حکومتی اداروں کو خسارہ سے نکالنے کیلئے نیا فریم ورک جاری
3 سالہ بزنس پلان ہر حکومتی ملکیتی ادارے کیلئے لازمی، سالانہ بنیادوں پر اپ ڈیٹ بزنس پلان کی منظوری بورڈ دیگا، وزارت خزانہ، وزارتوں کا کردار مشاورت تک محدود
اسلام آباد (ایس ایم زمان)وزارتِ خزانہ نے حکومتی ملکیتی اداروں (ایس او ایز)کی کارکردگی بہتر بنانے اور انہیں خسارے سے نکالنے کے لیے بزنس پلان اور ‘سٹیٹمنٹ آف کارپوریٹ انٹینٹ’ (ایس سی آئی) تیار کرنے کا نیا فریم ورک جاری کر دیا ۔ نئے فریم ورک کے تحت ہر حکومتی ملکیتی ادارے کو نئے مالی سال کے آغاز سے پہلے اپنا تین سالہ بزنس پلان تیار کرنا ہوگا جسے ہر سال اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔ ایکٹ کے مطابق اداروں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کو بزنس پلان کی تیاری اور منظوری کا مکمل اختیار حاصل ہوگا جبکہ متعلقہ وزارتوں اور وزارتِ خزانہ کا کردار مشاورت تک محدود رہے گا۔ اگر متعلقہ وزارت 3 ہفتوں کے اندر پلان پر اپنی رائے نہ دے تو بورڈ اسے منظور کر سکے گا۔منصوبے کی بروقت تیاری کے لیے ٹائم لائن مقرر کی گئی ہے ۔ مالی سال ختم ہونے سے 5 ماہ پہلے ادارہ اپنے مقاصد طے کرے گا، 4 ماہ پہلے بزنس پلان کا مسودہ تیار ہوگا اور 2 ماہ پہلے متعلقہ وزارت اور وزارتِ خزانہ کو بھیجا جائے گا۔ مالی سال شروع ہونے سے کم از کم ایک دن پہلے بورڈ کے لیے پلان کی حتمی منظوری دینا لازمی ہوگا۔ وزارتِ خزانہ تمام حکومتی ملکیتی اداروں کے بزنس پلانز کا الیکٹرانک ڈیٹا بیس تیار کرے گا، رپورٹ کابینہ کمیٹی کو پیش کرے گا اور ان کے بزنس پلانز و کارکردگی کی نگرانی کی جائے گی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments