آئینی عدالت کو صرف آئین کی تشریح کا اختیار :سپریم کورٹ
سپریم کورٹ کا حکم اب بھی قائم،عمران خان کی نجی ہسپتال منتقلی کیس میں ریمارکس
اسلام آباد (کورٹ رپورٹر)بانی پی ٹی آئی عمران خان کو عدالتی حکم کے باوجود علاج کی غرض سے نجی ہسپتال منتقل نہ کرنے کے حکومتی اقدام کے خلاف توہین عدالت اور حکومت کی جانب سے نظرثانی کی درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ آئینی عدالت کے پاس صرف آئین کی تشریح کا اختیار ہے ،سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل سے آئندہ سماعت پر معاونت طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت تین ہفتوں تک ملتوی کردی۔جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ اٹارنی جنرل منصور اعوان نے وفاقی آئینی عدالت کا گزشتہ روز جاری ہونے والا حکم نامہ پڑھ کر سنایا۔جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ آئینی عدالت کے حکم میں مقدمات کا ریکارڈ منگوا کر انہیں مقرر کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ،مقدمات مقرر کرنے کا لفظ ہمیں تنگ کر رہا ہے ،مقدمات مقرر کرنے کے حوالے سے ہم آئین کی منشا سمجھنا چاہ رہے ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 175 ای میں متعلقہ عدالتوں سے ریکارڈ منگوانے کی حد تک کا ہی ذکر ہے ۔ ہم دو اداروں کا ٹکراؤ نہیں چاہتے اور چاہتے ہیں کہ دونوں ادارے اپنے دائرئہ اختیار میں رہ کر کام کریں۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ آئین کے مطابق وفاقی آئینی عدالت مقدمات کا ریکارڈ ہی نہیں بلکہ کیسز بھی منگوا سکتی ہے ، آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار آئین میں واضح ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے اور مناسب ہوگا کہ سپریم کورٹ کیس پر سماعت موخر کردے ۔جسٹس شاہد وحید نے سوال کیا کہ قرآن و سنت کی روشنی میں کیے گئے سپریم کورٹ کے فیصلے کی کیا وفاقی آئینی عدالت پابند نہیں ہوگی؟ وفاقی آئینی عدالت قرآن و سنت کے معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتی، آئین کی تشریح کے علاوہ تمام معاملات سپریم کورٹ کے پاس ہیں۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ فیصلوں کے اطلاق سے متعلق آئین کا آرٹیکل 189 واضح ہے ، جبکہ سپریم کورٹ کا شریعت بینچ قرآن و سنت کی تشریح کرسکتا ہے ۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ وہ آئینی عدالت کے سوالات پر کوئی بات نہیں کریں گے تاہم عدالتی دائرہ اختیار کے نکتے پر معاونت کریں گے ۔ انہوں نے تین ہفتوں کی مہلت کی استدعا کی جسے عدالت نے منظور کرلیا۔سلمان اکرم راجہ نے مؤقف اختیار کیا کہ بانی پی ٹی آئی کی فوجداری اپیل اور توہین عدالت کی درخواستوں میں کسی آئینی تشریح کی ضرورت نہیں تھی۔جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ سپریم کورٹ کا حکم اب بھی قائم و دائم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اڈیالہ جیل انتظامیہ کو آج ذاتی حیثیت میں طلب کیا گیا تھا لیکن کوئی سرکاری افسر پیش نہیں ہوا۔
کیوں نہ وارنٹ جاری کیے جائیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ مناسب ہوگا ایک موقع دیا جائے ، ممکن ہے افسر یہ سمجھ رہے ہوں کہ آج سماعت نہیں ہوگی۔جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ نظرثانی درخواست میں حکومت نے لکھا ہے کہ نجی ہسپتال میں علاج نہیں ہوسکتا، جبکہ سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت کے حکم پر ریکارڈ فراہم کردیا گیا ہے ۔عدالت نے استفسار کیا کہ کیا سپریم کورٹ کے حکم کے باقی حصے پر عمل ہورہا ہے اور کیا بانی پی ٹی آئی کی ملاقاتیں اور بچوں سے بات کرائی گئی ہے ؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ سپریم کورٹ کے احکامات مؤثر ہیں اور وہ اس معاملے کو بھی چیک کرلیں گے ۔عدالت نے اٹارنی جنرل کی تین ہفتوں کی مہلت کی استدعا منظور کرتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کردی اور تین صفحات پر مشتمل تحریری حکمنامے میں کہا کہ وفاقی آئینی عدالت کے حکم کے بعد بعض آئینی و قانونی سوالات پیدا ہوئے ہیں۔ غور طلب سوالات آئین کی تشریح اور اطلاق کے ساتھ ساتھ اسلامی اصولوں سے بھی متعلق ہیں۔اٹارنی جنرل سے معاونت طلب کی گئی ہے کہ آئینی و قانونی صورتحال میں کون سا مناسب طریقہ اختیار کیا جائے اور وفاقی آئینی عدالت کا حکم سپریم کورٹ میں زیر التوا مقدمات پر کس حد تک اثرانداز ہوگا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments