NCCIA:آن لائن فراڈ کی 80 شکایات حل کرنیکا دعویٰ، صرف 15 کی تصدیق
تین ماہ میں وزیراعظم شکایت سیل نے این سی سی آئی اے کو 140 شکایات بھجوائیں،80 آن لائن مالیاتی فراڈ سے متعلق تھیں این سی سی آئی اے نے 27 پر مکمل، 8 پر جزوی ریلیف کی رپورٹ دی :وزیراعظم سیل کے تحفظات،65 دوبارہ جائزہ کیلئے بھیج دیں
اسلام آباد (حریم جدون) آن لائن مالی لین دین سے متعلق فراڈ کی شکایات پر این سی سی آئی اے کی جانب سے وزیراعظم شکایت سیل کو دی گئی رپورٹ میں بڑا تضاد سامنے آگیا۔ وزیراعظم شکایت سیل نے این سی سی آئی اے کی رپورٹ پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے 65 شکایات کا دوبارہ جائزہ لینے کی ہدایت کردی۔ دنیا نیوز نے این سی سی آئی اے کی رپورٹ سے متعلق اہم دستاویزات حاصلکرلیں۔دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شکایت سیل کی جانب سے تین ماہ کے دوران این سی سی آئی اے کو مجموعی طور پر 140 شکایات بھجوائی گئیں جن میں 80 شکایات صرف آن لائن مالیاتی فراڈ سے متعلق تھیں۔ شکایات میں پنجاب سے 81، سندھ سے 23، خیبر پختونخوا سے 21 جبکہ اسلام آباد سے 13 شکایات شامل تھیں۔دستاویزات کے مطابق این سی سی آئی اے نے 80 شکایات کے حل ہونے سے متعلق رپورٹ وزیراعظم شکایت سیل کو ارسال کی۔ این سی سی آئی اے نے 27 شکایات پر مکمل ریلیف ملنے ، 8 پر جزوی ریلیف جبکہ 2 شکایات پر کارروائی جاری ہونے کی رپورٹ دی جبکہ 43 شکایات میں ریلیف نہ دینے کا موقف اختیار کیا تاہم وزیراعظم شکایت سیل کی جانب سے ازخود جائزے کے دوران این سی سی آئی اے کی رپورٹ کے برعکس صورتحال سامنے آئی۔
پی ایم ونگ کی تحقیق کے مطابق صرف 5 شکایات میں ریلیف ملنا ثابت ہوا جبکہ مجموعی طور پر صرف 15 شکایات کے حل ہونے کی تصدیق ہوسکی۔دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شکایت سیل نے این سی سی آئی اے کی جانب سے 80 شکایات حل ہونے کے دعوے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے 65 شکایات کا دوبارہ جائزہ لینے کی ہدایت کی ہے ۔دوسری جانب این سی سی آئی اے نے مالیاتی لین دین سے متعلق آن لائن فراڈ کی تحقیقات میں قانونی پیچیدگیوں کی نشاندہی بھی کی ہے ۔ این سی سی آئی اے کے موقف کے مطابق پیکا آرڈیننس میں مالیاتی لین دین سے متعلق تحقیقات کے لیے واضح قوانین موجود نہیں جبکہ پیکا آرڈیننس 2016 میں فشنگ کی بھی واضح تعریف موجود نہیں ہے ۔این سی سی آئی اے کے مطابق فشنگ سے متعلق مقدمات میں بلیک لا ڈکشنری میں دی گئی تعریف سے مدد لینا پڑتی ہے ۔ یوں آن لائن مالی فراڈ کی شکایات کے ازالے ، تحقیقات اور قانونی کارروائی کے طریقہ کار سے متعلق سوالات بھی سامنے آگئے ہیں۔وزیراعظم شکایت سیل نے این سی سی آئی اے کو شکایات کا دوبارہ جائزہ لے کر حقائق سے آگاہ کرنے کی ہدایت کی ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments