کراچی سرکاری سکول کی دیوار گرنے سے 5افراد جاں بحق ،2زخمی

کراچی سرکاری سکول کی دیوار گرنے سے 5افراد جاں بحق ،2زخمی

اورنگی ٹاؤن فٹبال چوک کے قریب نشئی دیوار سے سریا نکال رہے تھے ،جاں بحق افراد میں سے تین کی شناخت ہوگئی حادثے کے وقت ادارہ خالی تھا، نشئی اسکول کے دروازے وکھڑکیوں کی گرل بھی کاٹ کر لے جاتے ،ایم پی اے کادورہ

کراچی (اسٹاف رپورٹر)کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن بلاک الیون ایل فٹبال چوک کے قریب قائم سرکاری اسکول کی دیوار گرنے سے 5 افراد جاں بحق جبکہ 2 زخمی ہوگئے ۔پولیس کے مطابق واقعہ میں جاں بحق و زخمی افراد نشے کے عادی ہیں ۔واقعہ اس وقت پیش آیا جب نشے کے عادی افراد اسکول کی دیوار سے سریا نکال رہے تھے ۔حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو رضاکار، پولیس اور رینجرز کی نفری جائے وقوع پر پہنچ گئی اور ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے ہنگامی ریسکیو آپریشن شروع کردیا گیا۔جاں بحق افراد میں سے تین کی شناخت کرلی گئی جن میں 22 سالہ شاہ زیب،50 سالہ محمد علی اور 30 سالہ معین شامل ہیں۔لاشوں اور زخمیوں کو عباسی شہید ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ کے ایم سی کے زیر انتظام چلنے والے اسکول میں صبح و شام کی شفٹ میں بچے پڑھتے ہیں تاہم حادثے کے وقت اسکول خالی تھا۔ اسکول کی عمارت انتہائی خستہ حال ہے ۔

نشے کے عادی افراد اسکول کے دروازوں اور کھڑکیوں کی گرل بھی کاٹ کر لے جاتے ہیں۔ علاقہ مکینوں نے بتایا کہ اس حوالے سے متعدد مرتبہ متعلقہ محکمے کو شکایات کی گئیں لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔رکن صوبائی اسمبلی اعجاز الحق نے بھی جائے وقوع کا دورہ کیا اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسکول کی عمارت کے ایم سی کی ملکیت ہے اور عمارت و دیواروں کی حالت بہت خراب ہے ۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ بتایا جائے کے ایم سی کو ملنے والا بجٹ کہاں جاتا ہے ۔اعجاز الحق کا کہنا تھا کہ اسکول کی خستہ حالی کا ذمہ دار کے ایم سی اور محکمہ تعلیم ہے ،اگر محکمہ کام نہیں کرسکتا تو عہدیدار استعفیٰ دے دیں۔ایم پی اے نے اسکول کی عمارت میں نشے کے عادی افراد کے بیٹھنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کا کام ہے کہ وہ منشیات فروشی اور نشہ کرنے والے افراد کے خلاف کارروائی کرے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...