سروس ٹربیونل استعفے کو ریٹائرمنٹ میں بدل کرپنشن فوائد نہیں دے سکتا:سپریم کورٹ
اسلام آباد (کورٹ رپورٹر،اے پی پی) سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ استعفیٰ اور ریٹائرمنٹ ملازمت ختم کرنے کے دو الگ قانونی طریقے ہیں، سروس ٹربیونل واضح قانونی اختیار کے بغیر کسی ملازم کے استعفیٰ کو ریٹائرمنٹ میں تبدیل کرکے پنشن کے فوائد نہیں دے سکتا۔
جسٹس شکیل احمد اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل دو رکنی بینچ نے خیبر پختونخوا حکومت کی سول پٹیشن پر تفصیلی فیصلہ سناتے ہوئے سروس ٹربیونل پشاور کا 7 دسمبر 2021 کا فیصلہ جزوی طور پر کالعدم قرار دے دیا۔عدالت نے قرار دیا کہ کسی ملازم کا استعفیٰ اس وقت تک موثر نہیں سمجھا جا سکتا جب تک یہ ثابت نہ ہو کہ استعفیٰ رضاکارانہ طور پر دیا گیا، سپریم کورٹ نے کہا اگر استعفیٰ قانونی طور پر باطل قرار پائے تو ملازم کو قانون کی نظر میں اس وقت تک ملازمت میں برقرار تصور کیا جائے گا جب تک اس کی سروس ریٹائرمنٹ، برطرفی یا ملازمت ختم کرنے کے کسی دوسرے قانونی طریقے سے ختم نہ ہو۔ عدالت نے واضح کیا کہ صرف مطلوبہ مدتِ ملازمت مکمل کرلینا کسی ملازم کو ازخود ریٹائرڈ قرار دینے کے لئے کافی نہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments