24کروڑ آبادی کیلئے صرف 500ماہر نفسیات:وزیر مملکت صحت
ذہنی بیماریوں کے باعث 2020 میں ملکی معیشت کو 617ارب کا نقصان ہوا پاکستان یکم،دو اکتوبر کو گلوبل مینٹل ہیلتھ سمٹ کی میزبانی کریگا ،اجلاس سے خطاب
اسلام آباد (نیوز رپورٹر)پاکستان یکم اور دو اکتوبر کو اسلام آباد میں دو روزہ ‘گلوبل مینٹل ہیلتھ سمٹ 2026’ کی میزبانی کرے گا جس کا مقصد موسمیاتی خطرات اور مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مؤثر اور پائیدار ذہنی صحت کا نظام تشکیل دینا ہے ۔ وزیر مملکت برائے قومی صحت ڈاکٹر مختار بھرتھ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سمٹ ‘عالمی یومِ ذہنی صحت 2026’ کے سلسلے میں منعقد کی جا رہی ہے جس میں قومی و بین الاقوامی ماہرین، پالیسی ساز، وفاقی و صوبائی حکومتوں کے نمائندے ، پارلیمنٹیرینز، اقوام متحدہ کے شراکت دار ادارے ، سول سوسائٹی اور نوجوان شرکت کریں گے ۔ڈاکٹر مختار بھرتھ نے پاکستان میں ذہنی صحت کی صورتحال اور وسائل کی شدید کمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ 24 کروڑ سے زائد آبادی کے لیے صرف 500 کے قریب ماہرینِ نفسیات اور 200 کلینیکل سائیکالوجسٹس دستیاب ہیں جبکہ 80 فیصد سے زائد ذہنی مریض سالانہ بنیادوں پر باقاعدہ علاج سے محروم رہتے ہیں۔
اندازے کے مطابق 10 سے 16 فیصد بالغ افراد ہلکے سے درمیانے درجے جبکہ ایک سے دو فیصد شدید نفسیاتی مسائل کا شکار ہیں۔انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات نے ذہنی صحت کا بحران مزید شدید کر دیا ہے ۔ 2022 کے سیلاب سے تقریباً تین کروڑ 30 لاکھ افراد متاثر ہوئے جبکہ متاثرہ علاقوں میں ہر پانچ میں سے ایک فرد کو ذہنی خدمات کی ضرورت پڑ سکتی ہے ۔ ابتدائی جائزوں کے مطابق 38 فیصد افراد میں ڈپریشن اور 20 فیصد میں اضطراب کی علامات دیکھی گئیں۔ذہنی بیماریوں کے باعث 2020 میں ملکی معیشت کو تقریباً 617 ارب روپے کے نقصان کا تخمینہ لگایا گیا۔ وزارتِ صحت صوبوں کی مشاورت سے ‘قومی ذہنی صحت پالیسی 2026-2035’ کی تیاری پر کام کر رہی ہے ۔ سمٹ میں بچوں اور نوعمروں کی ذہنی صحت، خودکشی کی روک تھام، منشیات کے استعمال، ڈیجیٹل مینٹل ہیلتھ اور قدرتی آفات میں نفسیاتی معاونت پر غور ہوگا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments