سے بات کرانے سے متعلق قیدی اسماعیل کی درخواست مسترد کرتے ہوئے جاری فیصلے میں کہاکہ درخواست گزار 2 اگست کا آفس آرڈر غیر قانونی ثابت کرنے ، بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ثابت کرنے میں ناکام رہا، اگر قیدیوں کیلئے قانوناً واٹس ایپ، ویڈیو کال یا رابطے کا کوئی اور ذریعہ دستیاب ہو تو متعلقہ حکام اس درخواست پر غور کر سکتے ہیں۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...