مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کو کم کیا جائے : برکس کانفرنس اعلامیہ ، جنگ جلد ختم، تیل کی قیمتیں کم ہوجائینگی : ٹرمپ

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کو کم کیا جائے : برکس کانفرنس اعلامیہ ، جنگ جلد ختم، تیل کی قیمتیں کم ہوجائینگی : ٹرمپ

جنگ عالمی برادری کے مشترکہ مفادات کے مطابق نہیں:شی جن پنگ، خونریز جھڑپ کے 6سال بعد بھارت پہنچے ، ریڈ کارپٹ استقبال، ایرانی صدر کی ابوظہبی کے ولی عہد سے ملاقات عراق کا سعودی پائپ لائن پر حملے کی تحقیقات کا حکم، کمانڈر برطرف،حوثیوں نے 210قیدی چھڑا لیے ، جازان پر راکٹ داغے ،2زخمی ،یمنی فورسز کے حملے ، متعدد ہلاک

نئی دہلی (اے ایف پی)چین، روس، ایران اور بھارت سمیت 11 رکنی برکس گروپ کے ارکان نے ہفتے کو نئی دہلی میں ہونے والے سربراہی اجلاس میں مشرق وسطٰی میں کشیدگی کم کرنے پر زور دیا اور اپنے درمیان موجود اختلافات پر قابو پاتے ہوئے مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا۔چینی صدر شی جن پنگ جو روسی، ایرانی، بھارتی اور دیگر رہنماؤں کے ہمراہ بھارتی دارالحکومت میں اجلاس میں شریک ہوئے نے کہا کہ مشرق وسطٰی کی جنگ عالمی برادری کے مشترکہ مفادات کے مطابق نہیں۔مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ ہم مشرق وسطیٰ/مغربی ایشیا میں کشیدگی میں مسلسل اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ رکن ممالک زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے اور ایسے اقدامات سے گریز کرنے پر زور دیتے ہیں جو صورت حال کو مزید خراب کر سکتے ہیں۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے دو روزہ سربراہی اجلاس کا آغاز کرتے ہوئے شی جن پنگ، روسی صدر ولادیمیر پیوٹن، ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور دیگر رہنماؤں سے کہا کہ ہمیں مراعات کی اس اہرام نما ساخت کو شراکت داری کے پلیٹ فارم میں تبدیل کرنا ہوگا۔ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سربراہی اجلاس میں شرکت ایسے وقت کی جب وہ اس سے قبل خبردار کر چکے تھے کہ مشرق وسطٰی میں امریکا کو علاقے کا تھانیدار بنانے کی ضرورت نہیں۔ اس وقت امریکا اور ایران جنگ میں ہیں اور کشیدگی کے باعث اہم آبنائے ہرمز کو بھی خطرات لاحق ہیں۔پزشکیان نے سربراہی اجلاس کے موقع پر ابوظہبی کے ولی عہد خالد بن محمد بن زاید النہیان سے بھی ملاقات کی۔شی جن پنگ کا بھارت میں ریڈ کارپٹ استقبال کیا گیا، جہاں فوجی دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا اور روایتی ملبوسات میں ملبوس رقاصوں نے ان کا استقبال کیا۔

نئی دہلی میں مودی سے ملاقات کے دوران جاری کی گئی ایک ویڈیو میں صدر شی نے کہا اگرچہ ہمارے دونوں ممالک بہت سے معاملات میں مختلف ہیں، لیکن وہ ایک دوسرے کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے ، ایک دوسرے کا ساتھ دینے ، باہمی کامیابی حاصل کرنے اور مل کر آگے بڑھنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔شی کا دورہ بھارت اور چین کے درمیان متنازعہ سرحد پر چھ سال قبل ہونے والی خونریز فوجی جھڑپ کے بعد ہو رہا ہے ۔ اس واقعے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں بتدریج بہتری آئی ہے اور پروازیں، ویزے اور اعلیٰ سطح کے رابطے بحال ہوئے ہیں۔تاہم بنیادی سرحدی تنازع اب بھی حل طلب ہے اور دونوں ممالک تقریباً 3500 کلومیٹر طویل بلند پہاڑی سرحد پر بڑی تعداد میں فوجی تعینات کیے ہوئے ہیں۔

بغداد،واشنگٹن(نیوز ایجنسیاں ، مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ایران جنگ بہت جلد ختم ہوجائیگی جس کے بعد تیل کی قیمتیں کم ہونگی،آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری آمدورفت کی بحالی اور خطے میں پیدا ہونے والے تمام تر خدشات جلد حل ہو جائیں گے۔ ڈبلن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے تصدیق کی کہ انہوں نے سعودی ولی عہد سے بات کی تھی اور کہا کہ حوثیوں نے بھی ان کی انتظامیہ سے رابطہ کرکے درخواست کی ہے کہ واشنگٹن تنازع میں براہِ راست ملوث نہ ہو کیونکہ وہ امریکی افواج سے لڑنا نہیں چاہتے ،حوثی صرف ایک ملک سے خوش نہیں۔انہوں نے کہا سعودی ولی عہد میرے اچھے دوست ہیں، سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا،انہوں نے کہا سعودی عرب پائپ لائن پر حملے کا ذمہ دار غالباً ایران ہے۔

خیال رہے سعودی وزارت خارجہ کے مطابق پائپ لائن پر حملوں کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ عراقی حکومت نے کہا ہے کہ سعودی عرب کی اہم تیل پائپ لائن کو نشانہ بنانے والے حملے عراق کے صوبہ میسان سے کیے گئے تھے ،بغداد نے واقعے کی مزید تحقیقات کا اعلان کرتے ہوئے متعلقہ فوجی کمانڈر کو برطرف کر دیا ہے ۔عراقی وزیر اعظم علی الزیدی نے صوبہ میسان کی آپریشنز کمانڈ کے خلاف تحقیقات کا حکم بھی دیا ہے اور کہا ہے کہ جو بھی ملوث ہوگا اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔عراق نے ایران کے ساتھ 3 اہم سرحدی گزرگاہیں شلمچہ ، چذابہ ،الشیب المندلی غیر معینہ مدت کیلئے بند کر دی ہیں،ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ان راستوں سے مسافروں اور تجارتی سامان کی آمدورفت مکمل طور پر روک دی گئی ہے ۔پاکستان نے پائپ لائن پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا یہ حملے اور شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

خلیجی اور مسلم ممالک کی تنظیموں خلیج تعاون کونسل (جی سی سی)، مسلم ورلڈ لیگ (ایم ڈبلیو ایل)، اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی)، قطر اور بحرین نے ہفتے کے روز سعودی عرب کی مشرقی سے مغربی سمت جانے والی تیل پائپ لائن پر ڈرون حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مملکت کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ عراقی وزیرِ خارجہ فواد حسین اور سعودی وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود کے درمیان بھی ہفتے کی صبح ٹیلیفون پر گفتگو ہوئی۔دریں اثنا ایران کے حامی حوثی جنگجو یمن کے ساحل کے ساتھ جنوب کی جانب پیش قدمی کر رہے ہیں، جس سے ان کی باب المندب آبنائے کو بند کرنے کی صلاحیت بڑھ گئی ہے۔ یمن کی سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز نے بحیرہ احمر کے اہم شہر مخا میں ایران نواز حوثی جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کی جس میں حوثیوں کی کئی گاڑیاں اور اسلحہ تباہ جبکہ متعدد جنگجو ہلاک ہوئے ،ذباب شاہراہ پر بھی حوثیوں کے ٹھکانوں اور گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا۔

حوثیوں نے سعودی حمایت یافتہ فورسز سے 210 قیدی چھڑا لیے ، رہا ہونے والے قیدیوں کو بسوں کے ذریعے صنعا منتقل کیا گیا، جہاں حامیوں نے ان کا استقبال کیا۔سعودی عرب کے جنوب میں جازان کے علاقے الطوال میں حوثی ملیشیا کے داغے گئے ایک راکٹ نما گولے سے 2 افراد زخمی ہوگئے جبکہ ایک مسجد، متعدد عمارتوں اور گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔ امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب حوثیوں کے خلاف بڑے فوجی آپریشن پر غور کر رہا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ریاض حوثیوں کے خلاف اکیلے بھی فوجی کارروائی کرسکتا ہے ،تاہم سعودی عرب نے کارروائی کا حتمی فیصلہ ابھی نہیں کیا۔ ٹرمپ انتظامیہ سعودی عرب کو انٹیلی جنس اورٹارگٹنگ کے حوالے سے معاونت فراہم کررہی ہے ۔گزشتہ ہفتے شروع ہونے والی لڑائی میں فریقین کے ذرائع کے مطابق 500 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں، جبکہ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرت کے مطابق تقریباً 46 ہزار افراد بے گھر ہوئے ہیں۔ رواں ہفتے تیل کی قیمتوں میں 13 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے ، جس کے بعد امریکی خام تیل 100 ڈالر جبکہ برطانوی خام تیل 104 ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچ گیا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...