اسلام آباد : موٹروے بند، ہزاروں پولیس اہلکار طلب: وفاقی دارالحکومت میں 24 سرکاری تعلیمی اداروں کی بندش مظاہرین کو منتشرکرنیکی بجائے گرفتارکرنے کا فیصلہ ، خیبرپختونخوا میں گورنرراج کی بازگشت

 اسلام آباد : موٹروے بند، ہزاروں پولیس اہلکار طلب: وفاقی دارالحکومت میں 24 سرکاری تعلیمی اداروں کی بندش مظاہرین کو منتشرکرنیکی بجائے گرفتارکرنے کا فیصلہ ، خیبرپختونخوا میں گورنرراج کی بازگشت

موٹروے ایم ون ٹول پلازہ سے چھچھ انٹرچینج تک ، جی ٹی روڈ اٹک خورد کے مقام پر بند کر دی گئی ،لاہور اسلام آباد موٹر وے پر ہیوی گاڑیوں کی بندش، پنجاب، سندھ سے بھی نفری طلب کر لی گئی گورنر راج کا آپشن ہے ،طلال،ہم غور کر رہے ،عقیل ملک ،گورنر راج لگانا ہے تو لگا دیں:سہیل آفریدی ،اسلام آباد جانیکی تاریخ ہم دینگے :گوہر ، اچکزئی اتفاق،صوبائی وزیرکے اغواکا مقدمہ درج

 اسلام آباد،لاہور( مانیٹرنگ ڈیسک،کرائم رپورٹر ،نیوزایجنسیاں )پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے پیش نظر اسلام آبادپشاور موٹروے ،لاہور اسلام آباد موٹر وے ،اسلام آباد کے 24 سرکاری تعلیمی ادارے بند کردئیے گئے ہیں،ہزاروں پولیس اہلکار وفاقی دارالحکومت طلب کر لئے گئے ہیں جبکہ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے خبر دار کیا ہے کہ حکومت کے پاس خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا آپشن بھی موجود ہے ،تفصیلات کے مطابق نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ موٹروے M-1 اسلام آباد ٹول پلازہ سے چھچھ انٹرچینج تک دونوں اطراف سے ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دی گئی ہے ،اسی طرح موٹروے M-1 اسلام آباد ٹول پلازہ ، فتح جنگ/ ترنول انٹرچینج ، سنگجانی/AWT انٹرچینج، براہمہ باہتر انٹرچینج ، برہان انٹرچینج ، ہزارہ موٹروے انٹرچینج، غازی بھروتھا نہر انٹرچینج، چھچھ انٹرچینج بند ہیں ، موٹروے M-14 ہکلہ تا کنڈل بھی دونوں اطراف سے ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دی گئی ہے ،ہکلہ،فتح جنگ انٹرچینج، پنڈی گھیپ انٹرچینج، کھڑپہ انٹرچینج، تراپ انٹرچینج، داؤد خیل انٹرچینج، کوٹ بیلیاں انٹرچینج، عیسیٰ خیل انٹرچینج، کنڈل انٹرچینج بھی بندرہیں ،اسی طرح جی ٹی روڈ N-5، اٹک خورد کے مقام پر دونوں اطراف سے ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دی گئی ہے ،آ ج سے لاہور سے ایم 2پر بڑی گاڑیوں کا اسلام آباد داخلہ بند کر دیا جائے گا،ترجمان موٹروے پولیس کے مطابق بڑی گاڑیوں کو مختلف مقامات سے جی ٹی روڈکی طرف موڑ دیا جائے گا،ایم 2، ایم 3کی گاڑیاں کالا شاہ کاکو سے جی ٹی روڈ جائیں گی.

ملتان روڈ سے آنے والی ٹریفک راوی ٹول پلازہ سے جی ٹی روڈ کی طرف جائیگی ،کوٹ پنڈی داس کی گاڑیاں شیخوپورہ انٹرچینج سے جی ٹی روڈ جائیں گی،ایم 4 کی ہیوی ٹریفک مخدوم انٹرچینج سے جی ٹی روڈ پر منتقل ہوگی ،اسلام آباد کے 24 سرکاری تعلیمی ادارے بھی بند کر دئیے گئے ہیں ،محکمہ تعلیم کے ذرائع کے مطابق اضافی پولیس نفری کے لیے قیام کا انتظام سرکاری سکولوں میں کیا جا رہا ہے ، راولپنڈی میں تمام تعلیمی ادارے معمول کے مطابق کھلے ہیں۔ادھر اسلام آباد پولیس کو 26 ستمبر کی شام تک تمام سکیورٹی انتظامات مکمل کرنے کی ہدایت کردی گئی ہے ، 52 ہزار اہلکارتعینات کیے جائیں گے ، 30 ہزار اہلکار اٹک میں تعینات ہوں گے تاکہ مظاہرین کو اسلام آباد میں داخل ہونے سے روکا جاسکے ،ذرائع کے مطابق مظاہرین کو منتشر نہیں کیا جائے گا ان کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ،ذرائع کے مطابق 6 ہزار اہلکار راولپنڈی جبکہ 16 ہزار وفاقی دارالحکومت اسلام آبادمیں تعینات کیے جائیں گے ،اسلام آباد پولیس نے پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے ممکنہ لانگ مارچ کیلئے پنجاب سے 16 ہزاراورسندھ سے 2 ہزار اہلکار مانگے ہیں، پنجاب اور سندھ سے 3 ڈی آئی جیز، 7 ایس ایس پیز اور 18 ایس پیزبھی طلب کیے گئے ہیں،ذرائع کے مطابق مارچ سے نمٹنے کے لیے اسلام آباد پولیس نے 82 کروڑ 70 لاکھ روپے طلب کئے ہیں، اسلام آباد اور اٹک کے اہم مقامات پر 2 ہزار سے زائد کنٹینرز پہنچا د ئیے گئے ، ریڈ زون کے داخلی راستوں سمیت اہم شاہراہوں پر تقریباً ایک ہزارکنٹینرز لگائے جائیں گے ،اٹک میں کنٹینرز اور ریت سے بھرے بیگز اہم راستوں اور پلوں پر رکھ دئیے گئے ہیں۔

حکام کے مطابق اسلام آباد پولیس نے اہلکاروں کی نقل و حمل کے لیے 70 کوسٹرز، 30 ڈبل کیبن اور بسیں بھی طلب کر لی ہیں،پولیس ڈیوٹی پوائنٹس کے قریب 50 عارضی واش رومز قائم کیے جا رہے ہیں، اسلام آباد کے داخلی و خارجی راستوں پر سکیورٹی انتظامات مسلسل مانیٹر کرنے کا فیصلہ کیاگیاہے ،علاوہ ازیں لاہور میں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی آمد پر دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ریلی و قافلے میں شریک 32 گاڑیوں اور 41 کارکنوں کی فہرست مرتب کرلی گئی،پولیس ذرائع کے مطابق کارکنوں کی 14 سے 16 ستمبر تک کی سرگرمیوں کا ریکارڈ شامل کرکے گرفتاری کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔  دریں اثنا ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے کہا ہے کہ اسلام آباد پر اب چڑھائی ہوئی تو ایسا روکیں گے کہ آئندہ کوئی آنے کا سوچے گا بھی نہیں، انہوں نے کہا کہ حکومتی وسائل یا طاقت کی بنیاد پر کسی شہر پر حملہ نہیں ہوسکتا، اسلام آباد پر حملہ کیا گیا تو حلف کی خلاف ورزی ہوگا، ہائیکورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی کرنے والا توہین عدالت کا مرتکب ہوگا، ویسے ہم ان کی سٹریٹ پاور کا اندازہ لاہور اور وزیرآباد کی گلیوں سے لگا چکے ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کے بعد احتجاج اور چڑھائی نہ کرنا لازم ہے ، آپ اپنے صوبے کی طاقت کو وفاق کے خلاف استعمال نہیں کرسکتے ،وزیر مملکت داخلہ نے کہا کہ جب بھی حالات سنبھلنے لگتے ہیں تو اس طرح کا کھیل شروع ہوجاتا ہے ، ان کا یہ خیال غلط ہے کہ ایسی حرکتوں سے بانی کو کوئی فائدہ ہوگا، جیل میں قیدی سے ملاقات جیل رولز کے تحت ہی ہوسکتی ہیں، سڑکیں بند کرنے یا احتجاج کرنے سے جیل میں ملاقاتیں نہیں ہوں گی،انہوں نے کہا کہ گزشتہ احتجاج میں سکیورٹی اہلکاروں کو مارا، کچلا، گولیاں مار کر زخمی کیا گیا، انہوں نے مزید کہا کہ آئین میں گورنر راج کا آپشن موجود ہے ، وفاقی حکومت سیاسی حکومت ہے ، کوئی کام جلد بازی میں نہیں کرنا چاہتے ، سیاسی لوگوں کو موقع دینا چاہتے ہیں۔ وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے دنیا نیوز کے پروگرام آن دی فرنٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 232 کے تحت حکو مت خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگانے کے بارے میں سوچ رہی ہے ، ایک سوال پر کہاکہ ہاں ہم ایک سٹیج پر اس پر غور کرر ہے ہیں ، آرٹیکل 232 کا مطلب ایمرجنسی لگانا یا گورنر راج لگانا ہے ، اگر کسی صوبے میں گڑ بڑ ہے یا صوبے کے انٹرنل سکیورٹی کے حوالے سے مسائل آ رہے ہیں توحکومت یہ کر سکتی ہے ، اس کے پاس اختیار ہے۔

 اسلام آباد،پشاور (دنیا نیوز،این این آئی،آئی این پی)چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی سے ملاقات کی۔ملاقات میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال، اپوزیشن جماعتوں کے باہمی تعاون اور آئندہ کے سیاسی لائحہ عمل پر تفصیلی مشاورت کی گئی،دونوں رہنماؤں نے علیمہ خان، عظمیٰ خان ، نورین نیازی ،سیاسی رہنماؤں و کارکنوں کی گرفتاریوں کی شدید مذمت کی گئی ۔ملاقات میں سیاسی سرگرمیوں کے خلاف جاری اقدامات پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔اعلامیے کے مطابق 27 ستمبر کے لانگ مارچ کے حوالے سے بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، اپوزیشن اتحاد کا کہنا ہے کہ مارچ مکمل طور پر پرامن ہوگا اور جمہوری و آئینی حقوق کے لیے ہوگا،رہنماؤں نے کہا کہ مارچ کے حتمی دن کا فیصلہ ہم خود کریں گے کہ کب اسلام آباد جا نا ہے ،ادھر وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ سادہ کپڑوں میں جب بھی کوئی کسی کو اٹھائے گا تو اس پر ردِعمل تو آئے گا، فضل شکور پر حملے کی ویڈیو موجود ہے ، گورنر راج لگانا ہے تو لگا دیں ،دوسری جانب خیبر پختونخوا کے وزیراطلاعات شفیع جان نے کہا ہے کہ اسلام آباد آنے کے 4 مختلف پلان بنائے ہیں اور 8 مختلف جگہوں سے اسلام آباد آئیں گے ،ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے ساتھ 20 لاکھ کارکن ہوں گے ، انہیں اسلام آباد پہنچنے میں 7 سے 8 دن لگیں گے ،انہوں نے مزید کہا کہ اگر عمران خان سے ملاقات ہوجائے اور وہ کہہ دیں تو لانگ مارچ رُک سکتا ہے ، دریں اثنا پشاور میں وزیرِ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور کے مبینہ اغوا کا مقدمہ تھانہ چمکنی میں درج کر لیا گیا۔پولیس کے مطابق مقدمہ صوبائی وزیر فضل شکور کے بھائی کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے ، ایف آئی آر میں نامعلوم مسلح افراد کو نامزد کیا گیا ہے ۔ایف آئی آر میں بتایا گیا کہ صوبائی وزیر اسمبلی اجلاس میں شرکت کے لیے جا رہے تھے ، موٹر وے ٹول پلازہ کے قریب مسلح افراد نے صوبائی وزیر، ڈرائیور اور کانسٹیبل کو گاڑی سے اتارا، فائرنگ کر کے سرکاری گاڑی کے ٹائر برسٹ کر دئیے ، صوبائی وزیر، ان کے ڈرائیور اور کانسٹیبل کو اسلحے سمیت نامعلوم مقام پر لے گئے۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...