کفایت شعاری اقدامات : سینیٹ ، قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمعہ کو چھٹی ، ورک فرام ہوم ہو گا
ایندھن میں 50فیصد کمی ، نئی گاڑیوں کی خریداری ، سرکاری ڈنرز ،بیرون ملک دوروں پربھی مکمل پابندی عائد NON-ERE بجٹ میں ماہانہ پانچ فیصد کٹوتی ، اجلاس و میٹنگز محدود، ای فائلنگ و ٹیلی کانفرنسنگ کو فروغ دینے کا فیصلہ
اسلام آباد (نیوز رپورٹر، اپنے رپورٹر سے ) سینیٹ اور قومی اسمبلی سیکرٹریٹس نے حکومت کی کفایت شعاری پالیسی کے تحت اخراجات میں کمی کیلئے مختلف انتظامی اقدامات کا اعلان کردیا، جن میں جمعہ کو ورک فرام ہوم، ایندھن کے استعمال میں 50 فیصد کمی، نئی گاڑیوں سمیت مختلف اشیا کی خریداری پر پابندی، غیر ملکی دوروں اور سرکاری ڈنرز پر قدغن، بجٹ میں ماہانہ 5 فیصد کٹوتی اور اجلاس و میٹنگز محدود کرنا شامل ہے ۔سینیٹ سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری احکامات کے مطابق سینیٹ اجلاس نہ ہونے کی صورت میں جمعہ کے روز ملازمین گھر سے کام کریں گے جبکہ پیر سے جمعرات تک دفتر میں حاضری لازمی ہوگی۔ ورک فرام ہوم کرنے والے ملازمین کو ٹیلیفون، ای میل، واٹس ایپ اور دیگر ذرائع سے دستیابی یقینی بنانا ہوگی جبکہ مجاز افسر کے طلب کرنے پر ایک گھنٹے کے نوٹس پر دفتر پہنچنا ہوگا۔ مجاز اتھارٹی کی اجازت کے بغیر کوئی ملازم اسٹیشن نہیں چھوڑ سکے گا۔احکامات کے مطابق سینیٹ اجلاس نہ ہونے کی صورت میں دفتری اوقات صبح 9 بجے سے سہ پہر 4 بجے تک ہوں گے جبکہ اجلاس کے دنوں میں پیر سے جمعہ تک اوقات کار صبح 9 بجے سے اجلاس کے اختتام تک مقرر کیے گئے ہیں۔ سرکاری گاڑیوں کیلئے ایندھن کی فراہمی میں 3 ماہ کیلئے 50 فیصد کمی کردی گئی ہے جبکہ تمام اقسام کی نئی گاڑیوں کی خریداری پر مکمل پابندی عائد کردی گئی۔
مالی سال 2026-27 کیلئے NON-ERE بجٹ میں ماہانہ بنیادوں پر 5 فیصد کٹوتی کی جائے گی۔ سینیٹ اجلاس کے حوالے سے تمام میٹنگز کم سے کم رکھنے اور شہر سے باہر ہونے والی میٹنگز کیلئے ٹیلی کانفرنسنگ کو ترجیح دینے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ تمام غیر ملکی دوروں پر بھی پابندی عائد کردی گئی تاہم سینیٹ کی فنانس کمیٹی یا کابینہ ڈویژن کی منظوری سے مشروط غیر ملکی دورے اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے ۔احکامات میں فرنیچر اور آرائش کی اشیا کی خریداری پر بھی مکمل پابندی عائد کی گئی ہے تاہم آئی ٹی آلات اور سینیٹ کی آسٹیریٹی کمیٹی کی سفارش کردہ ضروری اشیا خریدی جاسکیں گی۔ سرکاری غیر ملکی وفود کے علاوہ ہر قسم کے سرکاری عشائیوں پر پابندی ہوگی۔ سرکاری سیمینارز، تربیتی پروگراموں اور کانفرنسوں کیلئے نجی ہوٹلوں کے بجائے سرکاری ہالز، آڈیٹوریمز اور کمیٹی رومز استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔دفتری امور میں کاغذ کے کم سے کم استعمال، ای فائلنگ اور ڈیجیٹل خط و کتابت کو فروغ دینے کی بھی ہدایت کی گئی ہے ۔دوسری جانب قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے بھی حکومت کی کفایت شعاری پالیسی کے تناظر میں اخراجات میں کمی کے اقدامات کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔ سپیکر سردار ایاز صادق کی منظوری سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق آئندہ 3 ماہ کیلئے 50 فیصد عملہ ورک فرام ہوم کرے گا اور ڈیوٹیاں روٹیشن کی بنیاد پر لگائی جائیں گی۔
قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں پٹرول کی کھپت 50 فیصد کردی گئی جبکہ گاڑیوں اور آئی ٹی مصنوعات سمیت 3 ماہ کیلئے ہر قسم کی خریداری پر پابندی عائد ہوگی۔ بیرون ملک دوروں پر بھی پابندی ہوگی تاہم انٹرنیشنل پارٹنرز کی جانب سے سکالرشپس اور تربیتی پروگراموں کے تحت ہونے والے دورے اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے ۔غیر ملکی وفود کے اعزاز میں دی جانے والی ضیافت کے علاوہ ہر قسم کے سرکاری ڈنرز پر پابندی ہوگی۔ قائمہ کمیٹیوں کے ورچوئل اجلاسوں کی حوصلہ افزائی اور کمیٹیوں کے اجلاسوں کی تعداد کم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ ٹیلی کانفرنسنگ کے ذریعے ارکان پارلیمنٹ کی شرکت یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ ایندھن اور دیگر اخراجات میں بچت ہوسکے ۔نوٹیفکیشن کے مطابق گھر سے کام کرنے والے ملازمین کو کھانے اور دیگر الاؤنس نہیں دیئے جائیں گے ، ایسے ملازمین پیشگی اجازت کے بغیر شہر سے باہر نہیں جائیں گے جبکہ ضرورت پڑنے پر ایک گھنٹے میں دفتر میں حاضری یقینی بنانے کے پابند ہوں گے۔ ماہانہ بنیاد پر ERE بجٹ میں بھی 5 فیصد کمی لائی جائے گی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments