وزارت خزانہ نے وفاقی اداروں کے اضافی بجٹ کا نیا طریقہ مقرر کردیا
اضافی بجٹ مخصوص سروس کیلئے منظور شدہ رقم کم پڑنے یا نئی سروس پر خرچ ہوگا 31 مئی کے بعد اضافی فنڈز درخواستیں ناگزیر اخراجات کی صورت میں منظور ہونگی
اسلام آباد (ایس ایم زمان) وزارت خزانہ نے وفاقی وزارتوں، ڈویژنوں، محکموں اور اداروں کے لیے رواں مالی سال ترقیاتی و غیر ترقیاتی بجٹ کی ازسرنو تخصیص اور اضافی فنڈز کے حصول کا نیا طریقہ کار مقرر کر دیا۔اضافی بجٹ مخصوص سروس کیلئے منظور شدہ رقم کم پڑنے یا نئی سروس پر خرچ ہوگا۔31 مئی کے بعد اضافی فنڈز کی درخواستیں ناگزیر اخراجات کی صورت میں ہی منظور ہونگی ۔وزارت خزانہ کے مطابق اضافی بجٹ صرف مخصوص سروس کے لیے منظور شدہ بجٹ کی کمی یا ایسی نئی سروس پر اخراجات کے لیے فراہم کیا جائے گا جو سالانہ بجٹ میں شامل نہ ہو۔ وزارت نے وفاقی وزارتوں کے پرنسپل اکاؤنٹنگ افسران کو فنڈز کی تبدیلی اور اضافی گرانٹس کے لیے مقررہ قواعد پر عملدرآمد کی ہدایت کی ہے ۔مراسلے کے مطابق پرنسپل اکاؤنٹنگ افسران اپنے مالی اختیارات کے تحت فنڈز ازسرنو مختص کر سکیں گے تاہم غیر مختص بجٹ سے فنڈز کی ازسرنو تخصیص یا تبدیلی نہیں کی جا سکے گی۔ رواں مالی سال کے بجٹ میں اعلان کردہ 2026 کے ایڈہاک ریلیف الاؤنس کی ادائیگی کے لیے اضافی فنڈز فراہم کیے گئے ہیں اور ہر مد کے لیے الگ بجٹ ہیڈ بنایا گیا ہے ۔ یہ فنڈز وزارت خزانہ کے متعلقہ ونگ سے مشاورت کے بعد صرف ایڈہاک ریلیف الاؤنس کی ادائیگی کے لیے استعمال ہوں گے جبکہ الاؤنس کی ادائیگی مالی سال کی تیسری سہ ماہی میں کی جائے گی۔ملازمین سے متعلق اخراجات کے لیے مختص رقم کم پڑنے کی صورت میں غیر ملازمین سے متعلق اخراجات کی مدات سے فنڈز کی ازسرنو تخصیص کو ترجیح دی جا سکتی ہے ۔ فنڈز کی ازسرنو تخصیص کے لیے 31 مئی کی آخری تاریخ میں رعایت صرف ان معاملات میں زیرغور آئے گی جہاں اکاؤنٹس دفاتر کی جانب سے بک کیے گئے اضافی اخراجات کو ایڈجسٹ کرنا ہو، ملازمین سے متعلق اخراجات کی مد میں رقم کم پڑ گئی ہو یا جون میں ناگزیر ادائیگیاں درکار ہوں۔تکنیکی ضمنی گرانٹس کے لیے درخواست صرف پرنسپل اکاؤنٹنگ افسران جمع کرا سکیں گے اور اضافی رقم کے ذرائع کی نشاندہی بھی کرنا ہوگی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments