پارلیمنٹ ، ایوان صدر ، وزیراعظم ہاؤس سمیت 137 عمارتیں نیشنل پارک کی حدود میں ہو نیکا انکشاف
سیکٹرایف سکس، ایف سیون اور ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کا کچھ حصہ بھی پارک میں شامل، حد بندی و مینجمنٹ کے قواعد بنانے کیلئے دو ماہ کی مہلت تباہی سر پر ،نالہ لئی پھرخبروں میں ،اسکے متبادل راستہ بارے ورکنگ ہو رہی ؟ موسمیاتی تبدیلی کے 75فیصد محکمے نجی شعبے کودیدیں:ذیلی کمیٹی
اسلام آباد (سہیل خان) پارلیمنٹ ہاؤس، ایوان صدر اور وزیراعظم ہاؤس سمیت 137 عمارتوں کی حدود نیشنل پارک میں پائی جاتی ہیں۔ یہ انکشاف پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں وزارت موسمیاتی تبدیلی کے حکام نے کیا۔ اجلاس کنوینر معین عامر پیرزادہ کی زیرصدارت ہوا جس میں مارگلہ ہلز نیشنل پارک کی مینجمنٹ اور حد بندی کے لیے قواعد نہ بنائے جانے سے متعلق آڈٹ رپورٹ پر حکام نے بتایا کہ اس حوالے سے نیا قانون آ چکا ہے ۔ کمیٹی نے استفسار کیا کہ 2024ء میں ایکٹ آنے کے باوجود اس کے قواعد کیوں نہیں بنائے گئے اور تجاوزات کو کون روکے گا؟ حکام کو قواعد بنانے کے لیے دو ماہ کا وقت دیا گیا۔ارکان کے استفسار پر وائلڈ لائف حکام نے بتایا کہ ایف 6 اور ایف 7 کا علاقہ بھی نیشنل پارک میں آتا ہے اور وہاں متعدد عمارتیں موجود ہیں۔ ون کانسٹیٹیوشن ایونیو بھی نیشنل پارک کی حدود میں شامل ہے ۔ حکام نے مزید بتایا کہ پارلیمنٹ ہاؤس کا بھی کچھ حصہ نیشنل پارک میں آتا ہے ، جبکہ مجموعی طور پر 137 عمارتیں نیشنل پارک کی حدود میں پائی جاتی ہیں۔ حکام کی رپورٹ میں مبینہ طور پر امکان ظاہر کیا گیا کہ پارلیمنٹ ہاؤس کے ساتھ ایوان صدر اور وزیراعظم ہاؤس کی حدود بھی نیشنل پارک میں موجود ہو سکتی ہیں۔ اجلاس میں حالیہ بارشوں سے ہونے والی تباہی، راولپنڈی کے زیرآب آنے اور نالہ لئی کا معاملہ بھی اٹھایا گیا۔ ارکان نے کہا کہ 200 ملی میٹر بارش ہوئی اور راولپنڈی ڈوب گیا۔
کنوینر کمیٹی معین عامر پیرزادہ نے وزارت کے حکام سے استفسار کیا کہ کیا بارش کی پیش گوئی پہلے سے کی جا سکتی ہے ؟ حکام نے بتایا کہ عالمی کنونشنز کے تحت موسمیاتی امور سے متعلق کوآرڈی نیشن کی جاتی ہے ۔موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے متعلق وزارتی ڈیٹا اکٹھا نہ کرنے کے سوال پر سیکرٹری موسمیاتی تبدیلی تسلی بخش جواب نہ دے سکے ۔ انہوں نے کہا کہ صوبوں کے ساتھ بھی رابطہ رہتا ہے ، تاہم رپورٹنگ کرنے والے اداروں میں سے کوئی بھی وزارت موسمیاتی تبدیلی کے ماتحت نہیں۔ارکان نے نالہ لئی کے حوالے سے کہا کہ بچپن سے اس کے بارے میں سنتے آ رہے ہیں، کیا اس کا کوئی متبادل راستہ بنانے یا اس حوالے سے کوئی ورکنگ کی جا رہی ہے ؟ نالہ لئی اس وقت بھی خبروں میں ہے۔ ارکان نے کہا کہ پورا سیوریج راول ڈیم میں آ رہا ہے اور جگہ جگہ آر او پلانٹس لگے ہوئے ہیں، کیا ان کا کبھی معائنہ کیا گیا ہے ؟کمیٹی نے کلین انوائرمنٹ فنڈ کی غیر فعال ہونے سے متعلق آڈٹ اعتراض کا بھی جائزہ لیا۔ ارکان نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے 75 فیصد محکمے کو نجی شعبے کے حوالے کر دیں، کیونکہ محکمے کام نہیں کر رہے اور تباہی ہمارے سر پر آ چکی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بارشوں، گرمی اور سردی کی شدت میں تبدیلی کے باعث ماحولیات کا محکمہ انتہائی اہم ہو چکا ہے تاہم مؤثر منصوبہ بندی نظر نہیں آ رہی۔ اس وقت سب سے اہم محکمہ موسمیاتی تبدیلی ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments